Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

دنیا میں غربت بڑھنے لگی، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں 1 ارب 20 کروڑ افراد کی محرومیوں کا انکشاف

دنیا میں غربت بڑھنے لگی، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں 1 ارب 20 کروڑ افراد کی محرومیوں کا انکشاف

اقوام متحدہ کی تازہ عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا میں شدید کثیرالجہتی غربت کا شکار افراد کی تعداد 2010 میں اس پیمانے کا آغاز ہونے کے بعد پہلی مرتبہ بڑھ گئی ہے اب دنیا کے 108 ترقی پذیر ممالک میں تقریباً 1 ارب 20 کروڑ افراد ایسی غربت کا سامنا کر رہے ہیں جس میں خوراک، تعلیم، صحت، صاف پانی، بجلی اور مناسب رہائش جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی محدود ہے گزشتہ رپورٹ کے مقابلے میں ایسے افراد کی تعداد میں 5 کروڑ 15 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے اقوام متحدہ نے اس صورت حال کو عالمی برادری کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے غربت و انسانی ترقی کے تحقیقی ادارے کی جانب سے 12 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غربت صرف آمدنی کی کمی کا نام نہیں، بلکہ اس میں زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محرومی بھی شامل ہے رپورٹ کے مطابق زیر جائزہ 108 ترقی پذیر ممالک میں رہنے والے 6 ارب 30 کروڑ افراد میں سے تقریباً 18.9 فیصد شدید کثیرالجہتی غربت کا شکار ہیں
رپورٹ کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ غربت سے متاثرہ افراد میں نصف سے زیادہ بچے ہیں ان کی تعداد تقریباً 61 کروڑ 70 لاکھ بنتی ہے اس کا مطلب ہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں بچے ایسے حالات میں پرورش پا رہے ہیں جہاں انہیں مناسب خوراک، تعلیم، صحت کی سہولتوں اور صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں بنیادی ضروریات پوری نہ ہونے سے ان کی جسمانی نشوونما، تعلیمی کارکردگی اور مستقبل میں بہتر روزگار حاصل کرنے کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں
رپورٹ کے مطابق غربت کا بوجھ دیہی علاقوں میں سب سے زیادہ ہے شدید کثیرالجہتی غربت میں زندگی گزارنے والے 83 فیصد افراد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، جہاں اسکولوں، اسپتالوں، بجلی، صاف پانی اور صفائی کے مناسب انتظامات تک رسائی اکثر محدود ہوتی ہے ان علاقوں میں غربت کا مسئلہ صرف کم آمدنی تک محدود نہیں رہتا بلکہ کئی محرومیاں ایک دوسرے کو بڑھاتی ہیں تعلیم سے محروم بچے مستقبل میں بہتر روزگار حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں، جبکہ صحت کی سہولتیں نہ ہونے سے خاندانوں پر مالی بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے
رپورٹ کے مطابق دنیا کے غریب ترین افراد کی بڑی تعداد افریقی خطے کے صحارا کے جنوب میں واقع ممالک اور جنوبی ایشیا میں رہتی ہے جنوبی ایشیا دنیا کے گنجان آباد خطوں میں شامل ہے، اس لیے یہاں آبادی میں اضافے کے ساتھ تعلیم، صحت، روزگار اور رہائش کی ضروریات پوری کرنا حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے
تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ غربت میں اضافے کی پوری وجہ لوگوں کے حالات مزید خراب ہونا نہیں ہے آبادی میں اضافے نے بھی غربت سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے اس سال رپورٹ میں شامل 108 ممالک میں سے صرف 13 ممالک کے لیے نئے سروے کے اعداد و شمار دستیاب تھے باقی ممالک میں آبادی کے تازہ اندازوں نے بھی غربت سے متاثرہ افراد کی گنتی میں اضافہ کیا اس لیے عالمی سطح پر مجموعی تعداد بڑھنے کو ہر ملک میں غربت کی شرح بڑھنے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے
اس کے باوجود کچھ ممالک نے غربت کم کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے رپورٹ کے مطابق گزشتہ 15 برس کے دوران 33 ممالک اپنی آبادی میں کثیرالجہتی غربت کی شرح کو نصف کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ان میں صحارا کے جنوب میں واقع افریقی خطے کے 6 ممالک بھی شامل ہیں۔ ایشیا میں چین اور ویتنام نے بھی غربت کم کرنے کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے
چین نے صرف 4 برس میں اپنے کثیرالجہتی غربت کے اشاریے کو نصف کر دیا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق وہاں اس پیمانے کے تحت غربت سے متاثرہ آبادی کا تناسب 2010 میں 9.5 فیصد تھا، جو 2014 میں کم ہو کر 4.2 فیصد رہ گیا۔ ویتنام نے بھی 7 برس کے دوران اپنے غربت کے اشاریے کو نصف کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
مصر، نیپال اور تاجکستان میں بھی غربت کی شرح اور غربت کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی دوسری جانب انگولا اور زیمبیا میں غربت کی شرح کم ہونے کے باوجود آبادی میں اضافے کے باعث غربت سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد بڑھ گئی یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ غربت کی شرح اور غریب افراد کی تعداد دو الگ پیمانے ہیں اور کسی ملک کی صورت حال سمجھنے کے لیے دونوں کو دیکھنا ضروری ہے
کثیرالجہتی غربت کے اشاریے میں 10 بنیادی پیمانوں کو شامل کیا جاتا ہے، جن کا تعلق صحت، تعلیم اور معیار زندگی سے ہے ان میں غذائیت، بچوں کی اموات، تعلیم کے سال، اسکول میں حاضری، بجلی، صاف پانی، صفائی، رہائش، کھانا پکانے کے ایندھن اور بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی شامل ہیں کسی گھرانے کو اس وقت شدید کثیرالجہتی غربت کا شکار شمار کیا جاتا ہے جب وہ ان پیمانوں میں سے کم از کم ایک تہائی کے حوالے سے محرومی کا سامنا کر رہا ہو
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے منتظم الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا کہ غربت میں اضافے کو دنیا کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ سمجھنا چاہیے ان کے مطابق 1 ارب 20 کروڑ افراد کو ایک ہی وقت میں بھوک، تعلیم سے محرومی، صاف پانی کی کمی اور بجلی جیسی بنیادی سہولتوں کے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال ناقابل قبول ہے، تاہم مختلف ممالک کے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ مربوط پالیسیوں اور مسلسل کوششوں کے ذریعے غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے
رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب کئی ترقی پذیر ممالک کو مہنگائی، توانائی کی بلند قیمتوں، قرضوں کی ادائیگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اضافی مشکلات کا سامنا ہے خوراک اور ایندھن مہنگا ہونے سے کم آمدنی والے گھرانے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے بجٹ کا بڑا حصہ روزمرہ ضروریات پر خرچ ہوتا ہے اسی طرح خشک سالی، سیلاب اور فصلوں کی تباہی غریب خاندانوں کی آمدنی اور خوراک کی دستیابی کو مزید متاثر کر سکتی ہے
ماہرین کے مطابق غربت میں پائیدار کمی کے لیے صرف مالی امداد کافی نہیں حکومتوں کو بچوں کی تعلیم، بنیادی صحت، صاف پانی، صفائی، بجلی، مناسب رہائش اور روزگار کے مواقع میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی اس کے ساتھ ایسی معاشی پالیسیاں بھی ضروری ہیں جن کے ذریعے کم آمدنی والے گھرانوں کو مہنگائی اور معاشی بحرانوں کے اثرات سے تحفظ مل سکے
رپورٹ کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ عالمی سطح پر غربت کا مسئلہ اب بھی انتہائی سنگین ہے، لیکن اسے کم کرنا ناممکن نہیں چین، ویتنام اور دیگر ممالک کی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ مسلسل اقدامات سے نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے تاہم غربت میں حالیہ اضافے اور بچوں کی بڑی تعداد کے متاثر ہونے سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا کو 2030 تک غربت میں کمی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے

قومی خبریں سے مزید