حوثیوں نے اہم یمنی بندرگاہ موچا پر قبضہ کرلیا، بحیرہ احمر میں عالمی تجارت کے لیے خطرہ بڑھ گیا
حوثی فورسز نے یمن کے اہم ساحلی شہر اور بندرگاہ موچا پر قبضہ کرلیا ہے اور بحیرہ احمر کے ساحل پر مزید جنوب کی جانب پیش قدمی شروع کردی ہے، جس سے دنیا کی اہم ترین سمندری تجارتی گزرگاہوں میں شامل باب المندب کو خطرہ بڑھ گیا ہے
حوثیوں کی یہ پیش قدمی انہیں حنیش جزائر اور باب المندب کے مزید قریب لے آئی ہے باب المندب وہ تنگ سمندری راستہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور خلیج سے یورپ کی جانب جانے والے تیل، ایندھن اور دیگر تجارتی سامان کے لیے انتہائی اہم ہے
موچا پر قبضہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے حکومتی فورسز اور ان کے اتحادیوں نے باب المندب کے قریب دھباب کے علاقے میں اپنی پوزیشنیں مضبوط کرنا شروع کردی ہیں، کیونکہ موچا، دھباب اور جزیرہ پریم کے آس پاس کا ساحلی علاقہ آبنائے تک رسائی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے
اس پیش رفت کے عالمی توانائی منڈی پر بھی فوری اثرات سامنے آئے ہیں۔ خام تیل کی قیمت میں 4 فیصد تک اضافہ ہوا اور برینٹ خام تیل تقریباً 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی سعودی عرب بھی آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث اپنی تیل کی برآمدات کے لیے بحیرہ احمر کے راستے پر پہلے سے زیادہ انحصار کر رہا ہے
حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور یمن پر حملے رکنے کی صورت میں یہ کارروائیاں ختم کردی جائیں گی دوسری جانب یمنی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے راکٹ حملوں اور کشتیوں کے ذریعے منتقل کیے گئے جنگجوؤں کی مدد سے حنیش جزائر کی جانب پیش قدمی کی
حوثیوں کی پیش قدمی کے جواب میں سعودی عرب نے یمن کے مختلف صوبوں میں درجنوں فضائی حملے کیے اسی دوران جنوبی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے بھی تیز ہوگئے، جبکہ سعودی حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے ہیں
موچا میں لڑائی کے باعث بڑی تعداد میں شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر عدن کی طرف فرار ہوگئے ہیں مقامی افراد نے شدید خوف و ہراس اور راستے میں لوٹ مار کی شکایات بھی کی ہیں گزشتہ ہفتے سے جاری نئی لڑائی میں 500 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً 20,000 افراد بے گھر ہوچکے ہیں
یمن میں دوبارہ بھڑکنے والی یہ جنگ اس خدشے کو بڑھا رہی ہے کہ ملک ایک بار پھر 2014 میں شروع ہونے والی تباہ کن خانہ جنگی کی طرف واپس جاسکتا ہے، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کیا تھا






