دھرنا ابھی آیا نہیں، اسلام آباد پہلے ہی بند: موبائل انٹرنیٹ سے کنٹینرز تک، ، کہیں رینجرز تو کہیں فوج طلب ، حکومت کا غیر معمولی سکیورٹی لاک ڈاؤن
اسلام آباد میں 27 ستمبر کے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے پہلے حکومت نے دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی کو عملاً محاصرے کی کیفیت میں ڈالنے کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں، 26 اور 27 ستمبر کو اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں موبائل فون اور موبائل انٹرنیٹ سروس بند کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے، تاہم اس کی حتمی وفاقی ٹیلی کام نوٹیفکیشن کی علیحدہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی،دستیاب اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت نے اس سلسلے میں وفاق کو مراسلہ بھیجا ہے
اس کے ساتھ پنجاب حکومت نے آج سے 5 اکتوبر تک پورے صوبے میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے،نوٹیفکیشن کے تحت عوامی مقامات، سڑکوں، شاہراہوں، موٹرویز اور کھلی جگہوں پر 5 یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع، جلوس اور اکٹھ پر پابندی عائد کی گئی ہے،ہتھیار لے جانے یا ان کی نمائش اور ممنوعہ اجتماعات کے لیے لوگوں کو اکسانے پر بھی پابندی ہے،شادیوں، نماز جنازہ، تدفین اور مساجد و دیگر عبادت گاہوں کو استثنا دیا گیا ہے،حکومت نے پابندی کی وجہ پنجاب میں دہشت گردی، خودکش حملوں اور گاڑیوں میں نصب بموں کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے موصول ہونے والے انٹیلی جنس الرٹس کو قرار دیا ہے
دفعہ 144 کوئی نیا قانون نہیں بلکہ نوآبادیاتی دور کے Code of Criminal Procedure, 1898 کی شق ہے، یعنی برطانوی ہندوستان میں بنایا گیا وہ قانونی اختیار جو آزادی کے تقریباً 79 سال بعد بھی پاکستان میں انتظامیہ کے پاس موجود ہے اور سیاسی احتجاج، اجتماعات اور امن و امان کی صورتحال میں بار بار استعمال ہوتا ہے
صرف دفعہ 144 تک معاملہ محدود نہیں،پنجاب حکومت نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کی درخواست بھی کی ہے،راولپنڈی کے لیے 3 رینجرز کمپنیاں، اٹک کے لیے 5 ونگز جبکہ جہلم اور میانوالی کے لیے ایک ایک کمپنی طلب کی گئی ہے،ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں فوج کی مدد بھی طلب کی گئی ہے
اسلام آباد میں سکیورٹی پلان کے تحت 25 ہزار اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کی اطلاعات ہیں، جبکہ اہم داخلی و خارجی راستوں، ریڈ زون، ڈی چوک اور حساس مقامات پر کئی ہزار سے زائد کنٹینرز لگائے جا رہے ہیں،حکام نے جڑواں شہروں کے تقریباً 30 داخلی و خارجی راستوں کو محدود یا بند کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی ہے
لیکن اس سکیورٹی آپریشن کا سب سے بڑا اور کم زیر بحث شکار احتجاج کرنے والے نہیں بلکہ مال بردار ٹرانسپورٹر بنتے دکھائی دے رہے ہیں،آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس نے ایک ہزار سے زائد کنٹینرز اور گاڑیاں کئی دن سے تحویل میں لے رکھی ہیں،ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ان میں بڑی مقدار میں تجارتی سامان موجود ہے اور بعض کنٹینرز میں کروڑوں روپے مالیت کا سامان پڑا ہے
ڈرائیوروں کی شکایت ہے کہ ان سے گاڑیوں کی چابیاں، دستاویزات اور بعض صورتوں میں موبائل فون تک لے لیے گئے اور انہیں اپنی گاڑیوں کی واپسی کے بارے میں واضح جواب نہیں مل رہا،ایک ٹرک ڈرائیور نے عرب نیوز کو بتایا کہ اس کی گاڑی کا سامان لدا ہوا تھا اور پولیس نے چابیاں اور دستاویزات اپنے قبضے میں لے لیے
ٹرانسپورٹرز نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کنٹینرز کے کرائے اور استعمال کے لیے حکومت کی طرف سے مبینہ طور پر 40 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے تو یہ رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے،صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن اویس چوہدری کے مطابق ڈرائیوروں کو پینے کے پانی تک کی سہولت نہیں مل رہی اور بعض ڈرائیور اپنی جیب سے اخراجات برداشت کر رہے ہیں،
مسئلہ صرف گاڑیوں کے کرائے تک محدود نہیں۔ Express Tribune کے مطابق کنٹینرز، ٹرکوں اور ٹریلرز میں موجود پھل، سبزیاں، خشک میوہ جات، ادویات اور دیگر ضروری سامان کے خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ مسلسل تحویل کے باعث مارکیٹوں میں اشیائے خورونوش کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے اور کنٹینر کے کرائے بڑھنے لگے ہیں
صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بعض ٹرانسپورٹر مبینہ طور پر اپنے کنٹینرز اور بھاری گاڑیاں دور دراز علاقوں میں چھپا یا پارک کر رہے ہیں تاکہ انہیں احتجاجی رکاوٹوں کے لیے تحویل میں نہ لیا جا سکے
یوں 27 ستمبر کا لانگ مارچ ابھی اسلام آباد پہنچا بھی نہیں، لیکن اس کے راستے روکنے کے لیے دارالحکومت کے داخلی راستوں سے موٹرویز، جی ٹی روڈ، ریڈ زون اور ڈی چوک تک ایک وسیع سکیورٹی بندوبست شروع ہو چکا ہے،جماعت اسلامی کے 20 ستمبر کے مارچ کے خاتمے کے بعد اب 27 ستمبر کے پی ٹی آئی احتجاج نے انتظامیہ کو مزید بڑے پیمانے پر متحرک کر دیا ہے،پہلے ہی پولیس کو اضافی نفری، کنٹینرز اور اینٹی رائٹ آلات فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا
اصل سوال اب صرف یہ نہیں کہ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ پائے گا یا نہیں،سوال یہ بھی ہے کہ احتجاج روکنے کے لیے دارالحکومت اور جڑواں شہر کو کتنے دن تک بند رکھا جائے گا، اس کا تجارتی سرگرمیوں، مسافروں، مال بردار ٹرانسپورٹ اور عام شہریوں پر کتنا معاشی نقصان پڑے گا اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی،دھرنا رک سکتا ہے، لانگ مارچ کا راستہ بھی روکا جا سکتا ہے، لیکن جب ایک پورا دارالحکومت کنٹینروں، بند راستوں، سکیورٹی فورسز اور ممکنہ مواصلاتی بندش کے حصار میں آ جائے تو اس کی قیمت صرف سیاسی کارکن نہیں بلکہ عام شہری اور کاروباری طبقہ بھی ادا کرتا ہے





