مصر کا فلسطینیوں کی بے دخلی سے صاف انکار، سیسی اور عباس کی غزہ کی صورتحال پر اہم ملاقات

مصر کا فلسطینیوں کی بے دخلی سے صاف انکار، سیسی اور عباس کی غزہ کی صورتحال پر اہم ملاقات

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے دوران غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے یا فلسطینی مسئلے کو ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے قاہرہ میں ہونے والی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں دوبارہ مکمل جنگ شروع کرکے حماس کے خلاف کارروائی مکمل کرنے اور فلسطینیوں کی منتقلی کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے
صدر سیسی نے کہا کہ مصر فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی یا فلسطینی کاز کو ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف اپنے مؤقف پر قائم ہے محمود عباس نے مصر کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ غزہ فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ ہے
ملاقات میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا صدر سیسی نے تمام فریقوں سے جنگ بندی کی پابندی، کشیدگی روکنے، انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے اور غزہ کی بحالی و تعمیر نو کے لیے حالات پیدا کرنے کا مطالبہ کیا
مصر کی غزہ کے ساتھ واحد زمینی سرحد ہے جو اسرائیل کے براہ راست کنٹرول میں نہیں، تاہم مصر 2023 سے غزہ کی 20 لاکھ سے زیادہ آبادی کو جزیرہ نما سینا منتقل کرنے کے کسی بھی منصوبے کی مخالفت کرتا رہا ہے
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اگر حماس کو غیر مسلح کرنے سے متعلق موجودہ کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو اسرائیلی فوج کو دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے انہوں نے غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کے منصوبے کا بھی ذکر کیا تاہم امریکی سفیر مائیک ہکابی نے فلسطینیوں کو ان کی مرضی کے خلاف غزہ سے بے دخل کرنے کے کسی منصوبے کی تردید کی ہے
محمود عباس نے ملاقات کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال اور اسرائیلی آبادکاری کے منصوبوں سے متعلق بھی صدر سیسی کو آگاہ کیا دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں غزہ کے مستقبل، فلسطینی ریاست اور خطے میں جاری کشیدگی کے اہم معاملات زیر بحث آئے

قومی خبریں سے مزید