امریکی مڈٹرم انتخابات میں سینیٹ کی اکثریت کا فیصلہ کرنے کے لیے 14 ریاستوں کے مقابلے غیرمعمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں،یو ایس اے ٹوڈے کی 3 نومبر کی رپورٹ کے مطابق انتخابی مہم کے آغاز میں ڈیموکریٹس کے لیے سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا تھا، لیکن اب سیاسی حالات نے انہیں ایک مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے اور ریپبلکنز کی اکثریت خطرے میں پڑ گئی ہے
اس وقت ریپبلکنز کو سینیٹ میں 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری حاصل ہے، تاہم ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ وہ یہ فرق ختم کرکے ایوان بالا کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں،اس انتخابی تبدیلی کے پیچھے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت، ایران کے ساتھ جنگ کے باعث پٹرول کی بڑھتی قیمتیں اور مہنگائی کے حوالے سے عوامی ناراضی اہم عوامل قرار دیے جا رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق شمالی کیرولائنا اور جارجیا میں ریپبلکنز کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس الاسکا، ٹیکساس اور اوہائیو سمیت ان ریاستوں میں بھی ریپبلکن نشستیں چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں ٹرمپ نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی،ڈیموکریٹس کے لیے اپنی دو نشستوں کا دفاع بھی ایک اہم چیلنج ہے
سینیٹ کا کنٹرول تبدیل ہونے کی صورت میں ٹرمپ کو اپنی صدارت کے باقی دو برسوں میں قانون سازی، اہم سرکاری تقرریوں اور انتظامی پالیسیوں پر عمل درآمد کے حوالے سے سخت سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے 14 ریاستوں کے یہ انتخابی معرکے محض چند نشستوں کی جنگ نہیں بلکہ واشنگٹن میں آئندہ دو برس کے سیاسی اقتدار اور صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کے مستقبل کا فیصلہ بھی کریں گے






