سکھوں کا کرتارپور راہداری کھولنے کا مطالبہ
کرتارپور میں بابا گورو نانک کی 487ویں برسی کی تقریبات میں شرکت کرنے والے دنیا بھر سے آئے سکھ یاتریوں نے بھارت سے کرتارپور راہداری فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے یاتریوں کا کہنا تھا کہ راہداری کی بندش سے سکھ برادری کو اپنے مقدس مذہبی مقام گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی زیارت سے محروم ہونا پڑ رہا ہے
3 روزہ تقریبات کے اختتام پر بڑی تعداد میں سکھ مرد، خواتین اور بچے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور میں مذہبی رسومات میں شریک ہوئے یاتریوں نے بابا گورو نانک کی سمادھی پر چادر چڑھائی، مذہبی دعائیں کیں اور نگر کیرتن میں شرکت کی
اس دوران پاکستان اور بھارت کی سرحد پر زیرو لائن کے قریب بھی مذہبی رسومات ادا کی گئیں بھارتی جانب سکھوں کے ایک گروہ نے راہداری کھولنے کے لیے دعائیہ تقریب میں شرکت کی کوشش کی، تاہم بھارتی سرحدی فورس نے انہیں زیرو لائن تک جانے سے روک دیا بعد میں سکھ رہنماؤں نے رکاوٹ کے قریب ہی ارداس اور کیرتن کیا
کرتارپور راہداری مئی 2025 سے بند ہے بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث راہداری کی خدمات بحال نہیں کی جا سکتیں بھارتی وزارت خارجہ نے اگست 2026 میں بھی کہا تھا کہ راہداری کی معطلی جاری رہے گی
کرتارپور راہداری 2019 میں شروع کی گئی تھی اور اس کے ذریعے بھارتی سکھ یاتری بغیر ویزا گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی زیارت کر سکتے تھے سکھ مذہب میں اس مقام کی خاص اہمیت ہے کیونکہ بابا گورو نانک نے اپنی زندگی کے آخری برس کرتارپور میں گزارے تھے
سکھ مذہبی تنظیمیں کئی ماہ سے راہداری دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ مذہبی زیارت کو دونوں ملکوں کے سیاسی اور سکیورٹی اختلافات سے الگ رکھا جانا چاہیے





