ماں اور دو بہنوں کا قاتل بھی پولیس مقابلے میں مارا گیا، پاکستان میں انصاف کا راستہ گولی سے، تشدد کو تشدد سے روکنے کی کوشش تشدد کو بڑھا رہی یا کم کررہی، معاشرے میں نئی بحث
لاہور : ملتان میں اپنی ماں اور دو بہنوں کے قتل کے الزام میں گرفتار امان نامی شخص کا پولیس مقابلے میں مارا جانا ایک سنگین خاندانی قتل کی واردات کے ساتھ پاکستان کے نظامِ انصاف اور ریاستی تشدد کے بارے میں بھی ایک بار پھر کئی بنیادی سوالات کھڑے کر گیا ہے،کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مطابق ملزم نے 28 اکتوبر کو اپنی ماں اور دو بہنوں کو قتل کیا، پھر تینوں لاشوں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی تاکہ قتل کو حادثاتی آتش زدگی ظاہر کیا جا سکے،پولیس نے واقعے کی تفتیش کے بعد امان کو گرفتار کیا تھا،حکام کے مطابق اسے سی سی ڈی کی تحویل میں دیا گیا، جہاں سے وہ گزشتہ رات فرار ہوگیا، تاہم آج کہروڑ پکا میں پولیس مقابلے کے دوران مارا گیا،اس واقعے میں تین خواتین کے قتل کی سنگینی اپنی جگہ، لیکن ایک گرفتار ملزم کا پولیس تحویل سے فرار ہونا اور پھر اگلے ہی مرحلے میں مقابلے میں ہلاک ہو جانا یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ اس معاملے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کون کرے گا اور ملزم کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلانے کا موقع کیوں باقی نہیں رہا
پاکستان میں خاندانی تشدد، قتل اور خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات مسلسل خبروں میں سامنے آ رہے ہیں،کہیں باپ بیٹے کو قتل کر رہا ہے، کہیں بیٹا باپ کو، کہیں بھائی بہنوں کا دشمن بن رہا ہے اور کہیں شوہر بیوی یا والدین اپنے ہی بچوں کی جان لے رہے ہیں،ہر واقعے کے محرکات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن ان وارداتوں کو محض چند افراد کی انفرادی سفاکی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،سماجی علوم کے ماہرین کے نزدیک معاشرتی تشدد کو سمجھنے کے لیے خاندان، معاشی دباؤ، صنفی عدم مساوات، طاقت کے رشتوں، ذہنی و سماجی دباؤ، قانون کی عمل داری اور ریاستی اداروں کے رویے سمیت کئی عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے،غربت یا بے روزگاری کسی کو قاتل نہیں بناتی، لیکن معاشی عدم تحفظ، سماجی محرومی، خاندانی تنازعات اور کمزور اداروں کا امتزاج ایسے ماحول کو جنم دے سکتا ہے جہاں تنازعات حل کرنے کے بجائے تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے،اس لیے صرف مجرم کو سزا دینا کافی نہیں، معاشرے میں تشدد پیدا کرنے اور اسے معمول بنانے والے عوامل کو بھی سمجھنا ہوگا
اس بحران کا ایک دوسرا پہلو ریاست کا اپنا طرزِ عمل ہے،پنجاب میں سی سی ڈی کے قیام کا مقصد سنگین اور منظم جرائم کے خلاف کارروائی بتایا گیا تھا، لیکن اس کے پولیس مقابلوں میں ہونے والی ہلاکتوں نے انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے،انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے 17 فروری 2026 کو جاری اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ 2025 کے پہلے 8 ماہ میں سی سی ڈی کے کم از کم 670 پولیس مقابلوں میں 924 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسی عرصے میں صرف 2 پولیس اہلکار مارے گئے،کمیشن نے ان اعداد و شمار اور مختلف اضلاع میں مقابلوں کے ملتے جلتے طریقہ کار کو ایک تشویش ناک ادارہ جاتی رجحان قرار دیتے ہوئے اعلیٰ سطح کے عدالتی کمیشن سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا،کمیشن نے یہ بھی کہا کہ کئی واقعات میں پولیس کی جانب سے یہ تقریباً یکساں مؤقف سامنے آیا کہ ملزمان نے پہلے فائرنگ کی اور پولیس نے جوابی کارروائی میں انہیں ہلاک کیا،اس نے زیرِ حراست ہلاکتوں کی قانونی تحقیقات اور آزادانہ نگرانی کے نظام پر بھی سوال اٹھائے،یہ اعداد و شمار پورے سال یا پورے پاکستان کے نہیں بلکہ 2025 کے پہلے 8 ماہ میں پنجاب کے سی سی ڈی سے متعلق ہیں، لیکن ان کی سنگینی اپنی جگہ برقرار ہے
ڈان میں 2 فروری 2026 کو شائع ہونے والے اپنے تجزیے میں ماہرِ جرائم شناسی ڈاکٹر زوہا وسیم نے پولیس تشدد، ریاستی طاقت اور طبقاتی ناہمواری کے باہمی تعلق پر توجہ دلائی،ان کے تجزیے کے مطابق جب حکومتیں جرائم کے خاتمے کو صفر جرائم کی پالیسی اور سخت گیر کارروائیوں کے ذریعے دکھانا چاہتی ہیں تو پولیس پر فوری نتائج دینے کا دباؤ بڑھتا ہے،ایسے ماحول میں گرفتاری، تفتیش، شواہد جمع کرنے اور عدالت سے سزا دلوانے کے طویل قانونی عمل کے بجائے طاقت کے استعمال کو کامیابی کا پیمانہ بنایا جا سکتا ہے،ان کے مطابق پولیس مقابلوں کے بارے میں سوال صرف کسی ایک اہلکار یا ایک محکمے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سیاسی اور ادارہ جاتی ماحول تک پہنچتا ہے جو طاقت کے غیر معمولی استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے،یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کے حلقے کہتے ہیں کہ ریاست اگر قانون نافذ کرنے کے نام پر خود قانونی طریقہ کار سے انحراف کرے تو اس سے قانون کی ساکھ کمزور ہوتی ہے
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے،پولیس کا مسلح ملزمان کے خلاف دفاع میں طاقت استعمال کرنا اور کسی گرفتار شخص کی ہلاکت دو الگ معاملات ہیں،اگر کوئی ملزم پولیس پر فائرنگ کرے تو اہلکاروں کو اپنی اور شہریوں کی جان بچانے کا حق حاصل ہے، لیکن حراست میں موجود شخص کی ہلاکت کے بعد یہ جانچنا بھی لازم ہے کہ واقعے کے حالات کیا تھے، کیا واقعی فائرنگ ہوئی، اس کے شواہد کہاں ہیں، جائے وقوعہ کی آزادانہ تفتیش ہوئی یا نہیں، اور کیا قانونی و عدالتی تقاضے پورے کیے گئے؟ انسانی حقوق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اسی لیے ہر زیرِ حراست ہلاکت کی تحقیقات، ایف آئی اے کے کردار، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی نگرانی اور آزاد شہری پولیس نگرانی کے نظام کا مطالبہ کیا تھا،سی سی ڈی اپنی جانب سے جعلی مقابلوں کی پالیسی کی تردید کرتا رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیوں میں گرفتاری بنیادی مقصد ہے اور مہلک طاقت صرف مسلح مزاحمت اور فوری خطرے کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے،لیکن ایسے متضاد مؤقف کا فیصلہ پریس ریلیز یا پولیس کے بیان سے نہیں، شفاف اور آزادانہ تحقیقات سے ہونا چاہیے
تشدد کے اس وسیع مسئلے میں معاشی حالات اور حکومتی طرزِ حکمرانی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،مہنگائی، بے روزگاری، آمدنی میں عدم استحکام، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی کمی، منشیات، گھریلو تنازعات اور خواتین کے خلاف امتیازی رویے معاشرتی دباؤ میں اضافہ کر سکتے ہیں،دوسری طرف جب سیاست میں اختلاف کو برداشت کرنے، اداروں کو جواب دہ بنانے اور شہریوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے طاقت کے ذریعے قابو پانے کا رجحان غالب ہو تو معاشرے میں یہ تصور مضبوط ہو سکتا ہے کہ طاقت ہی مسئلے کا حل ہے،یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر خاندانی قتل کا سبب حکومت یا معیشت ہے، لیکن یہ بھی درست نہیں کہ معاشرتی تشدد کو ریاستی پالیسی، سماجی ڈھانچے اور اداروں کے رویوں سے الگ کرکے دیکھا جائے،حکمرانوں کی ترجیحات، پولیس کی تربیت، تفتیشی نظام، عدالتی تاخیر، سیاسی مداخلت اور قانون کی غیر مساوی عمل داری سب مل کر شہریوں کے اعتماد پر اثر انداز ہوتے ہیں
اصل سوال یہ ہے کہ کیا تشدد کو مزید تشدد کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے؟ اگر قتل کے ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا جائے تو ایک مقدمہ ضرور ختم ہو جاتا ہے، لیکن اس سے نہ مقتول خاندان کو مکمل انصاف ملتا ہے، نہ قتل کے محرکات سامنے آتے ہیں اور نہ ہی معاشرے میں تشدد کی وجوہات ختم ہوتی ہیں،قانون کی بالادستی کا مطلب یہ ہے کہ سنگین ترین جرم کے ملزم کو بھی عدالت میں صفائی کا حق حاصل ہو، شواہد کی بنیاد پر مقدمہ چلے اور سزا قانون کے مطابق دی جائے،اسی اصول سے بے گناہ شہریوں کا تحفظ اور پولیس کے اختیارات کی جواب دہی ممکن ہوتی ہے
ملتان کا یہ واقعہ تین خواتین کے قتل، ملزم کی گرفتاری، پولیس تحویل سے فرار اور پھر مقابلے میں ہلاکت، چاروں مراحل کی مکمل تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے،ساتھ ہی پنجاب میں سی سی ڈی کے پولیس مقابلوں کے بارے میں انسانی حقوق کمیشن کے اعداد و شمار اور الزامات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،اگر ریاست کا جواب ہر سنگین جرم کے بعد ایک اور ہلاکت بن جائے تو پھر معاشرے میں قانون، انصاف اور انسانی جان کی حرمت کا تصور کیسے مضبوط ہوگا؟ پاکستان کب تک ایسے نظام کے ذریعے چلایا جا سکے گا جس میں ایک طرف شہری ایک دوسرے کی جان لے رہے ہوں اور دوسری طرف ریاستی طاقت کے استعمال پر بھی مسلسل سوال اٹھ رہے ہوں؟ تشدد کے اس دائرے کو توڑنے کے لیے مجرموں کو سزا دینا ضروری ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ سزا عدالت دے، پولیس نہیں،اور حکومتیں جرائم کے اسباب ختم کرنے، شہریوں کو تحفظ دینے اور اپنے اداروں کو جواب دہ بنانے کی ذمہ داری پوری کریں، اور ایسے تمام انسانی اخلاقی ریاستی آئینی و قانونی طریقے پاکستان میں انتہای تیز رفتاری سے ناپید و عنقا ہوتے چلے جارہے ہیں






