کراچی:شہری اغوا ہوتے ہیں، تشدد سہتے ہیں، اکاؤنٹ خالی ہوتے ہیں اور لاشیں سڑکوں پر ملتی ہیں، شہری ریاست کی تلاش میں رات دن مصروف

کراچی:شہری اغوا ہوتے ہیں، تشدد سہتے ہیں، اکاؤنٹ خالی ہوتے ہیں اور لاشیں سڑکوں پر ملتی ہیں، شہری ریاست کی تلاش میں رات دن مصروف

کراچی میں اب جرم خبر نہیں رہا، معمول بنتا جا رہا ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ کبھی ڈاکو موٹر سائیکل پر آتے تھے، اب جدید ٹیکنالوجی، بینکنگ نظام اور شہری کی ذاتی معلومات بھی ان کے ہتھیار بن چکے ہیں،ایک شہری گھر سے کاروبار کرتا ہے، آن لائن لین دین کرتا ہے، کسی اجنبی کے لیے شاید صرف ایک نام یا موبائل نمبر ہے، مگر اچانک وہ غائب ہو جاتا ہے،پھر مبینہ طور پر اغوا، تشدد، رقم کی منتقلی اور آخر میں کہیں سڑک کنارے لاش
25 سالہ میر رضا علی کا معاملہ اسی خوفناک حقیقت کی ایک مثال بن کر سامنے آیا ہے
معروف وکیل انسانی حقوق کے علمبردار جبران ناصر نے میر رضا علی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ایسے سوالات اٹھائے ہیں جو صرف ایک قتل کی تفتیش تک محدود نہیں رہتے، ان کے مطابق میر رضا کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں کر رہا تھا، اس کے باوجود اسے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس کے مالی معاملات تک رسائی حاصل کی گئی اور پھر اسے قتل کر دیا گیا،ناصر نے تفتیش میں موجود مبینہ خامیوں اور شواہد کے تحفظ پر بھی سوال اٹھائے ہیں
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ میر رضا کے قاتل کون تھے
اصل سوال یہ ہے کہ شہری کو بچانے والی ریاست کہاں تھی؟
اگر ایک شہری کو اس کے گھر، کاروبار یا معمول کی زندگی سے اٹھایا جا سکتا ہے، اگر اسے گھنٹوں تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اگر اس کے مالی وسائل تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے اور پھر اسے قتل کر کے پھینکا جا سکتا ہے تو ریاستی رٹ کا مطلب آخر رہ کیا جاتا ہے؟
کراچی میں 2026 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران 24,195 اسٹریٹ کرائم کے واقعات رپورٹ ہوئے،صرف مئی میں 4,671 واقعات اور فائرنگ سمیت مختلف پرتشدد جرائم میں 56 ہلاکتیں ہوئیں
اعداد و شمار اب خبریں نہیں رہے،یہ شہر کے خوف کا کیلنڈر بن چکے ہیں
اور یہ صرف کراچی کی کہانی بھی نہیں
پاکستان میں بچوں کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار بھی ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کر رہے ہیں جہاں گھر، محلہ اور سڑک، تینوں جگہیں شہری کے لیے یکساں محفوظ نہیں رہیں،2026 کے پہلے چھ ماہ میں بچوں پر تشدد اور زیادتی کے کم از کم 1,914 رپورٹ شدہ واقعات سامنے آئے، جن میں جنسی زیادتی، اغوا، گمشدگی اور کم عمری کی شادی کے واقعات شامل تھے
کراچی میں کبھی چھوٹے بچوں کے اغوا اور قتل کی خبریں آتی ہیں، کبھی گھروں کے اندر بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آتے ہیں، کبھی شوہر بیوی کو قتل کرتا ہے، کبھی بیوی شوہر کو، کبھی گھریلو جھگڑا پورے خاندان کی قبریں کھود دیتا ہے
سوال پھر وہی ہے
ہم کہاں جا رہے ہیں؟
اور اس سوال کا جواب صرف یہ نہیں کہ معاشرہ خراب ہو گیا ہے
معاشرہ خلا میں خراب نہیں ہوتا،جب غربت بڑھتی ہے، روزگار کم ہوتا ہے، متوسط طبقہ سکڑتا ہے، نوجوان مایوس ہوتے ہیں اور ریاستی اداروں پر اعتماد کم ہوتا ہے تو جرائم کے لیے زمین ہموار ہوجاتی ہے،جرم بڑھتا ہے تو تشدد بڑھتا ہے،تشدد بڑھتا ہے تو خوف پیدا ہوتا ہے،خوف بڑھتا ہے تو شہری ریاست کے بجائے اپنی حفاظت کے لیے ذاتی بندوبست تلاش کرنے لگتا ہے
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی رٹ خاموشی سے مرنا شروع ہوتی ہے
پاکستان میں مسئلہ صرف جرم کا نہیں، انصاف پر اعتماد کے بحران کا بھی ہے
پولیس پر سوال ہے،عدالتوں پر سوال ہے،تفتیش پر سوال ہے،قانون کے یکساں نفاذ پر سوال ہے،سیاسی مداخلت پر سوال ہے،میرٹ پر سوال ہے
اور جب میرٹ ٹوٹتا ہے تو ادارے کمزور ہوتے ہیں،جب ادارے کمزور ہوتے ہیں تو طاقتور قانون سے زیادہ طاقتور محسوس ہونے لگتا ہے،پھر عام شہری کے لیے قانون کتاب میں رہ جاتا ہے اور طاقتور کے لیے راستہ بن جاتا ہے
پاکستان کی سیاست بھی اسی بحران کا شکار ہے
عوام سے کہا جاتا ہے کہ یہ جمہوریت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ جمہوریت کہاں ہے جس میں شہری اپنے ووٹ کے بعد اپنے تحفظ، انصاف اور بنیادی حقوق کی ضمانت بھی مانگ سکے؟
اگر یہ جمہوریت ہے تو عوامی اختیار کہاں ہے؟
اگر یہ صدارتی نظام نہیں تو اقتدار اتنا مرکزیت زدہ کیوں ہے؟
اگر یہ پارلیمانی نظام ہے تو پارلیمان اور سیاسی ادارے اتنے بے اختیار کیوں دکھائی دیتے ہیں؟
اور اگر اسے جمہوریت کہا جاتا ہے تو پھر عام شہری کو یہ احساس کیوں ہوتا جا رہا ہے کہ اس کے فیصلے، اس کی جان اور اس کا مستقبل کسی ایسے نظام کے رحم و کرم پر ہیں جس کی شکل ہی واضح نہیں؟
یہی سوال بلوچستان میں ایک اور شکل اختیار کرتا ہے، جہاں مسلح بغاوت، دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کے الزامات ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں
خیبر پختونخوا میں شدت پسندی اور سرحد پار دہشت گردی ریاست کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے
پنجاب نے ماورائے قتل عام کے ذریعے اس مسئلے کا خوفناک حل تلاش کرلیا ہے ، یہ کسی ریاست کا ایک الگ اور منفرد المیہ ہے
مگر سندھ اور کراچی کا المیہ مختلف ہے
یہاں ہر خرابی کو بیرونی سازش کہہ کر معاملہ ختم نہیں کیا جا سکتا
یہاں سوال انتظامیہ کا ہے
پولیس کا ہے
میرٹ کا ہے
سیاسی مداخلت کا ہے
شہری حکومت کا ہے
اور سب سے بڑھ کر ریاست کی ذمہ داری کا ہے
کراچی پاکستان کا معاشی دل ہے،مگر اس دل میں خوف، جرائم اور بے یقینی کا خون گردش کر رہا ہے
ایک طرف حکومتیں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کرتی ہیں، دوسری طرف شہری اپنے موبائل فون، بینک اکاؤنٹ، گاڑی اور حتیٰ کہ اپنی جان کے بارے میں بھی مطمئن نہیں
ریاستی رٹ صرف یہ نہیں کہ سرکاری دفتر کھلا ہوا ہے،جہاں بیٹھے افسران عوام سے چھینا جھپٹی میں رات دن ہمہ تن مصروف ہیں
ریاستی رٹ یہ ہے کہ شہری رات کو گھر سے نکلے تو واپس آنے کا یقین رکھتا ہو
ریاستی رٹ یہ ہے کہ کاروباری شخص کو معلوم ہو کہ اس کی محنت کسی مسلح گروہ یا جرائم پیشہ نیٹ ورک کے رحم و کرم پر نہیں
ریاستی رٹ یہ ہے کہ بچے گھر میں بھی محفوظ ہوں
اور ریاستی رٹ یہ ہے کہ اگر جرم ہو جائے تو مقتول کے خاندان کو یہ یقین ہو کہ قاتل قانون سے بچ نہیں سکے گا
میر رضا علی کا معاملہ اسی بنیادی اعتماد کا امتحان ہے
ایک نوجوان جس پر کوئی جرم ثابت نہیں تھا، اگر وہ مبینہ طور پر اغوا، تشدد اور قتل کا شکار ہو جاتا ہے تو اس کی لاش کے ساتھ صرف ایک خاندان نہیں ٹوٹتا
ریاست پر شہری کا اعتماد بھی زخمی ہوتا ہے
اور اگر یہ اعتماد مسلسل ٹوٹتا رہا تو ایک دن حکومت کے پاس عمارتیں، وردیاں، گاڑیاں اور ہتھیار تو ہوں گے، مگر وہ چیز نہیں ہوگی جو کسی ریاست کو واقعی ریاست بناتی ہے

قومی خبریں سے مزید