شمالی کوریا نے چند گھنٹوں کے دوران 2 مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل سمندر میں داغ دیے
شمالی کوریا نے اتوار کو اپنے مشرقی ساحل سے 2 مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل مشرقی سمندر کی جانب فائر کیے جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق پہلے میزائل نے تقریباً 450 کلومیٹر جبکہ دوسرے نے 600 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔ دونوں میزائلوں کے جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر سمندر میں گرنے کی اطلاعات ہیں
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق پہلا میزائل شمالی کوریا کے وونسان کے علاقے سے تقریباً 3 بجے فائر کیا گیا، جبکہ دوسرا میزائل اسی علاقے سے تقریباً 5 بج کر 50 منٹ پر داغا گیا۔ جنوبی کوریا اور امریکا میزائلوں کی نوعیت اور درست خصوصیات کا مزید تجزیہ کر رہے ہیں جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان نے میزائلوں کی نگرانی اور معلومات کا باہمی تبادلہ بھی کیا
جاپان نے ان تجربات پر شمالی کوریا کے خلاف سخت احتجاج کیا اور کہا کہ اس طرح کے میزائل تجربات خطے کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں جنوبی کوریا کے صدارتی قومی سلامتی دفتر نے پہلے میزائل کے بعد ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا جنوبی کوریا کی حکومت نے پیانگ یانگ سے فوری طور پر بیلسٹک میزائلوں کے تجربات روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجربات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں
یہ میزائل تجربات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب شمالی کوریا نے حالیہ دنوں میں اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے پیانگ یانگ نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا جوہری طاقت ہونے کا مؤقف تبدیل نہیں ہوگا شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس کی جوہری حیثیت ملک کے آئین اور دفاعی صلاحیت کے باعث مستقل ہے
یہ تازہ تجربات گزشتہ ہفتے کے میزائل تجربات کے تقریباً 8 روز بعد ہوئے ہیں شمالی کوریا نے اس سے قبل متعدد مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل مشرقی سمندر کی جانب فائر کیے تھے اور بعد میں اسے توپ خانے اور میزائل یونٹس کی مشترکہ فائر پاور مشق قرار دیا تھا پیانگ یانگ مسلسل امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کی مشترکہ فوجی مشقوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے
شمالی کوریا کی قیادت کی جانب سے حالیہ بیانات میں واضح کیا گیا ہے کہ ملک اپنے جوہری ہتھیاروں اور میزائل پروگرام کو مضبوط بنانے کی پالیسی جاری رکھے گا شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے بھی حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ ملک کی جوہری طاقت کی حیثیت ناقابل تبدیل ہے اس کے برعکس جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان مسلسل مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ پیانگ یانگ اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود کرے
امریکا کی پیسیفک کمانڈ نے کہا ہے کہ اسے میزائل تجربات کا علم ہے اور اتحادیوں و شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ جاری ہے امریکی ابتدائی جائزے کے مطابق ان میزائل تجربات سے امریکی اہلکاروں، امریکی سرزمین یا اتحادیوں کو فوری خطرہ لاحق نہیں ہوا
شمالی کوریا کے تازہ میزائل تجربات ایسے وقت میں بھی ہوئے ہیں جب خطے میں امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کی فوجی سرگرمیوں پر پیانگ یانگ کی تنقید میں اضافہ ہوا ہے اس صورتحال نے جزیرہ نما کوریا میں جوہری ہتھیاروں، میزائل تجربات اور فوجی مشقوں کے باعث جاری کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے





