Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نیویارک کے بعد لاس اینجلس بھی ڈیموکریٹک سوشلسٹس کے زیر اثر، نتھیا رمن نے موجودہ میئر کو شکست دے دی

نیویارک کے بعد لاس اینجلس بھی ڈیموکریٹک سوشلسٹس کے زیر اثر، نتھیا رمن نے موجودہ میئر کو شکست دے دی
امریکہ کے دوسرے بڑے شہر لاس اینجلس میں بھی ڈیموکریٹک سوشلسٹس نے بڑی سیاسی کامیابی حاصل کر لی ہے،ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ (DSA) کی رکن نتھیا رمن نے موجودہ میئر کیرن باس کو شکست دے کر شہر کی نئی میئر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے،اس طرح نیویارک کے بعد امریکہ کے دوسرے بڑے شہر لاس اینجلس کی میئر شپ بھی ڈیموکریٹک سوشلسٹ تحریک سے وابستہ رہنما کے پاس آ گئی ہے،نیویارک میں زہران ممدانی پہلے ہی میئر منتخب ہو چکے ہیں
45 سالہ نتھیا رمن نے 52 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ 73 سالہ کیرن باس 48 فیصد ووٹ لے سکیں،76 فیصد متوقع ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر رمن کو برتری حاصل تھی۔ کیرن باس نے جمعرات کو ٹیلی فون پر نتھیا رمن سے رابطہ کرکے اپنی شکست تسلیم کر لی اور انہیں کامیابی پر مبارک باد دی
نتھیا رمن ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کی رکن ہیں اور ان کی سیاست کا محور سستی رہائش، کرایوں پر کنٹرول، سماجی بہبود کے پروگراموں میں توسیع اور پولیس کے نظام میں اصلاحات ہیں،ان کی کامیابی کو امریکہ میں سوشلسٹ سیاست کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے
تاہم رمن کو اپنی سیاسی جماعت اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ حلقوں میں بھی مخالفت کا سامنا رہا ہے،پولیس کے بجٹ، اسرائیل سے متعلق مؤقف اور فلسطین کے حق میں بائیکاٹ تحریک کی حمایت کے معاملے پر ان کے خلاف اختلافات سامنے آئے،تنظیم کے بعض ارکان نے ان کی حمایت واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا تھا،ان کے ناقدین نے شہر میں جرائم، پولیس کی کارکردگی، بے گھر افراد اور شہری انتظامیہ سے متعلق ان کی پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے
دلچسپ بات یہ ہے کہ لاس اینجلس سٹی کونسل کے 14 میں سے 13 ارکان نے موجودہ میئر کیرن باس کی حمایت کی تھی، لیکن اس کے باوجود نتھیا رمن انتخاب جیتنے میں کامیاب ہو گئیں، نتھیا رمن نے کامیابی کے بعد لاس اینجلس عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے،
کہ وہ شہر کی نئی میئر منتخب ہونے پر انتہائی فخر محسوس کر رہی ہیں۔ انہوں نے کیرن باس کی کئی دہائیوں پر محیط عوامی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا

قومی خبریں سے مزید