Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسپین میں سانچیز کا ایک اور سیاسی جوا، قبل از وقت انتخابات کا اعلان، اقتدار دائیں بازو کے ہاتھ جانے کا خطرہ

اسپین میں سانچیز کا ایک اور سیاسی جوا، قبل از وقت انتخابات کا اعلان، اقتدار دائیں بازو کے ہاتھ جانے کا خطرہ

اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ایک بار پھر بڑا سیاسی جوا کھیلتے ہوئے ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کر دیا ہے، حالانکہ موجودہ جائزوں کے مطابق یہ فیصلہ ان کی اپنی سوشلسٹ پارٹی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور دائیں بازو کی جماعتوں کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے
سانچیز نے انتخابات اگلے سال کے بجائے 29 نومبر کو کرانے کا اعلان کیا ہے،54 سالہ سوشلسٹ رہنما گزشتہ تقریباً 8 برس سے اسپین کے وزیر اعظم ہیں، لیکن اس پورے عرصے میں وہ پارلیمنٹ میں اپنی جماعت کی واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے،اس کے باوجود وہ مختلف سیاسی اتحادوں اور پارلیمانی حمایت کے ذریعے اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں
رائٹرز کے مطابق سانچیز کی سیاست میں خطرہ مول لینے کا رجحان کوئی نئی بات نہیں،انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسرائیل پر نسل کشی کا الزام بھی عائد کیا ہے، جسے اسرائیل مسترد کرتا ہے،اسی طرح انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسپین سے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافے اور ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے اسپین میں موجود امریکی اڈوں کے استعمال سے متعلق مطالبات کی مخالفت کی ہے
تاہم اس مرتبہ سانچیز کے انتخابی فیصلے کے مرکز میں خارجہ پالیسی کے بجائے اسپین کا بڑھتا ہوا رہائشی بحران نظر آ رہا ہے،ملک کے بڑے شہروں میں کرایوں اور مکانات کی قیمتوں میں اضافے نے عام شہریوں کے لیے رہائش کو ایک بڑا سیاسی مسئلہ بنا دیا ہے،ایک حالیہ سروے کے مطابق 68 فیصد اسپینی شہری کرایوں کی حد مقرر کرنے کی حمایت کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہاؤسنگ بحران انتخابات میں فیصلہ کن موضوع بن سکتا ہے
سانچیز کی حکمت عملی بظاہر اس مفروضے پر مبنی ہے کہ مہنگی رہائش اور کرایوں پر عوامی غصہ صرف حکومت کے خلاف نہیں بلکہ اپوزیشن کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے،حکومت یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ رہائش کے بحران سے نمٹنے کے لیے ریاستی مداخلت اور کرایوں کو قابو میں رکھنے کے اقدامات ضروری ہیں، جبکہ دائیں بازو کی جماعتیں ہاؤسنگ پالیسی کے ساتھ ساتھ امیگریشن، ٹیکس اور معیشت سمیت دیگر معاملات کو انتخابی مہم کا مرکزی حصہ بنا سکتی ہیں
سانچیز کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ انہیں نہ صرف اپنی سوشلسٹ پارٹی کے ووٹ برقرار رکھنے ہوں گے بلکہ پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار اتحادی حمایت بھی حاصل کرنا ہوگی،گزشتہ انتخابات کے بعد بھی وہ واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے تھے اور ان کی حکومت کو مختلف علاقائی اور چھوٹی جماعتوں کی حمایت پر انحصار کرنا پڑا
اسپین کی سیاست میں دائیں بازو کی جماعتوں کا بڑھتا ہوا اثر بھی انتخابات کو غیر معمولی اہمیت دے رہا ہے،اگر سوشلسٹ پارٹی کمزور ہوتی ہے اور دائیں بازو کی جماعتیں اپنی نشستوں میں اضافہ کرتی ہیں تو حکومت سازی کے لیے ایک نیا سیاسی نقشہ سامنے آ سکتا ہے، جس میں دائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان اتحاد یا تعاون بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے
سانچیز کا سیاسی ریکارڈ تاہم یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ان کے بارے میں پیش گوئی کرنا آسان نہیں،وہ کئی مرتبہ ایسے سیاسی حالات سے نکلنے میں کامیاب رہے ہیں جہاں ان کی حکومت کے مستقبل پر سوال اٹھ رہے تھے،یہی وجہ ہے کہ موجودہ انتخابی جائزوں کے باوجود ان کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ وہ آخری لمحے تک سیاسی ماحول کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں
29 نومبر کا انتخاب اس لیے محض حکومت کی تبدیلی کا معاملہ نہیں ہوگا بلکہ اسپین کی آئندہ معاشی، رہائشی، دفاعی اور خارجہ پالیسی کی سمت کا بھی تعین کرے گا،سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ آیا سانچیز ایک مرتبہ پھر اپنے سیاسی مخالفین اور انتخابات کے بارے میں موجود منفی اندازوں کو شکست دے کر اقتدار برقرار رکھنے کا راستہ نکال سکتے ہیں، یا اس بار ان کا سیاسی جوا ان کے 8 سالہ اقتدار کے خاتمے کا سبب بن جائے گا

قومی خبریں سے مزید