قتل اور اقدام قتل میں سزا یافتہ شخص میک گل یونیورسٹی کے قانون کے شعبے میں زیر تعلیم، طلبہ میں تحفظ اور دوسری زندگی کا حق بحث کا موضوع بن گیا
کینیڈا کے شہر مونٹریال میں واقع میک گل یونیورسٹی کے شعبۂ قانون میں ایک ایسے شخص کی موجودگی پر تنازع پیدا ہوگیا ہے جو قتل اور اقدام قتل کے مقدمات میں سزا یافتہ ہے جیفری جارج ایورٹ نامی یہ شخص عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے، تاہم دن کے وقت پیرول پر رہائی ملنے کے بعد اگست 2026 سے یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہا تھا اس معاملے نے طلبہ میں کیمپس کی حفاظت، خواتین کے تحفظ اور سزا یافتہ افراد کو اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے کا موقع دینے کے بارے میں اختلاف پیدا کردیا ہے
ایورٹ کو 1984 میں برٹش کولمبیا میں پیش آنے والے 2 سنگین واقعات میں سزا سنائی گئی تھی پہلے واقعے میں اس نے ایک خاتون کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا تھا اس کے 6 ہفتوں سے بھی کم عرصے بعد اس نے ایک 15 سالہ لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس میں اسے بری طرح مارنے اور گلا دبانے کے باعث لڑکی عمر بھر کے لیے معذور ہوگئی ان جرائم کے نتیجے میں ایورٹ کو قتل کے دوسرے درجے اور اقدام قتل کے جرم میں سزا ہوئی
ایورٹ 2025 میں دن کے وقت پیرول پر باہر آنے کے بعد میک گل یونیورسٹی میں کلاسوں اور شعبے کی سرگرمیوں میں شریک ہونے لگا جون 2026 میں اس کی دن کے وقت پیرول کی مدت مزید 6 ماہ کے لیے بڑھا دی گئی تاہم، پیرول سے متعلق دستاویزات میں اس کے دوبارہ جرم کرنے کے خطرے کے بارے میں تشویش ظاہر کی گئی تھی مختلف طبی اور نفسیاتی جائزوں میں یہ خطرہ درمیانے سے بلند درجے تک بتایا گیا، جبکہ نگرانی اور علاج کے ساتھ اسے درمیانے درجے کے قریب قرار دینے کی گنجائش بھی ظاہر کی گئی
یونیورسٹی کی بعض طالبات نے اس کی موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں اس کے ماضی کے جرائم کے بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا ان کے مطابق یونیورسٹی میں طلبہ کو گروپ منصوبوں پر اکٹھے کام کرنا پڑتا ہے اور تدریسی معاونین کو بھی طلبہ کے ساتھ انفرادی ملاقاتیں کرنا پڑتی ہیں ایسے ماحول میں طالبات کو خدشہ ہے کہ اگر کسی شخص کے ماضی کے سنگین جرائم کا علم نہ ہو تو وہ اپنی حفاظت کے بارے میں باخبر فیصلہ کیسے کرسکتی ہیں
ایورٹ کے معاملے میں پیرول کی شرائط بھی اہم ہیں دستاویزات کے مطابق اسے شراب نوشی کی جگہوں پر جانے سے منع کیا گیا تھا اور خواتین کے ساتھ جنسی یا غیر جنسی تعلقات کے بارے میں متعلقہ نگرانی کرنے والی ٹیم کو فوری اطلاع دینا ضروری تھا اس کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کی شرط بھی شامل کی گئی، کیونکہ اس نے سوشل میڈیا پر خواتین کے پروفائل دیکھنے، ان سے گفتگو شروع کرنے اور ایک تعارفی ویب سائٹ استعمال کرنے کی سرگرمیاں اپنی نگرانی کرنے والی ٹیم کو بتائے بغیر کی تھیں ان تفصیلات نے بعض طلبہ کے خدشات میں مزید اضافہ کیا
دوسری جانب، کچھ طلبہ نے ایورٹ کو تعلیم حاصل کرنے اور اپنی زندگی بہتر بنانے کا موقع دینے کی حمایت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ کسی شخص کے ماضی کے جرائم انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں، لیکن کئی دہائیوں کی سزا کے بعد اس کی اصلاح اور معاشرے میں دوبارہ مثبت کردار ادا کرنے کے امکان کو بھی مکمل طور پر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ان طلبہ میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے ایورٹ کے ساتھ وقت گزارا اور بتایا کہ انہیں اس کے ساتھ رہتے ہوئے خطرہ محسوس نہیں ہوا
ایورٹ کی وکیل نورا دمناتی کے مطابق میک گل یونیورسٹی کو درخواست کے وقت اس کے ماضی اور پیرول کی حیثیت کا علم تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایورٹ نے اپنی تاریخ یا قانونی حیثیت کو چھپایا نہیں تھا اور اب وہ اپنی زندگی کے ایک مختلف مرحلے میں ہے وکیل نے یہ بھی کہا کہ وہ اور ان کے موکل اس بات سے لاعلم ہیں کہ یونیورسٹی میں اس کے خلاف کون سے مخصوص خدشات سامنے آئے ایورٹ نے خود اس معاملے پر انٹرویو دینے سے انکار کیا ہے
میک گل یونیورسٹی نے کہا ہے کہ اگر کسی طالب علم کے ماضی یا کیمپس میں اس کے رویے سے متعلق تشویش ناک معلومات سامنے آئیں تو وہ فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے گی کینیڈا کی اصلاحی خدمات کے محکمے نے بھی وضاحت کی ہے کہ پیرول پر رہا افراد کی نگرانی میں ان کی سرگرمیوں، تعلیمی مواقع اور ذاتی و پیشہ ورانہ ماحول کا جائزہ شامل ہوتا ہے اگر کسی شخص کے رویے یا خطرے کی سطح میں تبدیلی آئے یا وہ رہائی کی شرائط کی خلاف ورزی کرے تو اس کی پیرول معطل کرکے اسے دوبارہ حراست میں بھیجا جاسکتا ہے
اس تنازع نے کینیڈا میں ایک مشکل سوال کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے کہ سزا یافتہ افراد کی اصلاح اور انہیں معاشرے میں واپس آنے کا موقع دینے کے ساتھ دوسرے شہریوں کی حفاظت کیسے یقینی بنائی جائے ایک طرف یہ اصول ہے کہ سزا مکمل کرنے یا قانونی طور پر پیرول حاصل کرنے والے افراد کو اپنی زندگی بہتر بنانے کا موقع ملنا چاہیے، جبکہ دوسری طرف سنگین تشدد کا سامنا کرنے والے افراد اور ممکنہ متاثرین کے تحفظ کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے میک گل یونیورسٹی کا معاملہ اس بحث کو مزید پیچیدہ بناتا ہے کہ تعلیمی اداروں کو طلبہ کی حفاظت، رازداری کے تقاضوں اور سزا یافتہ افراد کی قانونی حیثیت کے درمیان توازن کس طرح قائم کرنا چاہیے





