Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹائمز اسکوائر سے اقوام متحدہ تک تحریک انصاف کا انوکھا احتجاج، کارکن غائب مگر پلے کارڈز نے مین ہٹن کو سیاسی پیغام سے بھر دیا، لمحوں میں دنیا کو پتہ چل گیا شہباز شریف ، مریم نواز اور فیلڈ مارشل کون ہیں

ٹائمز اسکوائر سے اقوام متحدہ تک تحریک انصاف کا انوکھا احتجاج، کارکن غائب مگر پلے کارڈز نے مین ہٹن کو سیاسی پیغام سے بھر دیا، لمحوں میں دنیا کو پتہ چل گیا شہباز شریف ، مریم نواز اور فیلڈ مارشل کون ہیں

نیویارک میں پاکستان تحریک انصاف یو ایس اے کے کارکنوں نے احتجاج کا ایک نیا اور غیر معمولی انداز متعارف کرا دیا، جہاں کارکنوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر موجود ہونے کے بجائے ان کے احتجاجی پیغامات ہی ٹائمز اسکوائر، پین اسٹیشن اور اقوام متحدہ کے اطراف نمایاں دکھائی دے رہے ہیں
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق مین ہٹن کے ٹائمز اسکوائر میں عوامی آمدورفت کے علاقے کے اطراف لگائی گئی حفاظتی باڑوں کے ساتھ تقریباً 12 سے 20 بڑے پلے کارڈز ترتیب سے نصب کیے گئے،لوہے کے فولڈرز یا اسٹینڈز کے ذریعے کھڑے کیے گئے ان پلے کارڈز پر پاکستان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے مختلف نعرے درج ہیں
بعض پلے کارڈز پر وزیراعظم شہباز شریف کے حوالے سے ’’دیکھو دیکھو کون آیا، چور آیا چور آیا‘‘ اور ’’حساب تو ہوگا‘‘ کے نعرے درج ہیں ،جبکہ مریم نواز کی تصویر کے ساتھ مبینہ طور پر سرکاری وسائل سے طیارے کے استعمال اور اخراجات سے متعلق الزامات بھی نمایاں کیے گئے اور پلے کارڈ پر درج ہے “ حساب تو ہوگا” غریب عوام کے بارہ ارب روپے سے جہاز خریدنے کا حساب ہوگا، جبکہ عمران خان کی تصاویر کے بینرز پر انگریزی میں عبارت درج ہے the mist popular leader in Pakistan , Imran khan in danger , دیگر پلے کارڈز پر فوجی قیادت کے خلاف ’’قبضہ گروپ‘‘ اور ’’ڈیسنڈنٹ‘‘ جیسے الفاظ کے ساتھ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا
یہی طرز عمل اقوام متحدہ کے قریب ان سڑکوں پر بھی نظر آیا جو جنرل اسمبلی کے دوران سکیورٹی انتظامات کے باعث بند ہیں,نیویارک انتظامیہ کے مطابق 21 سے 25 ستمبر تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے باعث مین ہٹن میں بڑے پیمانے پر ٹریفک اور سڑکوں کی بندش جاری ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے اطراف پولیس اور سکیورٹی کی غیر معمولی موجودگی بھی برقرار ہے
اس احتجاج کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ویڈیوز میں احتجاجی پیغامات نمایاں طور پر موجود ہیں، مگر ان پلے کارڈز کے سامنے کارکنوں کا روایتی ہجوم دکھائی نہیں دیتا,بعض ویڈیوز میں پس منظر میں ’’دیکھو دیکھو کون آیا، چور آیا چور آیا‘‘ جیسے نعروں اور موسیقی کے ساتھ یہ مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ہیں
یوں احتجاج کا روایتی تصور، جس میں کارکن، جلسہ، نعرے اور مظاہرین بنیادی عنصر ہوتے ہیں، یہاں ایک مختلف شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے,کارکن چند لمحوں کے لیے پلے کارڈز نصب کرتے ہیں، ان کی ویڈیو بنائی جاتی ہے اور پھر وہی مناظر سوشل میڈیا کے ذریعے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں
اس سرگرمی کے قانونی پہلو پر تاہم ایک اہم سوال برقرار ہے کہ آیا ان مقامات پر پلے کارڈز اور اسٹینڈز رکھنے کے لیے نیویارک سٹی یا متعلقہ اداروں سے باقاعدہ اجازت لی گئی تھی یا نہیں,نیویارک سٹی کے قواعد کے مطابق سڑکوں، فٹ پاتھوں اور پیڈسٹرین پلازہ میں ایسی سرگرمیوں کے لیے مختلف نوعیت کے اجازت نامے درکار ہو سکتے ہیں، جبکہ بڑے یا باقاعدہ احتجاجی اجتماعات کے لیے مخصوص پرمٹ نظام موجود ہے
دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ ٹائمز اسکوائر جیسے پیڈسٹرین پلازہ میں مقررہ سائز سے بڑے یا مخصوص طریقے سے نصب کیے جانے والے سائنز کے لیے بھی نیویارک سٹی کی جانب سے پیشگی اجازت کا طریقہ موجود ہے
اس لیے اس احتجاج کے حوالے سے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پلے کارڈز پر کیا لکھا تھا، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا یہ باقاعدہ اجازت یافتہ احتجاج تھا یا چند منٹوں کے لیے پلے کارڈز نصب کرکے ویڈیو بنانے کی ایک نئی سوشل میڈیا حکمت عملی؟
اگر دوسری صورت درست ثابت ہوتی ہے تو یہ نیویارک میں پاکستانی سیاسی احتجاج کی ایک نسبتاً غیر روایتی مثال ہے، جس میں مظاہرین کی جسمانی موجودگی کم یا نہ ہونے کے باوجود احتجاج کا بصری پیغام ٹائمز اسکوائر اور اقوام متحدہ جیسے عالمی سطح پر پہچانے جانے والے مقامات تک پہنچایا گیا

قومی خبریں سے مزید