Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکا میں چینی جاسوسی کا سنگین الزام، ایف بی آئی نے تائیوانی صدر کے بیٹے کی مبینہ نگرانی کرنے والی خاتون کو گرفتار کر لیا

امریکا میں چینی جاسوسی کا سنگین الزام، ایف بی آئی نے تائیوانی صدر کے بیٹے کی مبینہ نگرانی کرنے والی خاتون کو گرفتار کر لیا

امریکی وفاقی حکام نے کیلیفورنیا کی ایک 34 سالہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کو مبینہ طور پر چینی حکومت کے لیے جاسوسی اور تائیوان کے صدر لائی چنگ تے کے بیٹے کی امریکا میں نگرانی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے،وان یِنگ ژانگ، جو ہیدر ژانگ کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں، کو لاس اینجلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ شنگھائی جانے والی پرواز میں سوار ہونے والی تھیں،ان پر امریکا میں غیر ملکی حکومت کے غیر رجسٹرڈ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے
امریکی محکمہ انصاف اور ایف بی آئی کے مطابق ژانگ نے ستمبر 2025 میں ایک ساتھی کے ساتھ لاس ویگاس سے سیئٹل کا سفر کیا اور وہاں تائیوانی صدر کے بیٹے لائی ٹنگ یو اور ان کے خاندان کی مبینہ نگرانی کی؟تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے گھر، گاڑیوں اور خاندان کے افراد کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں جبکہ گاڑیوں کے لائسنس پلیٹ نمبرز بھی جمع کیے گئے اور یہ معلومات چین سے وابستہ رابطوں تک پہنچائی گئیں
تفتیشی دستاویزات کے مطابق ژانگ نے مبینہ طور پر یہ کارروائی چینی حکام کی ہدایت پر کی،ایف بی آئی کا الزام ہے کہ انہوں نے نگرانی کے دوران اپنی شناخت اور سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے مخصوص طریقے استعمال کیے اور چین میں موجود ایک رابطے سے رابطہ رکھا،امریکی حکام کے مطابق ژانگ نے وفاقی حکومت کو یہ اطلاع نہیں دی کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت کی جانب سے کام کر رہی ہیں، جو امریکی قانون کے تحت جرم ہے
لائی ٹنگ یو تائیوان کے صدر کے بڑے بیٹے ہیں اور سیئٹل کے علاقے میں انجینئر کے طور پر کام کرتے ہیں،امریکی میڈیا کے مطابق وہ اپنی اہلیہ اور بچے کے ساتھ واشنگٹن ریاست میں مقیم ہیں،ایف بی آئی کے ایک خصوصی ایجنٹ نے عدالتی دستاویزات میں مؤقف اختیار کیا کہ کسی اعلیٰ سطح کے تائیوانی عہدیدار کے قریبی خاندان کے افراد، ان کے گھروں اور گاڑیوں کے بارے میں معلومات کسی ممکنہ تنازعہ یا بحران کے دوران چین کے لیے دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں
تحقیقات میں ایک مبینہ چینی رابطے کے ساتھ ژانگ کی پیغامات کے ذریعے بات چیت کا بھی ذکر ہے،امریکی حکام کے مطابق یہ رابطے ان کے آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ سے حاصل کیے گئے مواد کی بنیاد پر سامنے آئے،ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ژانگ اور ایک نامعلوم ساتھی نے سیئٹل میں ہدف کے گھر کے قریب گاڑی کھڑی کی اور خاندان کی نقل و حرکت اور گھر کے بارے میں معلومات جمع کیں
ژانگ کی گرفتاری ایسے وقت ہوئی جب وہ امریکا سے چین روانہ ہونے والی تھیں،ایف بی آئی نے انہیں 4 اکتوبر کو لاس اینجلس ایئرپورٹ پر حراست میں لیا،اگلے روز وہ لاس اینجلس کی وفاقی عدالت میں ابتدائی پیشی پر حاضر ہوئیں، جہاں انہوں نے اپنے نام اور اپنے خلاف عائد الزام کو سمجھنے کی تصدیق کی،انہوں نے اس مرحلے پر کوئی اقرار جرم نہیں کیا اور عدالت میں ان کی جانب سے وکیل کی موجودگی کی اطلاع فوری طور پر سامنے نہیں آئی
تائیوان کے صدارتی دفتر نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کے خاندان کی امریکا میں مبینہ نگرانی ایک ایسے طرز عمل کی مثال ہے جسے تائیوان بین الاقوامی سطح پر سرحدوں سے باہر دباؤ اور نگرانی کے طور پر دیکھتا ہے،تائیوان نے امریکی حکام کی کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے
چین کی جانب سے اس الزام کو مسترد کیا گیا ہے اور چینی حکام نے ایسے الزامات کو چین کے خلاف سیاسی مہم قرار دیا ہے،اس لیے مقدمے میں اصل سوال یہ ہوگا کہ امریکی حکومت عدالت میں ژانگ کے مبینہ چینی رابطوں، سیئٹل میں کی جانے والی نگرانی اور چین کو فراہم کی گئی معلومات کے بارے میں کیا شواہد پیش کرتی ہے
یہ کیس امریکا اور چین کے درمیان پہلے سے موجود جاسوسی اور قومی سلامتی کے تنازعات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے،امریکی حکام حالیہ برسوں میں چین سے وابستہ مبینہ خفیہ سرگرمیوں کے متعدد مقدمات سامنے لا چکے ہیں، جبکہ تائیوانی حکام کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی جانب سے بیرون ملک رہنے والے تائیوانی شخصیات اور ان کے خاندانوں پر نظر رکھنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں
اس مقدمے کی حساسیت اس حقیقت سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ تائیوان امریکا اور چین کے درمیان سب سے اہم جغرافیائی اور سیاسی تنازعات میں سے ایک ہے،بیجنگ تائیوان کو چین کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان کی موجودہ قیادت اپنے سیاسی تشخص اور خود حکمرانی پر زور دیتی ہے،واشنگٹن کے تائیوان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود امریکا تائیوان کا اہم بین الاقوامی حمایتی اور اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے
اگر امریکی حکومت کے الزامات عدالت میں ثابت ہوتے ہیں تو یہ مقدمہ اس سوال کو مزید نمایاں کر سکتا ہے کہ چین سے وابستہ مبینہ خفیہ نیٹ ورک امریکی سرزمین پر سیاسی شخصیات کے خاندانوں اور تائیوان سے منسلک افراد تک کس حد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں،تاہم اس مرحلے پر وان یِنگ ژانگ کے خلاف تمام الزامات عدالتی الزام ہیں اور امریکی قانون کے تحت انہیں جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جائے گا

قومی خبریں سے مزید