جان فیٹرمن سیاسی بحران میں، سابق عملے کی شکایات، اسرائیل پالیسی اور ریپبلکنز سے قربت نے 2028 کا راستہ مشکل بنا دیا
پنسلوانیا کے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمن کو اپنی ہی جماعت کے اندر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے، جبکہ سابق عملے کے ارکان کی شکایات، اسرائیل کے بارے میں ان کا مؤقف، ڈیموکریٹک پارٹی کی بائیں بازو کی قیادت سے مسلسل اختلافات اور اب ریپبلکن کے مڈٹرم کنونشن میں آن لائن شرکت کے ساتھ سینیٹر ڈیو میک کارمک کی کھلی حمایت نے ان کے سیاسی مستقبل کو مزید پیچیدہ کردیا ہے
تازہ تنازعہ اس رپورٹ کے بعد شروع ہوا جس میں ایک درجن سے زیادہ سابق عملے کے ارکان کے انٹرویوز کی بنیاد پر فیٹرمن کی سینیٹر کی حیثیت سے کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئےہیں ، رپورٹ کے مطابق بعض سابق ملازمین نے الزام لگایا کہ فیٹرمن قانون سازی اور اپنے حلقے کے لوگوں سے ملاقاتوں کے بجائے میڈیا میں اپنی موجودگی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور متعدد طے شدہ ملاقاتیں منسوخ کرتے رہے ہیں
رپورٹ میں خاص طور پر ایک واقعے کا ذکر کیا گیا جس میں تین مفلوج سابق فوجی، جو وہیل چیئرز پر تھے، فیٹرمن سے ایسی قانون سازی کے بارے میں ملاقات کے لیے آئے تھے جس کا مقصد ان کی دیکھ بھال بہتر بنانا تھا،فیٹرمن نے مبینہ طور پر طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ملاقات میں شرکت نہیں کی، لیکن بعد میں اپنے دفتر میں موجود رہے تاکہ فاکس نیوز کو انٹرویو دے سکیں،یہ واقعہ ان کے سابق عملے کی جانب سے سینیٹر کی ترجیحات پر اٹھائے گئے سوالات کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے
فیٹرمن نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور سابق ملازمین کی جانب سے ان کے خلاف کی جانے والی تنقید کو سیاسی مخالفت قرار دیا ہے،ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ سینیٹر نے اپنے عہدے پر رہتے ہوئے متعدد اہم معاملات پر واضح اور مستقل مؤقف اختیار کیا ہے، اگرچہ ان کا انداز روایتی ڈیموکریٹک سیاست سے مختلف ہے
فیٹرمن اور ان کی جماعت کے درمیان سب سے نمایاں اختلاف اسرائیل اور غزہ کے معاملے پر ہے،وہ اسرائیل کے مضبوط حامی رہے ہیں اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند ارکان کی شدید تنقید سے اتفاق نہیں کرتے،ایران، امیگریشن اور دیگر خارجہ و داخلی پالیسی معاملات پر بھی وہ کئی مرتبہ پارٹی کی اکثریت سے مختلف مؤقف اختیار کرچکے ہیں
ان کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلق بھی روایتی ڈیموکریٹک مخالفت سے مختلف رہا ہے،فیٹرمن نے ٹرمپ سے ملاقات کے بعد ان کے بارے میں مثبت الفاظ استعمال کیے، ان کی بعض صنعتی پالیسیوں، خصوصاً امریکی اسٹیل انڈسٹری کے تحفظ کی کوششوں کی حمایت کی اور ڈیموکریٹس کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف بعض ردعمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا
صورتحال اس وقت مزید غیر معمولی ہوگئی جب فیٹرمن نے ڈیلس میں ہونے والے ریپبلکن پارٹی کے وسط مدتی کنونشن میں ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنے دوست اور پنسلوانیا کے ریپبلکن سینیٹر ڈیو میک کارمک کی حمایت کی،فیٹرمن نے خود کو ’’کامن سینس ڈیموکریٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے،انہوں نے ریپبلکن پارٹی میں شامل ہونے کے امکانات کی بھی تردید کی ہے
تاہم ایک ڈیموکریٹک سینیٹر کا ریپبلکن پارٹی کے قومی سیاسی اجتماع میں دوسرے ریپبلکن سینیٹر کی حمایت کرنا غیر معمولی واقعہ ہے،ماضی میں بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں، جن میں 2004 میں ڈیموکریٹک سینیٹر زیل ملر کا ریپبلکن کنونشن سے خطاب اور 2008 میں ڈیموکریٹک سینیٹر جو لائبرمین کی ریپبلکن صدارتی امیدوار جان مکین کی حمایت شامل ہے
فیٹرمن کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے مسلسل اختلافات نے انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر پہلے سے کہیں زیادہ تنہا کردیا ہے،پنسلوانیا کے بعض ڈیموکریٹک سیاست دانوں نے بھی ان پر تنقید کی ہے، جبکہ پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں ان کے اسرائیل کے مؤقف اور ریپبلکنز کے ساتھ بڑھتے روابط پر خاص طور پر ناراضگی پائی جاتی ہے،دوسری طرف ریپبلکن حلقے فیٹرمن کے پارٹی سے اختلافات کو ڈیموکریٹس کے اندرونی اختلافات کی مثال کے طور پر نمایاں کر رہے ہیں
ان کے سیاسی مستقبل پر ایک اور سوال 2028 کے انتخابات سے متعلق ہے،فیٹرمن اس وقت سینیٹ میں ہیں، لیکن ان کے خلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ممکنہ پرائمری چیلنج کی باتیں شروع ہوچکی ہیں،اس مرحلے پر یہ واضح نہیں کہ وہ 2028 میں دوبارہ سینیٹ کا انتخاب لڑیں گے یا ان کی جماعت انہیں اسی طرح قبول کرے گی جس طرح ماضی میں کیا جاتا رہا ہے
فیٹرمن کی موجودہ صورتحال کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ خود کو اب بھی ڈیموکریٹ قرار دے رہے ہیں، مگر ان کے سیاسی اقدامات انہیں پارٹی کے روایتی دھارے سے مسلسل دور لے جا رہے ہیں،ریپبلکنز کے ساتھ تعاون، اسرائیل پر پارٹی قیادت سے اختلاف اور ڈیموکریٹک بائیں بازو پر تنقید نے انہیں اپنی جماعت کے اندر ایک منفرد مقام دے دیا ہے
حالیہ تنازع میں سب سے سنگین دعویٰ سابق عملے کی جانب سے ان کی سینیٹ کی ذمہ داریوں سے متعلق ہے، مگر یہ الزامات ثابت شدہ حقائق نہیں بلکہ سابق ملازمین کے بیانات اور میڈیا رپورٹنگ پر مبنی ہیں،فیٹرمن ان کی تردید کرچکے ہیں،اس لیے ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ بالآخر پنسلوانیا کے ووٹروں اور 2028 کے انتخابی عمل میں ہوگا، نہ کہ موجودہ الزامات یا قیاس آرائیوں سے





