8.5 ارب روپے کی مبینہ کرپشن، ملزم کو ضمانت؛ سرکاری منصوبوں میں عوامی پیسے کی حفاظت پھر سوال بن گئی

8.5 ارب روپے کی مبینہ کرپشن، ملزم کو ضمانت؛ سرکاری منصوبوں میں عوامی پیسے کی حفاظت پھر سوال بن گئی

کراچی کے یلو لائن بس منصوبے میں مبینہ 8.5 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے کیس نے ایک بار پھر پاکستان میں سرکاری منصوبوں، عوامی رقم کے استعمال اور احتساب کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں سندھ ہائی کورٹ نے اس مقدمے کے مرکزی ملزم زمیّر عباسی کو 1 کروڑ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت دے دی، تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کیس میں رقم کی مقدار بہت زیادہ ہونے کے باوجود تفتیشی ادارے نے اپنا کام مناسب طریقے سے نہیں کیا اور تحقیقات میں کئی خامیاں رہ گئیں
زمیّر عباسی سندھ حکومت کے گریڈ 19 کے افسر اور کراچی موبیلٹی پروجیکٹ کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ہیں ان کے خلاف یلو لائن منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا جون میں انسداد بدعنوانی کے ادارے نے انہیں اور منصوبے سے وابستہ دیگر افراد کو مقدمے میں نامزد کیا تھا
تحقیقی رپورٹ کے مطابق منصوبے میں ٹھیکیداروں کو تقریباً 8.5 ارب روپے کی پیشگی ادائیگیاں کی گئیں جبکہ معاہدوں میں اس قسم کی پیشگی ادائیگی اور مالی معاونت کی واضح شق موجود نہیں تھی ابتدائی تحقیقات میں بینک ضمانتوں سے متعلق معاملات بھی زیر سوال آئے تھے
مقدمے کی کارروائی میں ایک طرف سرکاری اداروں کی جانب سے عوامی خزانے کو نقصان پہنچنے اور اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات سامنے آئے، جبکہ ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ادائیگیاں ریکارڈ میں موجود تھیں اور منصوبے کے مالی معاملات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا عدالت نے ضمانت دیتے ہوئے تفتیش کے طریقہ کار اور قانونی تقاضوں کی تکمیل پر بھی سوال اٹھائے
یہ معاملہ صرف ایک منصوبے یا ایک افسر تک محدود سوال نہیں اٹھاتا بلکہ اس وسیع مسئلے کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ پاکستان میں سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں عوام کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں تو ان کی نگرانی، منظوری، ادائیگی اور حساب کتاب کا نظام کس حد تک مؤثر ہے جب کسی بڑے مالی اسکینڈل کی تحقیقات ہی قانونی یا طریقہ کار کی خامیوں کا شکار ہو جائیں تو احتساب کا پورا عمل عوامی اعتماد کے لیے مشکل سوال بن جاتا ہے
اس کیس میں عدالت نے بھی واضح کیا کہ رقم کی بڑی مقدار اپنی جگہ اہم ہے، لیکن تفتیش قانون کے مطابق اور مکمل شواہد کے ساتھ ہونا ضروری ہے عدالت نے موجودہ تحقیقات میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ملزم کو ضمانت دی ہے، تاہم ضمانت مقدمے سے بریت نہیں ہے اور الزامات کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے
پاکستان میں کرپشن کے خلاف کارروائی کا اصل امتحان یہی ہے کہ سرکاری عہدہ رکھنے والے ہر شخص، خواہ وہ کسی بھی ادارے یا محکمے سے تعلق رکھتا ہو، کے خلاف الزامات کی شفاف اور مکمل تحقیقات ہوں، عوامی رقم کے استعمال کا ریکارڈ واضح ہو اور اگر جرم ثابت ہو تو قانون کے مطابق ذمہ داری طے کی جائے یلو لائن کا 8.5 ارب روپے کا معاملہ اسی بنیادی سوال کو دوبارہ سامنے لے آیا ہے کہ عوام کے پیسے کی حفاظت اور سرکاری اداروں کی جواب دہی کو عملی طور پر کیسے یقینی بنایا جائے

قومی خبریں سے مزید