گرین کارڈ سے تیسرے ملک میں ڈی پورٹیشن اور امیگریشن سے ٹیکساس ایجوکیشن، میڈیا پالیسی تک ، قومی مناظر پر امریکی مسلمان کیا سوچ رہے ؟

گرین کارڈ سے تیسرے ملک میں ڈی پورٹیشن اور امیگریشن سے ٹیکساس ایجوکیشن، میڈیا پالیسی تک ، قومی مناظر پر امریکی مسلمان کیا سوچ رہے ؟

امریکہ میں 18 ستمبر 2026 امیگریشن کے حوالے سے غیر معمولی اہم دن ثابت ہوا ہے،وفاقی اپیل کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کو غیر قانونی قرار دینے والے نچلی عدالت کے فیصلے کو بڑی حد تک برقرار رکھا ہے جس کے تحت غیر دستاویزی تارکین وطن کو ان کے اپنے ملک کے بجائے کسی تیسرے ملک میں تیزی سے ڈی پورٹ کیا جا سکتا تھاعدالت کے مطابق ایسے افراد کو ڈی پورٹیشن سے پہلے یہ مؤثر موقع ملنا ضروری ہے کہ وہ اس ملک میں ممکنہ خطرے، ظلم یا تشدد کے خدشات پیش کر سکیں،رائٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں اب تک 25,000 سے زیادہ تارکین وطن کم از کم 29 تیسرے ممالک بھیجے جا چکے ہیں
اسی روز گرین کارڈ کے خواہش مند تارکین وطن کے لیے Public Charge سے متعلق نئی وفاقی پالیسی بھی نافذ ہوئی ہے،اس کے تحت امیگریشن حکام درخواست گزار کی مالی صورتحال اور بعض سرکاری فوائد کے استعمال سمیت زیادہ وسیع عوامل کو یہ طے کرنے میں دیکھ سکتے ہیں کہ آیا وہ مستقبل میں حکومت پر مالی انحصار کا امکان رکھتا ہے،یہ تبدیلی خاص طور پر بعض فیملی اور روزگار کی بنیاد پر گرین کارڈ کے درخواست گزاروں کے لیے اہم ہے، تاہم یہ تمام تارکین وطن پر لاگو نہیں ہوتی،امریکی شہریت رکھنے والوں، موجودہ گرین کارڈ ہولڈرز کی عام تجدید اور بعض انسانی ہمدردی کے پروگراموں کے درخواست گزاروں کو اس قاعدے سے استثنا حاصل ہے
مسلمان امریکیوں کے حوالے سے بھی آج ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،سان ڈیاگو میں مسلم کمیونٹی نے 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹر رجسٹریشن مہم شروع کی، جہاں کمیونٹی کے ارکان نے امیگریشن چھاپوں، غزہ، ایران کی جنگ اور مہنگائی کو اہم مسائل قرار دیا،یہ سرگرمی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مئی میں سان ڈیاگو کے اسلامک سینٹر پر فائرنگ میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے اور حکام اسے ممکنہ نفرت انگیز جرم کے طور پر دیکھ رہے ہیں
اسلام کے حوالے سے ایک اور اہم معاملہ ٹیکساس کا نیا ہائی اسکول سوشل اسٹڈیز نصاب ہے، جسے ریاستی تعلیمی بورڈ نے رواں ماہ منظور کیا،نئے نصاب میں اسلام اور ابتدائی مسلم تاریخ کی تدریس کے طریقہ کار پر مسلم تنظیموں اور بعض ماہرین نے اعتراض کیا ہے، جبکہ بورڈ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نصاب تاریخی واقعات کو زیادہ واضح انداز میں پڑھاتا ہے
یہ پیش رفت اس وسیع تر ماحول میں سامنے آئی ہے جس میں پیو ریسرچ سینٹر کے ستمبر 2026 کے سروے کے مطابق 59 فیصد امریکی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف بہت زیادہ امتیاز پایا جاتا ہے، جبکہ 59 فیصد نے اسلام اور مسلمانوں کی میڈیا کوریج کو غیر منصفانہ قرار دیا

قومی خبریں سے مزید