Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے پر سنجیدہ غور

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے پر سنجیدہ غور

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی، جس میں صوبے کی بگڑتی ہوئی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ گورنر راج کے معاملے پر غور کیا گیا یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں اور خیبر پختونخوا سے تحریک انصاف کا احتجاجی مارچ اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا ہے
گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں اس خدشے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ تحریک انصاف کے اسلام آباد مارچ کے دوران بعض افراد سکیورٹی چیک پوسٹوں سے دہشت گردوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں تاہم یہ حکومت کی جانب سے ظاہر کیا گیا خدشہ ہے اور اس الزام کے بارے میں کسی آزاد تصدیق کی اطلاع نہیں دی گئی
ملاقات میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر صدر اور وزیر اعظم صوبے کو دہشت گردی اور تباہی سے بچانے کے لیے گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنا ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس آئینی کردار ادا کرے گا اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے امکان کو محض سیاسی قیاس آرائی کے بجائے حکومتی سطح پر بھی زیر غور لایا جا رہا ہے
محسن نقوی اور فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں بڑھتی ہوئی بے چینی، سیاسی صورتحال اور اسلام آباد مارچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا کے پولیس سربراہ ذوالفقار حمید بھی موجود تھے گورنر کنڈی نے کہا کہ صوبے کے عوام کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور خیبر پختونخوا دہشت گردی کے باعث پہلے ہی بہت قربانیاں دے چکا ہے
وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان حالیہ مذاکرات میں بھی خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا معاملہ اہم اختلاف بن کر سامنے آیا تھا حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت کو انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں وفاق کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت مرکز کے ساتھ تعاون کے طریقہ کار اور صوبائی اختیار کے حوالے سے مختلف مؤقف رکھتی ہے
گورنر ہاؤس کے بیان کے مطابق ملاقات میں خیبر پختونخوا حکومت کے مذاکرات کے دوران اختیار کیے گئے رویے پر بھی تنقید کی گئی اور اسے صوبے کے عوام کے مفادات کے خلاف قرار دیا گیا دوسری جانب تحریک انصاف وفاقی حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتی رہی ہے اور مذاکرات میں عمران خان سے ملاقات اور انسداد دہشت گردی کی پالیسی سمیت متعدد معاملات کو اہم قرار دیتی ہے
وفاقی حکومت کے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور صوبے میں ایمرجنسی کا امکان قریب ہے تاہم اس وقت تک گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی حتمی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا
اگر وفاقی حکومت واقعی گورنر راج نافذ کرنے کی طرف بڑھتی ہے تو یہ پاکستان کے سیاسی بحران میں ایک اہم پیش رفت ہوگی اور وفاق و خیبر پختونخوا کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے موجودہ صورتحال میں حکومت کے لیے امن و امان، دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور صوبائی آئینی اختیارات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا سیاسی اور آئینی چیلنج بن گیا ہے

قومی خبریں سے مزید