فائنل سے پہلے مظاہرین کا ٹرمپ اور انفینٹینو کے خلاف احتجاج، شائقین سے علامتی سرخ کارڈ دکھانے کی اپیل

فائنل سے پہلے مظاہرین کا ٹرمپ اور انفینٹینو کے خلاف احتجاج، شائقین سے علامتی سرخ کارڈ دکھانے کی اپیل

عالمی کپ کے فائنل سے قبل ایک احتجاجی اتحاد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر جانی انفینٹینو کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شائقین سے اپیل کی کہ وہ ٹرافی کی تقریب کے دوران اپنا “علامتی فیصلہ” سنائیں۔

مظاہرین نے اس مہم کے ذریعے شائقین سے کہا کہ وہ سرخ کارڈ دکھا کر اپنی ناراضی کا اظہار کریں۔ فٹبال میں سرخ کارڈ عام طور پر کسی کھلاڑی کو میدان سے باہر بھیجنے کی علامت سمجھا جاتا ہے، اسی علامت کو استعمال کرتے ہوئے مظاہرین نے سیاسی اور انتظامی اعتراضات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

احتجاج کرنے والے گروپوں کا مؤقف تھا کہ عالمی کپ جیسے بڑے کھیلوں کے مقابلوں کو صرف طاقتور شخصیات اور سیاسی نمائش کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے بلکہ اس میں انسانی حقوق، شفافیت اور کھیل کی اصل روح کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا جب فائنل کی تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی اور فیفا قیادت کے ساتھ ان کے تعلقات پر بحث جاری تھی۔ ناقدین نے عالمی کپ کے انتظام، مالی معاملات اور سیاسی اثر و رسوخ پر بھی سوالات اٹھائے۔

فیفا کے صدر جانی انفینٹینو نے حالیہ برسوں میں عالمی کپ کو مزید وسیع کرنے، نئے تجارتی مواقع پیدا کرنے اور فٹبال کو نئے خطوں تک پہنچانے پر زور دیا ہے۔ ان کے حامی اسے کھیل کی عالمی مقبولیت بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ تجارتی توسیع کے ساتھ کھیل کی بنیادی اقدار متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔

مظاہرین کی جانب سے سرخ کارڈ کی علامت استعمال کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی کھیلوں کے بڑے ایونٹس اب صرف مقابلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ سماجی اور سیاسی اظہار کے بڑے پلیٹ فارم بھی بن چکے ہیں۔

فائنل کے دوران یہ احتجاج اس بڑے سوال کو دوبارہ سامنے لے آیا کہ کیا عالمی کھیلوں کی تنظیموں کو صرف تفریح اور کاروبار پر توجہ دینی چاہیے یا انہیں انسانی حقوق اور عالمی مسائل پر بھی واضح موقف اختیار کرنا چاہیے

قومی خبریں سے مزید