بھارت میں ووٹر فہرستوں پر احتجاج شدت اختیار کر گیا، راہول گاندھی سمیت اپوزیشن رہنما گرفتار، ’کاکروچ‘ جن زی تحریک بھی میدان میں آگئی
نئی دہلی: بھارت میں ووٹر فہرستوں کی بڑے پیمانے پر نظرثانی کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے،پولیس نے اپوزیشن رہنما راہول گاندھی، ان کی بہن پریانکا گاندھی وادرا اور متعدد دیگر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو نئی دہلی میں احتجاج کے دوران حراست میں لے لیا،یہ راہول گاندھی کی دو دن میں دوسری حراست تھی، جبکہ بدھ کے احتجاج کے دوران پولیس نے انہیں اور دیگر رہنماؤں کو دوبارہ حراست میں لیا
احتجاج کرنے والی اپوزیشن جماعتیں اور نوجوانوں کی ’’کاکروچ‘‘ تحریک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں،تنازعہ بھارت میں جاری خصوصی انتخابی نظرثانی کے عمل پر ہے، جس کے دوران الیکشن فہرستوں سے 13 کروڑ سے زیادہ نام نکالے جا چکے ہیں،لاکھوں افراد نے ان ناموں کے اخراج کے خلاف اپیلیں بھی دائر کی ہیں
اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں ہونے والی تبدیلیاں حقیقی ووٹروں کو انتخابی عمل سے باہر کر سکتی ہیں اور اس کا سیاسی فائدہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو پہنچ سکتا ہے،الیکشن کمیشن اور حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ نظرثانی کا مقصد جعلی، دہری، فوت شدہ یا غیر اہل افراد کے نام ختم کرنا ہے
بدھ کو راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن ارکان نے نئی دہلی کے جنتر منتر کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی، جو دارالحکومت میں احتجاج کے لیے مخصوص مقام ہے،مظاہرین کے ہاتھوں میں ’’ووٹ چوری نہیں، جمہوریت چوری نہیں‘‘ جیسے نعرے درج تھے،پولیس نے راستہ روکنے کے بعد راہول گاندھی، پریانکا گاندھی اور دیگر مظاہرین کو گاڑیوں میں منتقل کر دیا
یہ احتجاج اب صرف روایتی اپوزیشن جماعتوں تک محدود نہیں رہا،طلبہ تنظیمیں اور جن زی کی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ بھی تحریک میں شامل ہو گئی ہے،اس گروپ نے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کو اپنے احتجاج کا مرکزی مسئلہ بنا لیا ہے اور الیکشن کمیشن کے سربراہ کے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے
الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کی اطلاعات نے بھی تنازعہ کو مزید بڑھا دیا ہے،بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے بعض فیصلوں پر کمیشن کے اندر اختلافات سامنے آئے، جس کے بعد اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر سوال اٹھائے،کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کے فیصلے قانونی اور متفقہ ہیں
احتجاج کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نئی دہلی کے ساتھ ممبئی، بنگلورو اور دیگر شہروں میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں،جمعرات کو بنگلورو میں ’’کاکروچ‘‘ تحریک اور طلبہ تنظیموں کے ہزاروں کارکن سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ نئی دہلی میں کانگریس نے مزید احتجاج کا اعلان کیا ہے
یہ صورتحال وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری مدت حکومت کے دوران ایک نیا سیاسی چیلنج بن رہی ہے،اس سال پہلے ہی نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج امتحانات میں پرچے لیک ہونے کے معاملے پر حکومت کو دباؤ میں لا چکے ہیں اور اس احتجاج کے نتیجے میں وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا،اب ووٹر فہرستوں کا معاملہ براہ راست انتخابی عمل اور شہریوں کے حق رائے دہی سے جڑ گیا ہے
اس تنازعہ کا سب سے حساس پہلو یہی ہے کہ اگر بڑی تعداد میں اہل ووٹر انتخابی فہرستوں سے خارج ہو جاتے ہیں تو محض نام بحال کرانے کا قانونی طریقہ موجود ہونا کافی ہوگا یا نہیں،اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ایسے اخراج سے لاکھوں شہری عملی طور پر ووٹ کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ نظرثانی انتخابی فہرستوں کو زیادہ درست اور قابل اعتماد بنانے کی کوشش ہے
یوں بھارت میں ووٹر فہرستوں کا تنازعہ اب ایک انتظامی معاملے سے بڑھ کر الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری، شہریوں کے حق رائے دہی اور جمہوری عمل پر اعتماد کا بڑا سیاسی سوال بن چکا ہے،راہول گاندھی کی حراست اور جن زی کی ’’کاکروچ‘‘ تحریک کی سڑکوں پر بڑھتی موجودگی نے اس تنازعہ کو مزید نمایاں کر دیا ہے






