Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

“ مظلوموں حافظ نعیم واپس لوٹ گیا ہے “

“ مظلوموں حافظ نعیم واپس لوٹ گیا ہے “
آفاق فاروقی
کبھی جماعت اسلامی کا ایک بڑا مشہور نعرہ تھا: ’’ظالموں قاضی آ رہا ہے”
قاضی حسین احمد کا زمانہ تھا،آواز میں ایسی گھن گرج ہوتی تھی کہ لگتا تھا اب ظالموں کی خیر نہیں،قاضی صاحب آرہے ہیں، دھرنا ہوگا، جلوس ہوگا، انقلاب آئے گا، اور شاید اگلے ہی چوک پر پاکستان کی قسمت بھی بدل جائے گی
لیکن عجیب ملک ہے پاکستان،قاضی آتے رہے، جلوس آتے رہے، دھرنے آتے رہے، نعرے آتے رہے، مگر ظالم پھر بھی اپنی جگہ ہی موجود رہے، کہ قاضی صاحب مرحوم ایک بار یہیں امریکہ نیویارک اسٹیٹن آئ لینڈ میں ڈاکٹر ثاقب کے گھر مجھ مظلوم پر ہی اپنے دوران خطاب برس پڑے تھے،اور میں ڈر گیا تھا ڈاکٹر ثاقب کے گھر کے لان میں بیٹھا قاضی صاحب کا پرستار ہجوم بے کراں مجھے ہی واقعی وہ ظالم نہ مان لے جس کے پیچھے جماعت اسلامی اور خصوصا قاضی صاحب برسوں سے لگے ہوئے تھے ، خیر
اب زمانہ بدل گیا ہے،قاضی حسین احمد نہیں رہے، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن ہیں، نعرے نئے ہیں، سیاسی حالات نئے ہیں، مگر پاکستانی سیاست کا پرانا لطیفہ وہی ہے
اس لیے اس بار نعرہ ذرا تبدیل ہونا چاہیے
’’مظلوموں حافظ نعیم الرحمن واپس جا رہا ہے”
ملتان تک ہی لانگ مارچ پہنچا تھا،مگر راستہ ٹرین کا تھا،یہ پاکستانی سیاست کی شاید سب سے خوبصورت ایجاد ہے کہ لانگ مارچ بھی ریل گاڑی سے ہوسکتا ہے،دنیا بھر میں لانگ مارچ میں لوگ پیدل چلتے ہیں، ہمارے ہاں کبھی کنٹینر پر، کبھی موٹر سائیکل پر اور اب کبھی ٹرین میں بیٹھ کر بھی انقلاب آتا ہے
بس انقلاب اسٹیشن پر اترتے اترتے ذرا کم انقلابی ہوجاتا ہے
حافظ نعیم الرحمن واپس لوٹ گئے ہیں ، کہا گیا کہ سیاسی قیادت سے بات چیت ہوئی، شہباز شریف سے رابطہ ہوا، معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی،یہ سب اپنی جگہ ایک سیاسی حکمت عملی ہوسکتی ہے،سیاست میں مذاکرات کوئی گناہ نہیں،بلکہ دنیا بھر میں احتجاج کا آخری مقصد بھی اکثر مذاکرات ہی ہوتے ہیں
مگر مسئلہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ پاکستانی سیاست میں ایک عجیب تاریخی المیہ جڑا ہوا ہے
جماعت اسلامی کے کارکن کو دیکھیں تو وہ سنجیدہ نظر آتا ہے، نظریاتی نظر آتا ہے، مذہبی نظر آتا ہے، بعض معاملات میں انتہائی اصول پسند بھی،اس جماعت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی ذاتی دیانت پر ان کے مخالف بھی انگلی اٹھانے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں،ان کے کارکن سڑک پر بھی نظم و ضبط کے ساتھ آتے ہیں اور مسجد میں بھی صف سیدھی رکھتے ہیں
لیکن جماعت اسلامی بحیثیت سیاسی قوت کے سامنے سوال یہ نہیں کہ اس کا کارکن کیسا ہے
سوال یہ ہے کہ عوام جماعت اسلامی کی سیاسی بات پر کتنا اعتماد کرتے ہیں؟
یہاں آکر سارا معاملہ دلچسپ ہوجاتا ہے
برسوں سے ناقدین اور سیاسی تجزیہ کار جماعت اسلامی پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مختلف ادوار میں کسی نہ کسی شکل میں سیاسی قربت رکھتی رہی،ایوب خان کے دور سے لے کر ضیا الحق، پرویز مشرف کے دور کی ایم ایم اے اور بعد کے ادوار تک اس تعلق پر بحث ہوتی رہی ہے،جماعت اسلامی اور اس کے رہنما ان تعلقات اور فیصلوں کی اپنی اپنی سیاسی توجیہات بھی پیش کرتے رہے ہیں
مگر سیاست میں صرف حقیقت کافی نہیں ہوتی، تاثر بھی حقیقت بن جاتا ہے
اور جماعت اسلامی کا المیہ شاید یہی ہے کہ اس کے کارکنوں کی ذاتی دیانت کا تاثر جتنا مضبوط ہے، جماعت کی سیاسی نیت پر اعتماد اتنا ہی کمزور دکھائی دیتا ہے
یہ پاکستان ہے،یہاں اگر کوئی آدمی واقعی ایماندار ہو تو لوگ پہلے اس کی جیب دیکھتے ہیں، پھر اس کا بینک اکاؤنٹ، پھر اس کا سیاسی ماضی، پھر پوچھتے ہیں: ’’بھائی، ایمانداری کے پیچھے اصل میں کون ہے؟‘‘
یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ آدمی ایماندار ہے یا نہیں
مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ایماندار آدمی پر بھی یقین نہیں کرتے
اور جماعت اسلامی اسی تضاد کی سب سے دلچسپ مثال بن گئی ہے
ایک طرف اس کے کارکن کہتے ہیں کہ ہم باقی جماعتوں سے مختلف ہیں،دوسری طرف سوشل میڈیا پر مخالفین فوراً پرانی فائلیں کھول کر بیٹھ جاتے ہیں،” اچھا، آپ وہی جماعت ہیں نا؟‘‘
جماعت اسلامی کہتی ہے ہم اصولوں کی سیاست کرتے ہیں
عوام کہتے ہیں،اچھا، مگر اصول کس طرف؟
جماعت کہتی ہے ہم ظلم کے خلاف ہیں
عوام پوچھتے ہیں،کس ظلم کے خلاف؟ اور کب تک؟
جماعت کہتی ہے ہم کسی کے ساتھ نہیں
عوام کہتے ہیں،اچھا، تو پھر جب کوئی طاقتور آپ کے ساتھ کھڑا ہو تو وہ کیا ہوتا ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ’’ظالموں قاضی آ رہا ہے‘‘ والا پرانا نعرہ آج ایک نئی معنویت اختیار کرتا ہے
قاضی صاحب کا زمانہ گزر گیا،اب حافظ نعیم الرحمن ہیں،مگر پاکستانی سیاست کا سوال اب بھی وہی ہے،کون کس کے ساتھ ہے؟
اور اس بار منظر خاصا مزاحیہ ہے
ٹرین چلتی ہے، دھرنا آتا ہے، لانگ مارچ کا اعلان ہوتا ہے، سیاسی ماحول گرم ہوتا ہے، پھر مذاکرات کی کھڑکی کھلتی ہے، فون ہوتے ہیں، ملاقاتیں ہوتی ہیں، اور آخر میں ٹرین واپس روانہ ہوجاتی ہے
قوم دیکھتی رہ جاتی ہے کہ انقلاب آیا تھا یا صرف راؤنڈ ٹرپ ٹکٹ لیا گیا تھا؟
مجھے تو اس منظر پر قاضی حسین احمد کا پرانا نعرہ یاد آتا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اب شاید بلند آواز سے کہنا چاہیے
’’مظلوموں حافظ نعیم الرحمن واپس جا رہا ہے”
اور شاید اس جملے میں آج کی پاکستانی سیاست کا سب سے بڑا طنز چھپا ہوا ہے
یہاں ظالم کون ہے، مظلوم کون ہے، انقلابی کون ہے، مفاہمت پسند کون ہے اور کس کے پیچھے کون کھڑا ہے، اس کا فیصلہ عوام شاید کبھی نہ کر پائیں
لیکن ایک بات ضرور طے ہے
پاکستان میں سیاست کا سب سے مشکل کام حکومت کرنا نہیں، لوگوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ آپ واقعی وہی ہیں جو آپ اپنے بارے میں کہتے ہیں
جماعت اسلامی کے پاس کارکن ہیں، نظریہ ہے، تنظیم ہے، مذہبی شناخت ہے، سنجیدہ لوگ ہیں، اور کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو ذاتی زندگی میں دیانت اور سادگی کی مثال سمجھے جاتے ہیں
بس ایک چیز کی کمی رہ گئی ہے
اعتماد
اور اعتماد نعرے سے نہیں آتا
وہ تاریخ سے آتا ہے، فیصلوں سے آتا ہے، مستقل مزاجی سے آتا ہے، اور سب سے بڑھ کر اس دن آتا ہے جب آپ کو طاقتور کے سامنے بھی وہی بات کہنی پڑے جو کمزور کے سامنے کہتے ہیں
ورنہ پھر قاضی آتا ہے، قاضی چلا جاتا ہے
حافظ نعیم الرحمن آتے ہیں، واپس چلے جاتے ہیں
ٹرین آتی ہے، ٹرین واپس چلی جاتی ہے
اور عوام وہیں کھڑے رہتے ہیں
ہاتھ میں وہی پرانا سوال لیے
’’صاحب! اس بار واقعی انقلاب آیا تھا یا واپسی کا ٹکٹ پہلے ہی بک تھا؟‘

قومی خبریں سے مزید