Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سری لنکا میں ایسٹر حملوں کے 15 ملزمان کو سزا

سری لنکا میں ایسٹر حملوں کے 15 ملزمان کو سزا

سری لنکا کی عدالت نے 2019 کے ایسٹر سنڈے بم دھماکوں کے مقدمے میں 15 افراد کو مجرم قرار دے دیا ہے ان حملوں میں 279 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 45 غیر ملکی بھی شامل تھے
کولمبو ہائی کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 24 ملزمان کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے 14 افراد کو قتل، دہشت گردی کی سازش اور اسلحہ و دھماکا خیز مواد رکھنے سمیت تمام الزامات میں مجرم قرار دیا، جبکہ ایک ملزم کو بعض الزامات میں قصوروار پایا گیا۔ 9 افراد کو بری کر دیا گیا۔ عدالت نے سزا کا اعلان بھی کیا
21 اپریل 2019 کو ایسٹر کی عبادات کے دوران 3 گرجا گھروں اور 3 بڑے ہوٹلوں کو خودکش بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ حملوں میں سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے تھے حکام کے مطابق حملوں میں مقامی شدت پسند گروہ ملوث تھا جس نے داعش سے متاثر ہو کر کارروائی کی تھی
یہ مقدمہ سری لنکا کی عدالتی تاریخ کے بڑے مقدمات میں شمار ہوتا ہے استغاثہ نے ملزمان کے خلاف مجموعی طور پر 23,270 الزامات عائد کیے تھے مقدمے میں ان افراد پر خودکش حملہ آوروں کو مدد فراہم کرنے اور حملوں کی منصوبہ بندی میں معاونت کا الزام تھا
سری لنکا کی کیتھولک چرچ نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو انصاف ملنے میں طویل وقت لگا حملوں میں زندہ بچ جانے والے افراد اور متاثرہ خاندان بھی طویل عرصے سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں
تاہم حملوں کے پس پردہ ممکنہ وسیع تر سازش کی تحقیقات بھی جاری ہیں سابق انٹیلی جنس سربراہ سریش سیلے زیر حراست ہیں اور ان پر حملوں سے پہلے شدت پسندوں کے ساتھ رابطوں اور منصوبہ بندی میں کردار ادا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی وہ تردید کرتے ہیں
اس حملے سے قبل سری لنکا کے حکام کو ممکنہ دہشت گرد کارروائی کے بارے میں انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہوئی تھیں ایک سابق پولیس سربراہ اور سابق سکیورٹی عہدیدار کو بھی ان اطلاعات پر بروقت کارروائی نہ کرنے کے الزام میں جولائی 2026 میں سزائے موت سنائی گئی تھی

قومی خبریں سے مزید