Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایک صوبہ محاصرے میں، وفاقی قیادت بیرون ملک، سہیل آفریدی کا مشرقی پاکستان کا حوالہ دے کر بڑا سوال

ایک صوبہ محاصرے میں، وفاقی قیادت بیرون ملک، سہیل آفریدی کا مشرقی پاکستان کا حوالہ دے کر بڑا سوال

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ 3،4 روز سے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد ان کی حکومت کے وزرا، کارکنوں، تنظیمی عہدیداروں اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور صوبے کو سیاسی طور پر دبانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ مواصلات و تعمیرات کے وزیر شکیل خان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور انہیں اغوا کرنے کی کوشش ناکام بنائی گئی، جبکہ وزیر آبپاشی ریاض خان کے گھر پر بھی سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد پہنچے، ان کے مطابق ڈی آئی خان اور دوسرے اضلاع میں بھی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کو اسی نوعیت کی کارروائیوں کا سامنا ہے
سہیل آفریدی نے مردان میں ایم این اے فضل خان کے اغوا اور فخر جہان کے گھر پر نامعلوم افراد کے دھاوے کا بھی ذکر کیا،خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی گزشتہ روز وزیر فضل شکور کے مبینہ اغوا اور وزیر شکیل خان پر حملے کا معاملہ زیر بحث آیا تھا، جبکہ حکومتی ارکان نے اسے 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل سیاسی دباؤ کا حصہ قرار دیا
وزیراعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ اگر صوبائی کابینہ کے ارکان بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہے تو عام شہریوں کی صورتحال کیا ہوگی،ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوامی طاقت سے خوفزدہ ہے اور اسی وجہ سے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں
سہیل آفریدی نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے لوگوں کو دہشت گرد قرار دینے کی باتیں پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں، جبکہ مریم نواز کے اس بیان کو بھی انہوں نے انتہائی تشویشناک قرار دیا جس میں ان کے بقول بھارت کے بجائے پاکستان کے دیگر تین صوبوں سے خطرے کا ذکر کیا گیا
وزیراعلیٰ نے 26 اور 27 ستمبر کے دوران خیبر پختونخوا کے راستے بند کیے جانے کی اطلاعات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سوال کیا کہ ایک صوبے کو باقی ملک سے عملاً کاٹ دینے کا مطلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر باقی پاکستان کے راستے کھلے ہوں اور صرف خیبر پختونخوا سے آمدورفت محدود کی جائے تو اس صورتحال کو معمول کی سیاسی انتظامی کارروائی کیسے سمجھا جائے
سہیل آفریدی نے اسی تناظر میں مشرقی پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا تاریخ کے ایک المناک باب کو دوبارہ دہرانے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی،تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا حصہ تھا، ہے اور رہے گا
ان کا کہنا تھا کہ جو بھی پاکستان کو تقسیم کرنے یا خیبر پختونخوا کو ملک سے جدا کرنے کی سازش کر رہا ہے اسے واضح پیغام ہے کہ صوبے کے عوام پاکستانی تھے، پاکستانی ہیں اور پاکستانی رہیں گے
وزیراعلیٰ نے بیوروکریسی، پولیس، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران سے بھی کہا کہ وہ مبینہ دباؤ سے نہ گھبرائیں اور اگر صوبائی حکومت انہیں کوئی غیر قانونی کام کرنے کا حکم نہیں دے رہی تو کسی دوسرے ادارے یا محکمے کے ’’غلط احکامات‘‘ قبول نہ کریں،انہوں نے احتجاج کو آئینی اور قانونی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک آئین پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے، ان کی جماعت یہ حق استعمال کرتی رہے گی
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل پنجاب، اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی اقدامات غیر معمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں،خیبر پختونخوا کی حکومت اور اسمبلی پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہیں کہ صوبائی حکومت اور اس کے منتخب نمائندوں کے خلاف کارروائیاں وفاقی و صوبائی تعلقات کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر رہی ہیں
صورتحال کا ایک غیر معمولی پہلو یہ بھی ہے کہ ملک کے اندر سیاسی کشیدگی، احتجاج، امن و امان اور معاشی دباؤ کے سوالات اپنی جگہ موجود ہیں جبکہ وفاقی حکومت کی اعلیٰ قیادت اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے سلسلے میں نیویارک میں عالمی سفارت کاری میں مصروف ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روز نیویارک میں متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور امریکا ایران تنازعہ میں سفارتی کوششوں پر توجہ مرکوز رکھی
دوسری طرف وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے علاقائی امن اور جاری بحران پر بات چیت کی ہے
یوں ایک عجیب سیاسی منظرنامہ سامنے آ رہا ہے،حکومت کی اعلیٰ قیادت نیویارک میں عالمی سفارت کاری اور ایران میں علاقائی مذاکرات میں مصروف ہے، جبکہ ملک کے اندر ایک صوبائی حکومت خود کو دباؤ، گرفتاریوں اور مبینہ کارروائیوں کے درمیان گھرا ہوا قرار دے رہی ہے،اس کے ساتھ مہنگائی، امن و امان اور سیاسی عدم استحکام کے سوالات بھی برقرار ہیں
خیبر پختونخوا حکومت کے الزامات اپنی جگہ اپنی نوعیت میں انتہائی سنگین ہیں اور ان کی آزادانہ تحقیقات اور سرکاری وضاحت ان دعوؤں کی حتمی حیثیت طے کرنے کے لیے ضروری ہوگی،تاہم 27 ستمبر کے احتجاج سے پہلے پیدا ہونے والی صورتحال نے ایک بنیادی سوال ضرور نمایاں کر دیا ہے؟کیا سیاسی احتجاج روکنے کے لیے اختیار کیے جانے والے انتظامی اور سکیورٹی اقدامات خود وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید