انتخابات اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں موجودہ سیاسی نظام کی بھی موت ہیں
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات بھی معطل، عوامی مینڈیٹ کے بعد مقامی اختیار کا راستہ بھی بند
پشاور : خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی منتخب حکومت کو گورنر راج اور ہنگامی اقدامات کے ذریعے غیر فعال کرنے کے بعد اب صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا راستہ بھی روک دیا گیا ہے،وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 140 اے کی معطلی کا دائرہ پورے صوبے تک بڑھا دیا اور الیکشن کمیشن نے 5 نومبر کو اعلان کیا کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے لیے جاری تمام تیاریاں تا حکم ثانی روک دی گئی ہیں،یوں صوبے کے عوام نہ صرف اپنی منتخب صوبائی حکومت سے محروم ہو چکے ہیں بلکہ نچلی سطح پر اپنے نمائندے منتخب کرنے کا آئینی راستہ بھی بند ہوتا دکھائی دے رہا ہے،یہ معاملہ محض ایک انتخابی شیڈول کی منسوخی نہیں بلکہ اس بنیادی سوال سے جڑا ہے کہ ریاستی اختیار کا سرچشمہ عوام ہوں گے یا فیصلے منتخب نمائندوں کے بجائے انتظامی اور وفاقی ڈھانچے کے ذریعے کیے جاتے رہیں گے
فروری 2024 کے عام انتخابات میں خیبر پختونخوا کے عوام نے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو واضح اکثریت سے کامیاب کرایا تھا،145 رکنی صوبائی اسمبلی میں ان امیدواروں نے 91 نشستیں حاصل کیں، جو ایوان کی مجموعی نشستوں کا تقریباً 63 فیصد بنتی ہیں،یہ دو تہائی اکثریت نہیں تھی، لیکن حکومت بنانے اور صوبائی اسمبلی میں فیصلہ کن برتری کے لیے ایک مضبوط عوامی مینڈیٹ ضرور تھا،اس کے باوجود 11 اکتوبر 2026 کو وفاقی حکومت نے صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے گورنر راج لگا دیا،وفاقی حکومت نے اس اقدام کا جواز دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی حکومت کی مبینہ عدم دلچسپی کو قرار دیا، جبکہ تحریک انصاف نے اسے اپنے انتخابی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیا،اس کے بعد وزیراعلیٰ کے اختیارات غیر فعال ہوئے اور 4 نومبر کو وفاقی کابینہ کے فیصلے کے تحت گورنر فیصل کریم کنڈی کو وزیراعلیٰ کے بظاہر اختیارات بھی منتقل کر دیے گئے
اس سیاسی اور آئینی بحران کے دوران بلدیاتی انتخابات کا معاملہ بھی ایک نئی مثال بن گیا ہے،الیکشن کمیشن نے 28 اکتوبر کو فیصلہ دیا تھا کہ جن اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں وہاں انتخابات کا عمل آگے بڑھایا جائے، البتہ ان 12 اضلاع کو اس عمل سے الگ رکھا گیا تھا جہاں ہنگامی انتظامات اور امن و امان کی صورتحال کے باعث انتخابات ممکن نہیں سمجھے گئے،اس فیصلے سے کم از کم یہ توقع پیدا ہوئی تھی کہ صوبے کے باقی اضلاع میں شہریوں کو اپنے مقامی نمائندے منتخب کرنے کا موقع مل سکے گا،لیکن وفاقی حکومت نے 4 نومبر کو آرڈر نمبر 3 جاری کرتے ہوئے آرٹیکل 140 اے کی معطلی کا اطلاق ان باقی اضلاع تک بھی بڑھا دیا ہے،چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں اس حکم کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن نے قرار دیا کہ نئی صورتحال میں باقی اضلاع میں بھی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا،نتیجتاً پورے صوبے میں انتخابی تیاریاں روک دی گئیں
آئین کا آرٹیکل 140 اے محض بلدیاتی انتخابات کرانے کی ایک رسمی شق نہیں ہے،یہ صوبائی حکومتوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومتیں قائم کریں اور منتخب نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کریں،اس شق کے تحت بلدیاتی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری بھی ہے،2010 میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس شق کو آئین کا حصہ بنایا گیا تھا تاکہ مقامی حکومتیں کسی وزیراعلیٰ یا صوبائی حکومت کی مرضی اور سیاسی سہولت کی محتاج نہ رہیں،میڈیاسے گفتگو میں الیکشن کمیشن کے ایک سینئر اہلکار نے بھی واضح کیا کہ آرٹیکل 140 اے کی عدم موجودگی میں مقامی حکومتوں کے قیام، انتخابات اور اختیارات کی منتقلی کی آئینی بنیاد متاثر ہو جاتی ہے، جبکہ انتظامی اختیار گورنر کے پاس مرتکز ہو جاتا ہے
پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کا مسئلہ کسی ایک صوبے یا ایک جماعت تک محدود نہیں،سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد مقامی حکومتوں کے قیام کو اکثر اپنی سیاسی ترجیحات اور انتظامی کنٹرول کے تابع رکھتی ہیں،انتخابات میں تاخیر، قوانین میں تبدیلی، حلقہ بندیوں کے نئے تقاضے اور انتخابی شیڈول کے قریب قانون سازی ایسے حربے بن چکے ہیں جن کے ذریعے مقامی نمائندگی کا عمل بار بار متاثر ہوتا ہے،پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے یکم نومبر کو ڈان میں شائع ہونے والے اپنے تجزیے میں نشاندہی کی کہ 2010 کے بعد سے الیکشن کمیشن کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر مسلسل کشمکش کا سامنا ہے،ان کے مطابق اسلام آباد میں 2021 سے انتخابی عمل کئی مرتبہ شیڈول، نئی حلقہ بندیوں اور قانون میں تبدیلیوں کے باعث تعطل کا شکار ہوا، جبکہ پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات تقریباً 11 سال سے نہیں ہو سکے،ان کا کہنا تھا کہ حکومتیں اور اسمبلیاں انتخابی عمل کے دوران قوانین تبدیل کر کے الیکشن کمیشن کی تیاریوں کو بار بار بے اثر کر سکتی ہیں
خیبر پختونخوا میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے،صوبے کے منتخب بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مختلف مراحل میں ختم ہو چکی تھی،قانون کے تحت نئی مقامی حکومتوں کے انتخابات مقررہ مدت میں ہونے چاہییں تھے، لیکن صوبائی قانون میں تبدیلیوں اور حلقہ بندیوں کے تنازعات کے باعث یہ عمل پہلے ہی تاخیر کا شکار تھا،اب وفاقی حکومت کے نئے حکم نے اس پورے عمل کو غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا ہے،اس کا براہ راست نقصان عام شہری کو ہوگا، جسے اپنے گاؤں، محلے اور شہر کے مسائل کے لیے منتخب نمائندوں تک رسائی اور مقامی ترقیاتی منصوبوں پر اپنے ووٹ کے ذریعے اثر انداز ہونے کا موقع نہیں مل سکے گا
اس فیصلے کے سیاسی اثرات بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے،خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو حاصل ہونے والی انتخابی برتری کے بعد پہلے صوبائی حکومت کو غیر فعال کیا گیا، پھر گورنر کے ذریعے انتظامی اختیارات کی مرکزیت بڑھائی گئی اور اب مقامی حکومتوں کے انتخابات بھی روک دیے گئے ہیں،ناقدین کے نزدیک یہ اقدامات ایک ایسے طرز حکمرانی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں عوامی نمائندگی اور انتخابی جواب دہی کے بجائے انتظامی کنٹرول کو ترجیح دی جا رہی ہے،ان کے خدشات یہ بھی ہیں کہ جب سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کو انتخابی عمل سے عوامی ردعمل کا سامنا ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ انتخابی مقابلے کے بجائے قانونی اور انتظامی راستوں سے اقتدار کے ڈھانچے کو اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کرتی ہیں،تاہم کسی آئندہ انتخاب کے نتیجے یا ممکنہ دھاندلی کو پہلے سے طے شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا؛ اصل سوال یہ ہے کہ انتخابی عمل کو آزادانہ، شفاف اور بروقت بنانے کے لیے حکومتیں کیا اقدامات کرتی ہیں
جمہوری نظام میں انتخابات صرف اقتدار حاصل کرنے کا طریقہ نہیں بلکہ حکمرانوں کو عوام کے سامنے جواب دہ رکھنے کا بنیادی ذریعہ ہیں،اگر کسی حکومت کو عوامی حمایت حاصل ہے تو اسے انتخابات سے گریز کے بجائے عوام کے سامنے دوبارہ اپنا مقدمہ پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے،اسی طرح اگر عوام حکمرانوں سے ناراض ہیں تو انہیں ووٹ کے ذریعے اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے،جب انتخابات مسلسل ملتوی ہوں، منتخب ادارے غیر فعال کیے جائیں اور مقامی اختیارات بھی مرکز میں جمع ہوتے جائیں تو عوامی رائے کا عملی اثر محدود ہونے لگتا ہے،یہی وہ صورتحال ہے جس پر جمہوریت کے حامی حلقے خبردار کرتے ہیں کہ سیاسی اختلاف اور انتخابی احتساب کے راستے سکڑنے سے حکمرانی زیادہ سے زیادہ انتظامی جبر اور اختیار کے ارتکاز پر انحصار کرنے لگتی ہے
خیبر پختونخوا کا تازہ فیصلہ اسی بڑے قومی سوال کو پھر سامنے لے آیا ہے،کیا پاکستان میں عوام کو صرف عام انتخابات کے دن ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوگا، یا انہیں اپنے صوبے، شہر، ضلع اور محلے کے معاملات میں بھی منتخب نمائندوں کے ذریعے فیصلہ سازی کا اختیار دیا جائے گا؟ آئین نے مقامی حکومتوں کو محض ایک انتظامی سہولت نہیں بلکہ جمہوری نظام کا حصہ بنایا ہے،اب اس آئینی ضمانت کی معطلی نے صوبے کے عوام کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے کھڑا کر دیا ہے کہ ان کے ووٹ، ان کے منتخب نمائندوں اور ان کے مقامی اختیارات کی عملی حیثیت آخر کیا رہ گئی ہے، یہاں معاملہ اس سے بھی زیادہ اگر کہیں فکر انگیز ہے تو دلچسپ بھی کہ پاکستان میں اول تو ووٹ کبھی عوام کی امنگوں کی ترجمانی نہیں کرتا اور جیسے تیسے ووٹ کو کہیں اور کبھی موقع مل بھی جائے تو اس پر براہ راست حملہ کرکے سلب کرلیا جاتا ہے، ملک کے سیاسی سماجی دانشوروں کا خیال ہے ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں ووٹ کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کے لیے ہی نہیں اسکی حمایت کرنے والی سیاسی جماعتوں کے حق میں بھی نہیں، مگر دیکھنا یہ ہے موجود صورت حال کو آخر کب تک برقرار رکھا جاسکتا ہے کہ جس کے تسلسل سے جہاں معاشی ترقی کے دروازے بند ہیں تو وہیں ملک میں گہری ہوتی تقسیم ملکی سلامتی و بقا پر بھی نئے سے نئے سوالات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے






