اقوام متحدہ میں شہباز شریف کا بڑا انتباہ: پاکستان کے پانی کو ہاتھ لگایا تو جنگ ہوگی، مقامات مقدسہ ریڈ لائن ہیں،غزہ و کشمیر سے ایران جنگ تک عالمی طاقتوں کو دوٹوک پیغام
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ 25 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے تقریباً 23 منٹ پر مشتمل خطاب میں پاکستان کے پانی، کشمیر، فلسطین، ایران جنگ، مشرق وسطیٰ کے بحران، دہشت گردی، افغانستان، اسلاموفوبیا، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی امن سمیت متعدد اہم معاملات پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا خطاب کا سب سے سخت پیغام بھارت کے حوالے سے تھا، جہاں وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان جنگی اقدام سمجھے گا
شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے پانی کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا،انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ پانی کا معاملہ محض دو ملکوں کے درمیان تقسیم کا مسئلہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے امن، سلامتی اور کروڑوں انسانوں کی زندگی سے جڑا معاملہ ہے،پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل نہیں کرسکتا
وزیراعظم نے کشمیر کو بھی اپنی تقریر کا اہم حصہ بنایا،انہوں نے 2025 کی پاکستان بھارت جنگ کے دوبارہ جنم لینے والے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا کو ایک اور خطرناک تصادم سے بچانے کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور دیرپا حل ضروری ہے،شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ 2025 میں ان کی بروقت مداخلت نے جنوبی ایشیا میں مزید بڑے جانی نقصان کو روکا
فلسطین کے معاملے پر وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت دہرائی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات میں بھی شہباز شریف نے فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور ریاستی حیثیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا
خطاب کا ایک غیر معمولی اور فوری نوعیت کا پہلو ایران اور مشرق وسطیٰ کی جنگ تھی،وزیراعظم نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ اسلام آباد نے فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لیے سفارتی کوششیں کی ہیں،انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا ضروری ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں میں رکاوٹ عالمی تجارت، توانائی اور معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے
سعودی عرب کے حوالے سے شہباز شریف نے مکہ مکرمہ پر مزید حملوں کو پاکستان کے لیے ریڈ لائن قرار دیا،انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی مقدس مقامات کا تحفظ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ان کے خلاف کسی بھی کارروائی کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں،یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں حوثی حملوں اور سعودی عرب کے خلاف میزائل و ڈرون کارروائیوں کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے
وزیراعظم نے دہشت گردی کے معاملے پر بھی پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں،افغانستان کے حوالے سے پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خطرے پر تشویش ظاہر کی اور زور دیا کہ افغانستان کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں بھی افغانستان اور افغان سرزمین سے بڑھتی دہشت گردی کا معاملہ زیر بحث آیا
شہباز شریف نے اسلاموفوبیا اور مذہبی نفرت میں اضافے کو بھی عالمی مسئلہ قرار دیا اور عالمی برادری سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا،انہوں نے پاکستان کے لیے موسمیاتی انصاف کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے پاکستان جیسے ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں ان کا حصہ انتہائی کم ہے
وزیراعظم نے عالمی نظام میں اقوام متحدہ کے کردار، کثیرالجہتی سفارت کاری اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کو مرکزی اہمیت دینے پر بھی زور دیا،ان کا مجموعی پیغام یہ تھا کہ موجودہ عالمی بحرانوں کا حل طاقت کے استعمال اور یکطرفہ اقدامات کے بجائے سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے تحت تلاش کیا جائے،پاکستان نے خود کو امریکہ ایران کشیدگی میں سفارتی رابطوں، علاقائی امن اور مذاکرات کے حامی ملک کے طور پر بھی پیش کیا
یوں شہباز شریف کی اس سال کی اقوام متحدہ کی تقریر میں ایک طرف بھارت کو پانی کے معاملے پر سخت ترین انتباہ دیا گیا، دوسری طرف کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ تنازعات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا، جبکہ ایران جنگ، مکہ مکرمہ کی سلامتی، افغانستان سے دہشت گردی، اسلاموفوبیا اور موسمیاتی تبدیلی جیسے معاملات کو پاکستان کی وسیع تر خارجہ پالیسی کے تناظر میں پیش کیا گیا





