Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ سے ریپبلکن ووٹر بھی بددل؟ ڈیموکریٹس کی ممکنہ لہر ووٹروں کے بدلنے سے نہیں، گھر بیٹھنے سے اٹھنے لگی

ٹرمپ سے ریپبلکن ووٹر بھی بددل؟ ڈیموکریٹس کی ممکنہ لہر ووٹروں کے بدلنے سے نہیں، گھر بیٹھنے سے اٹھنے لگی

واشنگٹن: امریکی وسط مدتی انتخابات میں صرف چار ہفتے باقی رہ گئے ہیں اور ریپبلکن پارٹی کو ایک ایسے سیاسی خطرے کا سامنا ہے جو روایتی انتخابی مقابلے سے مختلف ہے،نیویارک ٹائمز کی تازہ رپورٹ کے مطابق خطرہ یہ نہیں کہ بڑی تعداد میں ریپبلکن ووٹر ڈیموکریٹس کے حامی بن رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بددل ہونے والے ریپبلکن ووٹر شاید نومبر میں ووٹ ڈالنے ہی نہ نکلیں
سیاسی تجزیہ کاروں نے اس ممکنہ صورتحال کو ’’ریڈ انڈر ٹو‘‘ کا نام دیا ہے،اس تصور کے مطابق اگر ریپبلکن ووٹرز میں جوش و خروش کم رہا اور بڑی تعداد میں وہ گھروں میں رہے تو ڈیموکریٹس کو ایسے ووٹرز کو اپنی طرف لائے بغیر بھی کئی مقابلوں میں فائدہ پہنچ سکتا ہے،چارلی کک بھی موجودہ ماحول کو روایتی ’’بلیو ویو‘‘ کے بجائے ’’ریڈ انڈر ٹو‘‘ قرار دے چکے ہیں، یعنی ایسی انتخابی لہر جو ڈیموکریٹس کی مقبولیت سے زیادہ ریپبلکن ووٹروں کی کم شرکت سے پیدا ہو
نیویارک ٹائمز نے اس رجحان کو خاص طور پر مشی گن کے دیہی علاقوں میں دیکھا، جہاں کئی دہائیوں سے ریپبلکن پارٹی مضبوط رہی ہے،رپورٹ کے مطابق وہاں سیاسی امیدواروں کے مقابلے میں مقامی سطح پر بلیوبیری اور انڈوں کے اشتہارات زیادہ نمایاں دکھائی دے رہے ہیں، انتخابی رضاکار گھر گھر مہم کے لیے پہلے کی طرح متحرک نہیں اور متعدد ووٹرز کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات کو نظر انداز کر رہے ہیں
یہ خاموشی ریپبلکن امیدواروں کے لیے اس لیے زیادہ اہم ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت کو عام طور پر اپنے ہی ووٹروں کو بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشن تک پہنچانے کا چیلنج درپیش ہوتا ہے،اگر پارٹی کے روایتی ووٹرز میں جوش کم ہو جائے تو معمولی انتخابی فرق بھی کئی نشستوں کے نتائج پر اثر ڈال سکتا ہے
صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ٹرمپ کی سیاست اب بعض ریپبلکن امیدواروں کے لیے فائدے کے بجائے سیاسی بوجھ بنتی دکھائی دے رہی ہے،حالیہ ہفتوں میں کئی ریپبلکن امیدواروں نے ایران کی جنگ، ایندھن کی قیمتوں اور اقتصادی مسائل پر ٹرمپ سے فاصلہ ظاہر کیا ہے،مشی گن کے سینیٹ امیدوار مائیک راجرز نے ایران میں جنگ ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ آئیووا اور وسکونسن کے بعض ریپبلکن امیدوار بھی جنگ سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے اختلاف ظاہر کر چکے ہیں
مشی گن اس صورتحال کی خاص مثال بن گیا ہے،یہاں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ووٹر معیشت اور مہنگائی سے پریشان ہیں بلکہ بعض ووٹرز یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ صدر کی ترجیحات ان کی ترجیحات سے مطابقت نہیں رکھتیں،ایندھن کی قیمتیں، جنگ کے معاشی اثرات اور روزمرہ اخراجات انتخابی گفتگو میں نمایاں ہو چکے ہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ممکنہ ’’ریڈ انڈر ٹو‘‘ کو ڈیموکریٹس کی مقبولیت کی واضح بحالی سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا،چارلی کک کے مطابق موجودہ ماحول بنیادی طور پر ٹرمپ مخالف ہے، لازماً ڈیموکریٹ نواز نہیں،ان کے تجزیے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اپنی مقبولیت کے بارے میں بھی بڑے سوالات برقرار ہیں
یہی فرق 2026 کے انتخابات کو غیر معمولی بنا رہا ہے،اگر ڈیموکریٹس بڑے پیمانے پر کامیاب ہوتے ہیں تو اس کا مطلب لازماً یہ نہیں ہوگا کہ لاکھوں ریپبلکن ووٹرز نے اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کرلی،ممکنہ طور پر ایک بڑا عنصر یہ ہوگا کہ ٹرمپ سے ناراض یا مایوس ریپبلکن ووٹرز نے ووٹ ڈالنے سے گریز کیا
ریپبلکن پارٹی کے لیے خطرہ اس لیے بھی بڑھ گیا ہے کہ یہ رجحان صرف روایتی سوئنگ ریاستوں تک محدود نہیں دکھائی دے رہا،حالیہ انتخابی تجزیوں میں الاسکا، کنساس اور ٹیکساس جیسی ریاستوں سمیت ایسے علاقوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جہاں ڈیموکریٹس ان مقابلوں میں وسائل لگا رہے ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک ریپبلکنز کے لیے نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے تھے
اس کے باوجود اسے ڈیموکریٹس کی یقینی انتخابی کامیابی قرار دینا قبل از وقت ہوگا،مشی گن سمیت بعض اہم ریاستوں میں ڈیموکریٹک امیدواروں کو اپنے مسائل بھی درپیش ہیں اور انتخابی مہم ابھی جاری ہے،موجودہ اعداد و شمار زیادہ واضح طور پر یہ بتا رہے ہیں کہ ریپبلکن ووٹرز کے جوش میں ممکنہ کمی ایک اہم انتخابی تبدیلی بن چکی ہے، نہ کہ یہ کہ تمام ناراض ریپبلکن ووٹر لازماً ڈیموکریٹس کو ووٹ دیں گے
امریکی سیاست میں اس کا اثر نومبر کے بعد بھی گہرا ہو سکتا ہے،اگر کسی صدر کی جماعت اپنے ہی روایتی ووٹرز کو متحرک رکھنے میں ناکام رہے تو اس کے اثرات صرف چند نشستوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ کانگریس میں طاقت کے توازن، ٹرمپ انتظامیہ کی قانون سازی کی صلاحیت اور 2028 کی صدارتی سیاست تک پہنچ سکتے ہیں
یوں 2026 کا سب سے بڑا انتخابی سوال شاید یہ نہیں کہ کتنے ریپبلکن ووٹر ڈیموکریٹس بنیں گے؟ بلکہ یہ ہو سکتا ہے کہ کتنے ریپبلکن ووٹر ٹرمپ سے بددل ہو کر پولنگ اسٹیشن تک پہنچنے سے ہی انکار کر دیں گے؟ یہی ’’ریڈ انڈر ٹو‘‘ کا تصور ہے اور یہی اس وقت ریپبلکن پارٹی کے لیے سب سے اہم انتخابی خدشات میں سے ایک بن چکا ہے

قومی خبریں سے مزید