سینیٹ کی دو ریاستوں میں کانٹے دار مقابلہ، الاسکا میں ایک ہی نام کے دو امیدواروں نے انتخابی تنازع کو عدالت تک پہنچا دیا
واشنگٹن: امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے بعد سینیٹ کی دو ریاستوں، مسیسیپی اور الاسکا، میں مقابلہ انتہائی معمولی ووٹوں کے فرق سے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے،مسیسیپی میں ڈیموکریٹ امیدوار اسکاٹ کولوم ریپبلکن سینیٹر سنڈی ہائیڈ اسمتھ سے صرف 1,138 ووٹ آگے ہیں، جبکہ الاسکا میں سابق ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس میری پیلٹولا کو ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان پر 626 ووٹوں کی برتری حاصل ہے،دونوں ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی ابھی مکمل نہیں ہوئی اور کسی امیدوار کی کامیابی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا،ان نتائج نے سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کے حجم کے بارے میں بھی غیر یقینی برقرار رکھی ہے، کیونکہ ان دونوں نشستوں کے نتائج حتمی اکثریت کے تعین پر اثر انداز ہو سکتے ہیں
مسیسیپی میں جمعرات کی صبح تک تقریباً 95.6 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی تھی،دستیاب نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ اسکاٹ کولوم کو 464,926 ووٹ ملے، جبکہ ریپبلکن امیدوار اور موجودہ سینیٹر سنڈی ہائیڈ اسمتھ نے 463,788 ووٹ حاصل کیے،آزاد امیدوار ٹائی پنکنز تقریباً 19,934 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں،یہ مقابلہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ مسیسیپی طویل عرصے سے ریپبلکن جماعت کا مضبوط انتخابی مرکز رہا ہے اور 1982 کے بعد کسی ڈیموکریٹ نے اس ریاست سے سینیٹ کی نشست نہیں جیتی،کولوم کی موجودہ برتری برقرار رہتی ہے تو یہ ریاست کی سیاسی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی
تاہم گنتی ابھی باقی ہے،ریاستی حکام کے مطابق تقریباً 3,600 ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے بیلٹ ابھی موصول ہونا باقی تھے، جبکہ حلف نامے کے تحت ڈالے گئے ووٹوں کی جانچ اور تصدیق کا عمل بھی جاری ہے،ایسے ووٹوں کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے 10 نومبر تک کا وقت دیا گیا ہے اور کاؤنٹیوں کو 13 نومبر تک اپنے نتائج کی تصدیق کرنی ہے،ریاست میں خودکار دوبارہ گنتی کا قانون موجود نہیں، تاہم امیدوار عدالت سے رجوع کر کے دوبارہ گنتی کی درخواست کر سکتا ہے،اس لیے محض چند سو یا ایک ہزار سے کچھ زیادہ ووٹوں کی برتری کو حتمی کامیابی نہیں سمجھا جا سکتا
الاسکا میں مقابلہ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ صورت اختیار کر گیا ہے،سابق ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس میری پیلٹولا نے ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان پر 626 ووٹوں کی برتری حاصل کر رکھی ہے،ابتدائی سرکاری اعداد و شمار میں 401 میں سے 394 پولنگ مقامات کے نتائج شامل تھے، لیکن یہ ریاست کے تمام قابلِ شمار ووٹوں کی نمائندگی نہیں کرتے،الاسکا میں ڈاک کے ذریعے آنے والے، بیرون ملک موجود فوجی اہلکاروں اور دیگر زیرِ تصدیق بیلٹ کی گنتی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں،ریاستی انتخابی حکام کے مطابق بیرون ملک سے بھیجے گئے بیلٹ 18 نومبر تک وصول کیے جا سکتے ہیں اور اگر کوئی امیدوار ابتدائی مرحلے میں 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہ کر سکا تو 18 نومبر کو ترجیحی ووٹنگ کے دوسرے مرحلے کی گنتی کی جائے گی،ریاستی نتائج کی حتمی تصدیق 25 نومبر کے لیے متوقع ہے
الاسکا کے انتخابی مقابلے کو غیر معمولی بنانے والا ایک اہم معاملہ ایک دوسرے امیدوار کی موجودگی ہے جس کا نام بھی ڈین سلیوان ہے،ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ڈینیئل جے سلیوان جونیئر نے مئی میں سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا،ان کا نام موجودہ ریپبلکن سینیٹر ڈین ایس سلیوان سے بہت ملتا جلتا ہے،دونوں امیدواروں کے ناموں کی مماثلت نے انتخابی مہم کے دوران یہ سوال اٹھایا کہ آیا ووٹر غلطی سے ایک سلیوان کو دوسرے کے بجائے ووٹ دے سکتے ہیں،ڈینیئل جے سلیوان جونیئر کے بارے میں انتخابی تنازعہ اس وقت مزید بڑھا جب ریپبلکن سینیٹر اور ان کی جماعت نے الزام لگایا کہ ان کی انتخابی مہم کا مقصد ووٹروں کو الجھانا اور اصل سینیٹر کے ووٹ تقسیم کرنا تھا،ڈینیئل سلیوان نے ان الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ وہ اپنے قانونی نام کے تحت انتخاب لڑ رہے ہیں
اس معاملے میں محکمہ انصاف نے بھی مداخلت کی،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر 22 اکتوبر کو محکمہ انصاف نے وفاقی عدالت میں درخواست دائر کی کہ اگر ڈین سلیوان میری پیلٹولا سے کم ووٹ حاصل کریں اور دونوں امیدواروں کے درمیان فرق ڈینیئل جے سلیوان کے ووٹوں سے کم ہو تو ریاست کو نتائج کی تصدیق سے روک دیا جائے،محکمہ انصاف کا مؤقف تھا کہ ایک ہی نام کے دو امیدواروں کی موجودگی ووٹروں میں الجھن پیدا کر سکتی ہے اور انتخابی نتیجے کی شفافیت متاثر ہو سکتی ہے،صدر ٹرمپ نے بھی اس معاملے کو انتخابی دھاندلی قرار دیتے ہوئے میری پیلٹولا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا
الاسکا کی وفاقی جج شیرون گلیسن نے یکم نومبر کو محکمہ انصاف کی درخواست مسترد کر دی،ان کے مطابق وفاقی حکومت نے عدالت میں یہ ثابت نہیں کیا کہ اسے اس نوعیت کی درخواست دائر کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے، اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ اگر بعض ووٹوں کے بارے میں الجھن کا دعویٰ ہے تو انہیں دوسرے ووٹوں سے الگ کر کے ووٹروں کی رازداری برقرار رکھتے ہوئے کس طرح جانچا جا سکتا ہے،جج نے مقدمہ قانونی بنیادوں پر خارج کیا، نہ کہ اس بنیاد پر کہ ناموں کی مماثلت کے بارے میں محکمہ انصاف کے تمام الزامات غلط ثابت ہو گئے ہیں،محکمہ انصاف نے اسی روز فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا نوٹس دے دیا،اس طرح انتخابی نتیجے کی تصدیق سے متعلق قانونی تنازعہ بھی جاری ہے
اس تنازع کو مزید پیچیدہ نیویارک ٹائمز کی 28 اکتوبر کو شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ نے بنایا،اخبار کے مطابق میری پیلٹولا کے انتخابی حلقے سے وابستہ بعض سیاسی کارکنوں نے ڈین سلیوان کے نام سے ایک امیدوار کو انتخاب میں حصہ لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی،رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ کوشش صرف ایک امیدوار تک محدود نہیں تھی بلکہ دوسرے ممکنہ امیدواروں کو بھی میدان میں لانے کے لیے رابطے کیے گئے تاکہ ریپبلکن سینیٹر کے ووٹ تقسیم ہو سکیں،اخبار نے سابق انتخابی مہم مینیجر کے بیانات اور دستاویزات کا حوالہ دیا، تاہم اس سابق عہدیدار نے بعد میں اپنے بعض بیانات واپس لینے کی کوشش بھی کی،پیلٹولا نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی دوسرے ڈین سلیوان کو انتخاب میں لانے کی کوشش کا علم نہیں تھا اور نہ ہی وہ ووٹروں کو دھوکا دینے میں دلچسپی رکھتی ہیں،ان کی انتخابی مہم اور ڈیموکریٹک سینیٹوریل کمپین کمیٹی نے بھی امیدواروں کی بھرتی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے
الاسکا کے انتخابی نظام میں ایک اہم بات ترجیحی ووٹنگ ہے،اگر کوئی امیدوار پہلے مرحلے میں 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کرتا تو سب سے کم ووٹ لینے والے امیدوار کو مقابلے سے باہر کر کے اس کے ووٹروں کی دوسری ترجیحات شمار کی جاتی ہیں،یہ عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کوئی امیدوار 50 فیصد سے زیادہ حمایت حاصل نہ کر لے،اس لیے ڈینیئل جے سلیوان کے ووٹوں کو براہ راست موجودہ سینیٹر کے ووٹ سمجھنا درست نہیں ہوگا،ہر ووٹر کی دوسری ترجیح بھی اہم ہے،انتخابی قانون کے ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ ترجیحی ووٹنگ میں اگر کوئی ووٹر غلطی سے پہلے ڈینیئل سلیوان کو منتخب کر لے لیکن دوسری ترجیح میں موجودہ سینیٹر کو رکھتا ہو تو اس کا ووٹ اگلے مرحلے میں منتقل ہو سکتا ہے،یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کا حتمی اثر صرف دونوں امیدواروں کے ناموں کی مماثلت سے متعین نہیں کیا جا سکتا
دونوں ریاستوں کے نتائج اس وسط مدتی انتخاب کی وسیع تر سیاسی اہمیت بھی ظاہر کرتے ہیں،مسیسیپی میں ایک ڈیموکریٹ امیدوار کا روایتی ریپبلکن نشست پر معمولی برتری حاصل کرنا اور الاسکا میں میری پیلٹولا کا موجودہ ریپبلکن سینیٹر کے ساتھ تقریباً برابر مقابلہ کرنا اس انتخاب میں دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی علامت ہے،اب ان ریاستوں میں باقی ووٹوں کی گنتی، قانونی کارروائی اور الاسکا میں ترجیحی ووٹنگ کے ممکنہ دوسرے مرحلے پر سب کی نظریں مرکوز ہیں،فی الحال دونوں نشستوں کا فیصلہ باقی ہے اور ان کے نتائج ہی بتائیں گے کہ ڈیموکریٹس کی سینیٹ میں اکثریت کتنی مضبوط ہوتی ہے






