سونیا گاندھی کی سربراہی میں قائم کونسل ’’دماغی نکسل‘‘ قبضہ تھی، آر ایس ایس سے وابستہ جریدے کا دعویٰ
نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے یومِ آزادی کی تقریر میں قوم پر زور دیے جانے کے ایک روز بعد کہ وہ ’’دماغی نکسل‘‘ عناصر کی شناخت کریں اور انہیں الگ تھلگ کریں، آر ایس ایس سے وابستہ ہفت روزہ جریدے ’’آرگنائزر‘‘ نے اس اصطلاح کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے کانگریس کی زیر قیادت سابقہ متحدہ ترقی پسند اتحاد کے دور کی قومی مشاورتی کونسل کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے
وزیر برائے پارلیمانی امور کرن ریجیجو نے بعد ازاں وضاحت کی تھی کہ وزیر اعظم کا یہ بیان اپوزیشن رہنماؤں کے بارے میں نہیں تھا بلکہ ان افراد کے لیے تھا جو آئین کو مسترد کرتے ہیں
تاہم ’’آرگنائزر‘‘ نے اپنے تازہ شمارے میں سونیا گاندھی کی سربراہی میں قائم قومی مشاورتی کونسل کو ’’دماغی نکسل قبضہ‘‘ قرار دیا ہے اور حالیہ عوامی احتجاجوں کو ہندوتوا کے خلاف ایک وسیع تر مہم سے جوڑنے کی کوشش کی ہے
جریدے نے الزام عائد کیا ہے کہ اس مہم کے پیچھے ’’اسلام پسندوں، ماؤ نوازوں، مشنریوں، کارکنوں، غیر سرکاری تنظیموں، بعض دانشوروں اور میڈیا‘‘ کا ایک گٹھ جوڑ موجود ہے
سونیا گاندھی نے 2004 سے مئی 2006 تک قومی مشاورتی کونسل کی سربراہی کی تھی،انہوں نے ’’مفادات کے عہدے‘‘ سے متعلق تنازع کے دوران کونسل کی سربراہی اور لوک سبھا کی رکنیت دونوں سے استعفیٰ دے دیا تھا





