امریکی انتخابات میں مقامی قبائلی آبادی کی تاریخی پیش قدمی، ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں جماعتوں سے مقامی امریکی کانگریس، سینیٹ اور ریاستی حکومتوں میں منتخب
رپورٹ : آفاق فاروقی
واشنگٹن: امریکہ کے 2026 کے مڈٹرم انتخابات میں مقامی امریکی قبائلی آبادی، جسے Native Americans یا Indigenous Americans کہا جاتا ہے، کے امیدواروں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں،ان کامیابیوں میں نیو میکسیکو کی پہلی مقامی امریکی خاتون گورنر، امریکی سینیٹ کی پہلی مقامی امریکی خاتون رکن اور اوکلاہوما کے لیفٹیننٹ گورنر کا انتخاب خصوصی اہمیت رکھتے ہیں
اب تک کی تصدیق شدہ نمایاں کامیابیوں میں 7 امیدوار شامل ہیں، جن میں 4 ڈیموکریٹ اور 3 ریپبلکن ہیں
ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے سب سے بڑی تاریخی کامیابی نیو میکسیکو میں ڈیبی ہالینڈ نے حاصل کی،وہ لگونا پیوبلو قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں اور امریکہ کی تاریخ کی پہلی مقامی امریکی خاتون گورنر منتخب ہوئی ہیں،انہوں نے ریپبلکن امیدوار گریگ ہل کو شکست دی،ہالینڈ اس سے قبل صدر جو بائیڈن کی کابینہ میں وزیر داخلہ بھی رہ چکی ہیں
مینیسوٹا میں لیفٹیننٹ گورنر پیگی فلاناگن نے امریکی سینیٹ کا انتخاب جیت کر ایک اور تاریخ رقم کی،وہ وائٹ ارتھ نیشن سے تعلق رکھتی ہیں اور امریکی تاریخ کی پہلی مقامی امریکی خاتون سینیٹر بن گئی ہیں،انہوں نے ریپبلکن امیدوار مشیل ٹافویا کو شکست دی
کانگریس کے انتخابات میں نیویارک سے کلیئر ویلڈیز نے کامیابی حاصل کی،وہ یسلٹا ڈیل سور پیوبلو سے تعلق رکھتی ہیں اور نیویارک سے کانگریس منتخب ہونے والی پہلی مقامی امریکی خاتون بن گئی ہیں،کنساس سے ڈیموکریٹ شارائس ڈیوڈز نے بھی اپنی نشست برقرار رکھی،وہ ہو چنک نیشن سے تعلق رکھتی ہیں اور کانگریس میں سب سے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والی مقامی امریکی خاتون ہیں
ریپبلکن پارٹی کی جانب سے اوکلاہوما میں ٹی ڈبلیو شینن لیفٹیننٹ گورنر منتخب ہوئے،وہ چکاسو نیشن سے تعلق رکھتے ہیں اور اس عہدے پر منتخب ہونے والے پانچویں مقامی امریکی ہیں،انہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت بھی حاصل تھی
اوکلاہوما ہی سے ریپبلکن کانگریس مین جوش بریچین اور ٹام کول نے بھی دوبارہ کامیابی حاصل کی،بریچین چوکٹاو جبکہ ٹام کول چکاسو نیشن سے تعلق رکھتے ہیں
اس طرح نمایاں طور پر تصدیق شدہ 7 کامیابیوں میں 4 ڈیموکریٹس اور 3 ریپبلکن شامل ہیں،ان میں ایک گورنر، ایک لیفٹیننٹ گورنر، ایک سینیٹر اور 4 ایوان نمائندگان کے ارکان شامل ہیں
ان کامیابیوں کے علاوہ انڈیئن کنٹری ٹوڈے (ICT) اور ایڈوانس نیٹو پولیٹیکل لیڈرشپ کے انتخابی ریکارڈ میں ایریزونا، الاسکا، مونٹانا، اوکلاہوما، نیو میکسیکو اور دیگر ریاستوں کے مقامی امریکی امیدواروں کی سینیٹ، ریاستی اسمبلیوں، کمیشنوں اور دیگر عہدوں پر کامیابیوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں،ان ریاستی نشستوں کے تمام حتمی نتائج کی الگ الگ تصدیق ابھی ضروری ہے، اس لیے 7 کو پورے ملک میں منتخب ہونے والے مقامی امریکیوں کی حتمی مجموعی تعداد قرار نہیں دیا جا سکتا
یہ انتخابی نتائج اس لحاظ سے اہم ہیں کہ امریکہ کی مقامی قبائلی آبادی کی سیاسی نمائندگی اب صرف ایک جماعت تک محدود نہیں رہی،ڈیموکریٹ اور ریپبلکن دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار اعلیٰ ریاستی اور وفاقی عہدوں تک پہنچے ہیں





