پاکستان نے 5 اور 10 سالہ یورو بانڈ جاری کرنے کا عمل شروع کردیا، عالمی قرض مارکیٹ میں واپسی کے بعد مذید 2 ارب ڈالر تک قرض لینے کی تیاری

پاکستان نے 5 اور 10 سالہ یورو بانڈ جاری کرنے کا عمل شروع کردیا، عالمی قرض مارکیٹ میں واپسی کے بعد مذید 2 ارب ڈالر تک قرض لینے کی تیاری

اسلام آباد: پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈی سے مزید قرض حاصل کرنے کے لیے 5 سال اور 10 سال کی مدت کے امریکی ڈالر میں جاری ہونے والے دو حصوں پر مشتمل یورو بانڈ کے اجرا کا عمل شروع کر دیا ہے،حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کی عالمی سرمایہ کاری منڈی میں دوبارہ رسائی مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہے
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بتایا ہے کہ مجوزہ بانڈ کا اجرا عالمی منڈی کے حالات اور سرمایہ کاروں کی طلب سے مشروط ہوگا،بانڈ کی حتمی مالیت، شرح منافع اور حاصل ہونے والی رقم کا تعین سرمایہ کاروں کے ردعمل اور اس وقت کی عالمی مالیاتی صورتحال کے مطابق کیا جائے گا
پاکستان کی جانب سے یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک نے تقریباً 4 سال کے وقفے کے بعد رواں سال اپریل میں دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں قدم رکھا تھا،حکومت نے اس وقت 3 سال کی مدت کا یورو بانڈ ابتدائی طور پر 500 ملین ڈالر میں جاری کیا تھا، تاہم سرمایہ کاروں کی توقع سے زیادہ دلچسپی کے باعث گرین شو آپشن استعمال کرتے ہوئے اسے بڑھا کر 750 ملین ڈالر کر دیا گیا،اس بانڈ پر 6.975 فیصد کوپن شرح مقرر کی گئی تھی اور اس کی مدت اپریل 2029 میں مکمل ہوگی
پاکستان نے اپریل میں 1.4 ارب ڈالر مالیت کا ایک پرانا یورو بانڈ بھی واپس کیا تھا،اس ادائیگی کے بعد حکومت نے عالمی قرض مارکیٹ میں اپنی ساکھ اور قیمت کے تعین کا ایک نیا معیار قائم کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں سے دوبارہ قرض لینے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے
تازہ مجوزہ بانڈ کی خاص بات اس کی طویل مدت ہے،اپریل میں پاکستان نے 3 سالہ بانڈ جاری کیا تھا، جبکہ اب 5 سال اور 10 سال کی مدت کے بانڈ پیش کیے جا رہے ہیں،اس سے یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کو طویل مدت کے لیے قرض دینے کے حوالے سے کس حد تک اعتماد رکھتے ہیں
پاکستان کے لیے یہ پیش رفت حالیہ خودمختار قرض کی درجہ بندی میں بہتری کے بعد سامنے آئی ہے،ایس اینڈ پی نے پاکستان کے مجوزہ بانڈ اور گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کو ’’بی‘‘ درجہ دیا ہے، جبکہ فِچ نے پروگرام اور مجوزہ ڈالر بانڈ کو ’’بی منفی‘‘ درجہ بندی دی ہے اور قرض کی وصولی کی صورت میں ’’آر آر 4‘‘ درجہ مقرر کیا ہے
حکومت کا مؤقف ہے کہ معاشی اشاریوں میں بہتری، خودمختار قرض کی درجہ بندی میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری نے پاکستان کے لیے عالمی سرمایہ منڈی تک دوبارہ رسائی ممکن بنائی ہے،وزارت خزانہ کے بجٹ منصوبوں کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پاکستان بین الاقوامی بانڈز کے ذریعے تقریباً 2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا ہدف بھی رکھتا ہے
تاہم عالمی منڈی میں اس وقت قرض لینے کی لاگت بھی ایک اہم مسئلہ ہے،عالمی بانڈ مارکیٹ میں حالیہ دنوں شدید مندی کے باعث بڑے ممالک کی بانڈ پیداوار کئی برس کی بلند سطحوں تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خدشات نے عالمی سطح پر شرح سود مزید بڑھنے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے،ایسے ماحول میں پاکستان جیسے نسبتاً کم کریڈٹ ریٹنگ والے ملک کو نئے قرض کے لیے سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع دینا پڑ سکتا ہے
یوں پاکستان کی عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی ایک طرف عالمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے، لیکن دوسری طرف یہ ملک کی بیرونی مالی ضروریات اور قرض پر انحصار کی بھی عکاسی کرتی ہے،اصل اہم سوال یہ ہوگا کہ 5 اور 10 سالہ بانڈ کے لیے پاکستان کو کتنی شرح منافع ادا کرنا پڑتی ہے اور حکومت اس قرض کو کن مالی ضروریات کے لیے استعمال کرتی ہے
اگر سرمایہ کار پاکستان کو طویل مدت کے لیے نسبتاً کم شرح پر قرض دینے پر آمادہ ہوتے ہیں تو یہ ملک کی عالمی مالیاتی ساکھ میں بہتری کی مضبوط علامت ہوگی،لیکن اگر 10 سالہ قرض کے لیے بہت زیادہ منافع طلب کیا گیا تو اس کا مطلب ہوگا کہ عالمی منڈی ابھی بھی پاکستان کے قرض کو بلند خطرے والا سمجھتی ہے اور ملک کو عالمی مالیاتی منڈی میں واپسی کے باوجود مہنگا قرض لینا پڑ رہا ہے

قومی خبریں سے مزید