حوثیوں کے حملوں کے بیچ قاہرہ کی طرف نئی نظریں، نیویارک میں پاکستان اور مصر کی ملاقات نے مکہ دفاعی معاہدے کا اگلا مرحلہ نمایاں کر دیا
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب حوثیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے اور خطے میں ایک نئے علاقائی دفاعی بندوبست کی ضرورت پہلے سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ملاقات میں مشرق وسطیٰ، ایران اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی بحرانوں کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ اسحاق ڈار نے تمام فریقوں کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد کی اہمیت اجاگر کی
لیکن اس ملاقات کا ایک اہم پہلو اس کے وسیع تر علاقائی تناظر میں سامنے آتا ہے،سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے 7 اگست کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے،ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے معاہدے کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے ’’تکنیکی طور پر‘‘ مماثل قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ مصر اس اتحاد میں ممکنہ طور پر اگلے مرحلے میں شامل ہو سکتا ہے
مصر اس وقت تک اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے، تاہم قاہرہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ پہلے ہی ایک غیر رسمی علاقائی چار ملکی فریم ورک میں رابطے رکھتا ہے،اگست میں مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا تھا کہ مصر مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے، لیکن اس فیصلے کے لیے آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا
اب اس معاملے نے ایک نئی حساسیت اختیار کر لی ہے
حوثیوں کے ساتھ جنگ میں سعودی عرب کو حالیہ ہفتوں میں شدید دباؤ کا سامنا ہے،ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی عرب کے میزائل شکن ذخائر کم ہو رہے ہیں اور ریاض نے فرانس، برطانیہ، پاکستان اور مصر سمیت علاقائی اور مغربی اتحادیوں سے فضائی دفاعی مدد طلب کی ہے
اسی دوران حوثیوں نے یمن میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے اور باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر دباؤ بڑھایا ہے،رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی نے سعودی عرب کی یمن میں پوزیشن کو کئی برسوں کے دوران درپیش بڑے چیلنجز میں تبدیل کر دیا ہے
یہی وہ پس منظر ہے جس میں مصر کی اہمیت بڑھ جاتی ہے،قاہرہ نہ صرف سعودی عرب کا اہم عرب شراکت دار ہے بلکہ بحیرہ احمر اور نہر سویز کی وجہ سے اس کی اپنی قومی سلامتی اور اقتصادی سلامتی بھی باب المندب کی صورتحال سے براہ راست جڑی ہوئی ہے،حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے راستوں کو نشانہ بنانا مصر کے لیے محض ایک علاقائی جنگ نہیں بلکہ نہر سویز کی آمدنی، سمندری تجارت اور قومی معیشت کا مسئلہ بھی بن سکتا ہے
دوسری طرف پاکستان ایک مختلف مشکل میں ہے،وہ سعودی عرب کے ساتھ نئے دفاعی معاہدے کا رکن ہے، لیکن ایران کا ہمسایہ بھی ہے اور اسلام آباد نے خود کو تہران اور دوسرے علاقائی فریقوں کے درمیان سفارتی رابطے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے،اسی لیے پاکستان کی موجودہ پالیسی میں دفاعی وابستگی اور سفارتی ثالثی دونوں بیک وقت نظر آتے ہیں
ترکی نے گزشتہ ہفتے واضح کیا کہ وہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی فوجی ضروریات پوری کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے،رائٹرز کے مطابق ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکی سعودی عرب کی تکنیکی فوجی ضروریات میں مدد کر سکتا ہے، تاہم انقرہ نے ساتھ ہی سفارتی حل اور کشیدگی کم کرنے پر بھی زور دیا
مصر کا معاملہ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے،قاہرہ ایک طرف سعودی عرب کے قریب ہے، دوسری طرف وہ خود کو علاقائی ثالث کے طور پر برقرار رکھنا چاہتا ہے،اسی وجہ سے مکہ دفاعی معاہدے میں فوری شمولیت کے بجائے مصر نے محتاط پالیسی اختیار کی ہے،تجزیہ کاروں کے مطابق قاہرہ کسی ایسے دفاعی بندوبست میں شامل ہو کر اپنے ایران سمیت دوسرے علاقائی فریقوں کے ساتھ سفارتی راستے محدود نہیں کرنا چاہتا
اس تناظر میں نیویارک میں اسحاق ڈار اور بدر عبدالعاطی کی ملاقات محض پاکستان اور مصر کے روایتی برادرانہ تعلقات کی ملاقات نہیں رہتی،دونوں وزرائے خارجہ نے خاص طور پر ایران، مشرق وسطیٰ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور Regional Four کے تحت مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے
یہ ’’R4‘‘ بھی قابل توجہ ہے،پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان پہلے سے موجود مشاورت کو حالیہ مہینوں میں علاقائی سلامتی کے ایک ابھرتے ہوئے فریم ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز نے بھی مئی میں ان چار ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو مشرق وسطیٰ کے نئے علاقائی سکیورٹی بندوبست کی تشکیل کے تناظر میں نمایاں کیا تھا
یوں نیویارک کی اس ملاقات میں بظاہر دو وزرائے خارجہ بیٹھے تھے، لیکن پس منظر میں ایک کہیں بڑا سوال موجود تھا،کیا سعودی عرب کے خلاف حوثی دباؤ، ایران کے ساتھ علاقائی کشیدگی اور بحیرہ احمر کی بگڑتی ہوئی سلامتی مکہ دفاعی معاہدے کو تین ملکوں سے آگے بڑھا کر مصر تک لے جائے گی؟
ابھی مصر کی جانب سے مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کا کوئی حتمی اعلان نہیں ہوا، لیکن موجودہ حالات نے اس سوال کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ فوری بنا دیا ہے،سعودی عرب کو دفاعی مدد درکار ہے، پاکستان سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، ترکی دفاعی تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے اور مصر باب المندب و نہر سویز کے سنگم پر موجود ہے
اسی لیے نیویارک میں پاکستان اور مصر کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں نئی صف بندیاں صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ میزائل، ڈرون، بحری راستوں اور سفارت کاری کے دباؤ سے بھی تشکیل پا رہی ہیں






