Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

انسانی نسل کے خاتمے کے خدشے پر امریکی قانون سازوں کا مصنوعی ذہانت کو قابو کرنے کے لیے نئے قوانین کا مطالبہ

انسانی نسل کے خاتمے کے خدشے پر امریکی قانون سازوں کا مصنوعی ذہانت کو قابو کرنے کے لیے نئے قوانین کا مطالبہ

امریکا میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے اور کئی امریکی قانون سازوں نے مصنوعی ذہانت کے لیے نئے اور سخت قوانین بنانے کا مطالبہ کیا ہے یہ مطالبات اس وقت سامنے آئے جب مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک سے وابستہ محققین نے خبردار کیا کہ اگر اس ٹیکنالوجی کی ترقی مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر جاری رہی تو انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت مستقبل میں انسانوں کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے
اینتھروپک کے سابق محقق جیکب کوکسن نے کمپنی سے علیحدگی کے بعد مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار دوڑ پر شدید تحفظات ظاہر کیے ایک اور محقق ایون ہوبنگر نے بھی خبردار کیا کہ انتہائی ترقی یافتہ مصنوعی ذہانت کے باعث آئندہ 10 سال کے دوران انسانی نسل کے خاتمے کا خطرہ موجود ہوسکتا ہے اور انہوں نے اس امکان کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا
ان خدشات کے بعد امریکی کانگریس میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے مصنوعی ذہانت کی نگرانی اور اس کے لیے حفاظتی ضابطے بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے سینیٹر مارک کیلی اور سینیٹر ٹیڈ کروز سمیت دیگر قانون سازوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو صرف کاروباری دوڑ نہ بنایا جائے بلکہ انسانی سلامتی کو بھی بنیادی ترجیح دی جائے
کچھ قانون ساز مصنوعی ذہانت کے لیے ایک باقاعدہ وفاقی نگرانی کا نظام قائم کرنے، آزادانہ حفاظتی جانچ لازمی بنانے اور ایسے نظاموں کو روکنے کے طریقہ کار تیار کرنے کی تجاویز دے رہے ہیں جو قابو سے باہر ہوجائیں بعض تجاویز میں انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کی ترقی کو اس وقت تک محدود کرنے کی بات بھی کی جارہی ہے جب تک اس کے لیے واضح حفاظتی معیار مقرر نہ ہوجائیں
تشویش صرف مستقبل کے خطرات تک محدود نہیں مصنوعی ذہانت پہلے ہی سائبر حملوں، جاسوسی، حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق تحقیق اور دیگر خطرناک سرگرمیوں میں غلط استعمال کی کوششوں کا سامنا کر رہی ہے حالیہ تحقیقات میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں مصنوعی ذہانت کے نظام کو سائبر کارروائیوں اور حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی
امریکی قانون سازوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار قوانین بنانے کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہے اگر حکومتیں پہلے سے حفاظتی اصول طے نہ کرسکیں تو مستقبل میں ایسے طاقتور نظام سامنے آسکتے ہیں جن کے فیصلوں اور کارروائیوں پر انسانوں کا مکمل کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہوجائے
تاہم تمام ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ مصنوعی ذہانت لازماً انسانوں کے خاتمے کا سبب بنے گی بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے انتہائی سنگین خطرات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے لیکن موجودہ ٹیکنالوجی اور مستقبل کی مصنوعی ذہانت کے بارے میں انتہائی تباہ کن پیش گوئیوں کو حتمی حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے
اس بحث نے ایک بنیادی سوال ضرور کھڑا کردیا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت کو پہلے مکمل طور پر طاقتور بنائے گی یا پہلے اس کے لیے ایسے حفاظتی قوانین بنائے گی جو انسانوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھ سکیں۔ امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش اس بات کا اشارہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ قومی سلامتی اور انسانی مستقبل کا اہم مسئلہ بن چکی ہے

قومی خبریں سے مزید