یورپی ممالک افغان مہاجرین کی بے دخلی کے لیے طالبان سے تعاون پر مجبور، انسانی حقوق کے دعووں اور عملی پالیسی میں تضاد نمایاں
یورپ کے متعدد ممالک افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے ہیں، لیکن اپنے ہاں تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی مخالفت اور افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی کے سیاسی دباؤ کے باعث اب اسی حکومت سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،اس صورت حال نے یورپی ممالک کی انسانی حقوق سے متعلق پالیسی اور امیگریشن کنٹرول کی ترجیحات کے درمیان واضح تضاد پیدا کر دیا ہے
نیویارک ٹائمز کی 12 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، یورپی حکام نے جون کے اواخر میں برسلز میں طالبان کے پانچ نمائندوں کے ساتھ افغان شہریوں کی ملک بدری کے معاملے پر بات چیت کی،اس ملاقات میں 20 سے زیادہ یورپی حکام شریک تھے،رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین میں طالبان نمائندوں کے ساتھ اس نوعیت کی بات چیت ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، کیونکہ یورپی حکومتیں طویل عرصے سے طالبان کی انسانی حقوق سے متعلق پالیسیوں کے باعث انہیں باضابطہ سیاسی قبولیت دینے سے گریز کرتی رہی ہیں
یورپی حکومتوں کا مؤقف ہے کہ طالبان کے ساتھ رابطوں کا مقصد صرف افغان شہریوں کی واپسی اور ملک بدری کے انتظامی معاملات طے کرنا ہے، نہ کہ طالبان حکومت کو سیاسی طور پر تسلیم کرنا،تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کو خدشہ ہے کہ ایسے اقدامات کے نتیجے میں افغان شہریوں کو ایسے ملک واپس بھیجا جا سکتا ہے جہاں انہیں سیاسی، سماجی یا ذاتی وجوہات کی بنا پر خطرات لاحق ہوں
ہیومن رائٹس واچ کی افغانستان سے متعلق محقق فرشتہ عباسی نے رپورٹ میں کہا کہ طالبان کی جانب سے منظم جبر کی مذمت کرنے کے ساتھ افغان شہریوں کو اسی حکومت کے حوالے کرنے میں تعاون کرنا یورپی مؤقف پر سوالات اٹھاتا ہے
رپورٹ کے مطابق طالبان اس صورت حال سے سفارتی اور معاشی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ان کے مطالبات میں یورپ بھر میں افغان سفارتی مشنز تک زیادہ رسائی اور ملک بدر کیے جانے والے افغان شہریوں کی دوبارہ آبادکاری کے لیے مالی معاونت شامل ہے،طالبان وسیع تر اقتصادی مدد بھی چاہتے ہیں، تاہم یورپی حکومتیں اب تک اپنی امداد کو بڑی حد تک انسانی ضروریات تک محدود رکھنے پر اصرار کرتی رہی ہیں
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یورپ میں امیگریشن مخالف سیاست کا بڑھتا ہوا اثر ہے،متعدد حکومتوں پر دباؤ ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت روکنے اور پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے سخت اقدامات دکھائیں،افغان شہریوں کی واپسی کے لیے طالبان سے تعاون اسی سیاسی دباؤ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے
افغانستان کئی برسوں سے یورپ پہنچنے والے غیر مجاز تارکینِ وطن کے اہم ممالک میں شامل رہا ہے،لیکن کسی افغان شہری کو واپس بھیجنے کا فیصلہ محض امیگریشن پالیسی کا معاملہ نہیں، بلکہ اس سے پناہ کے حق، انسانی تحفظ اور واپس بھیجے جانے والے افراد کی سلامتی کے سوالات بھی جڑے ہیں
یوں یورپی حکومتوں کے سامنے مشکل انتخاب ہے،ایک طرف انہیں اپنے ملکوں میں امیگریشن کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کا جواب دینا ہے، دوسری طرف طالبان کے ساتھ تعاون کے ذریعے اس حکومت کو سفارتی اہمیت ملنے اور افغان شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھنے کا خطرہ ہے،موجودہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ یورپ میں مہاجرت کا مسئلہ اب صرف سرحدوں اور پناہ گزینوں کی تعداد تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے خارجہ پالیسی، انسانی حقوق اور طالبان کے ساتھ تعلقات کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے






