انسانی نسل کے خاتمے کے خدشے پر امریکی قانون سازوں کا مصنوعی ذہانت کو قابو کرنے کے لیے نئے قوانین کا مطالبہ
امریکا میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے اور کئی امریکی قانون سازوں نے مصنوعی ذہانت کے لیے نئے اور سخت قوانین بنانے کا مطالبہ کیا ہے یہ مطالبات اس وقت سامنے آئے جب مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک سے وابستہ محققین نے خبردار کیا کہ اگر اس ٹیکنالوجی کی ترقی مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر جاری رہی تو انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت مستقبل میں انسانوں کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے
اینتھروپک کے سابق محقق جیکب کوکسن نے کمپنی سے علیحدگی کے بعد مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار دوڑ پر شدید تحفظات ظاہر کیے ایک اور محقق ایون ہوبنگر نے بھی خبردار کیا کہ انتہائی ترقی یافتہ مصنوعی ذہانت کے باعث آئندہ 10 سال کے دوران انسانی نسل کے خاتمے کا خطرہ موجود ہوسکتا ہے اور انہوں نے اس امکان کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا
ان خدشات کے بعد امریکی کانگریس میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے مصنوعی ذہانت کی نگرانی اور اس کے لیے حفاظتی ضابطے بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے سینیٹر مارک کیلی اور سینیٹر ٹیڈ کروز سمیت دیگر قانون سازوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو صرف کاروباری دوڑ نہ بنایا جائے بلکہ انسانی سلامتی کو بھی بنیادی ترجیح دی جائے
کچھ قانون ساز مصنوعی ذہانت کے لیے ایک باقاعدہ وفاقی نگرانی کا نظام قائم کرنے، آزادانہ حفاظتی جانچ لازمی بنانے اور ایسے نظاموں کو روکنے کے طریقہ کار تیار کرنے کی تجاویز دے رہے ہیں جو قابو سے باہر ہوجائیں بعض تجاویز میں انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کی ترقی کو اس وقت تک محدود کرنے کی بات بھی کی جارہی ہے جب تک اس کے لیے واضح حفاظتی معیار مقرر نہ ہوجائیں
تشویش صرف مستقبل کے خطرات تک محدود نہیں مصنوعی ذہانت پہلے ہی سائبر حملوں، جاسوسی، حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق تحقیق اور دیگر خطرناک سرگرمیوں میں غلط استعمال کی کوششوں کا سامنا کر رہی ہے حالیہ تحقیقات میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں مصنوعی ذہانت کے نظام کو سائبر کارروائیوں اور حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی
امریکی قانون سازوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار قوانین بنانے کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہے اگر حکومتیں پہلے سے حفاظتی اصول طے نہ کرسکیں تو مستقبل میں ایسے طاقتور نظام سامنے آسکتے ہیں جن کے فیصلوں اور کارروائیوں پر انسانوں کا مکمل کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہوجائے
تاہم تمام ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ مصنوعی ذہانت لازماً انسانوں کے خاتمے کا سبب بنے گی بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے انتہائی سنگین خطرات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے لیکن موجودہ ٹیکنالوجی اور مستقبل کی مصنوعی ذہانت کے بارے میں انتہائی تباہ کن پیش گوئیوں کو حتمی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے
اس بحث نے ایک بنیادی سوال ضرور کھڑا کردیا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت کو پہلے مکمل طور پر طاقتور بنائے گی یا پہلے اس کے لیے ایسے حفاظتی قوانین بنائے گی جو انسانوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھ سکیں۔ امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش اس بات کا اشارہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ قومی سلامتی اور انسانی مستقبل کا اہم مسئلہ بن چکی ہے






