Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

دو جماعتوں کی مخالفت کے بعد ٹرمپ کا فیصلہ تبدیل، فورٹ ہڈ حملہ آور کی پھانسی براہِ راست نشر نہیں ہوگی

دو جماعتوں کی مخالفت کے بعد ٹرمپ کا فیصلہ تبدیل، فورٹ ہڈ حملہ آور کی پھانسی براہِ راست نشر نہیں ہوگی

واشنگٹن:صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج فورٹ ہڈ حملے کے مجرم نڈال ملک حسن کی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پھانسی براہِ راست نشر نہیں کرے گی،یہ فیصلہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کی جانب سے شدید مخالفت اور نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے کہ وہ پھانسی کی براہِ راست نشریات نہیں دیکھیں گے
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ حسن کی پھانسی عوام کے لیے قابلِ مشاہدہ و عبرت ہوگی،بعد ازاں پینٹاگون نے تصدیق کی کہ اسے براہِ راست نشر کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے،اس اعلان پر دونوں بڑی جماعتوں کے سیاست دانوں نے اعتراضات اٹھائے،ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا کہ پھانسی کی تصاویر انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والوں کو مزید تشدد پر اکسا سکتی ہیں
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ پھانسی کو عوام کے سامنے نشر کرنا دنیا کے لیے یہ دیکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہوسکتا تھا کہ امریکا دہشت گردوں اور حسن جیسے لوگوں سے کیسے نمٹتا ہے،تاہم انہوں نے کہا کہ بہت سے نیک نیت لوگ اسے براہِ راست یا کسی دوسرے بصری ذریعے سے دیکھنا پسند نہیں کریں گے
پینٹاگون کے مطابق حسن کی پھانسی 3 دسمبر کو مقرر ہے،ٹرمپ نے کہا کہ متاثرین کے قریبی اہل خانہ، اگر چاہیں، تو ذاتی طور پر پھانسی دیکھ سکیں گے
نڈال ملک حسن امریکی فوج کا سابق نفسیاتی معالج تھا، جس نے 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا تھا،اسے فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی
اس معاملے پر تنازعہ نے امریکا میں سزائے موت کے نفاذ، سرکاری شفافیت اور سزا کو عوامی تماشے میں تبدیل کرنے کی حدود سے متعلق بحث کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے

قومی خبریں سے مزید