پینٹاگون کی 90 روزہ جنگی تیاری، 40 ملکوں میں ہنگامی ذخیرے کی ہدایات اور ٹکر کارلسن کا ایران پر ایٹمی حملے کا دعویٰ؛ کیا دنیا ایک نئی جوہری جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے؟
واشنگٹن میں قومی سلامتی سے متعلق یکے بعد دیگرے سامنے آنے والے اقدامات نے ایک غیر معمولی بحث چھیڑ دی ہے،پینٹاگون کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں کو 90 دن تک بیرونی مدد کے بغیر فعال رکھنے کی حکمت عملی، اہم فوجی سازوسامان، ایندھن، الیکٹرانک پرزوں، سیمی کنڈکٹرز، نایاب معدنیات، اسلحے اور طبی وسائل کے ذخائر مضبوط کرنے کا منصوبہ، سابق اعلیٰ امریکی تفتیشی عہدیدار کی شہریوں کو تین دن کا ہنگامی سامان رکھنے کی ہدایت اور اب معروف امریکی سیاسی مبصر ٹکر کارلسن کا ایران کے زیرِ زمین جوہری مرکز پر امریکی ایٹمی حملے کا خدشہ، یہ تمام واقعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے خلاف دوبارہ بڑی فوجی کارروائی کے امکانات پر بحث جاری ہے،تاہم ان واقعات کو ایک ہی خفیہ جنگی منصوبے کا حصہ قرار دینے کے لیے ابھی کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں
پینٹاگون کی نئی حکمت عملی کا نام ’’فورٹریس امریکہ‘‘ (FORTRESS America) ہے،اس منصوبے کی تفصیلات اکتوبر کے آخری ہفتے میں سامنے آئیں،اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر کسی بڑے عالمی تنازعہ میں امریکہ کے بجلی کے نظام، مواصلاتی نیٹ ورک، تجارتی رسد، صنعتی پیداوار یا بیرونی سپلائی لائنوں کو نقصان پہنچے تو بھی امریکی فوجی اڈے اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں،منصوبے میں فوجی تنصیبات کو شہری بجلی کے نظام پر انحصار سے نکالنے، متبادل توانائی، چھوٹے جوہری بجلی گھروں، بیٹریوں اور مائیکرو گرڈز کے امکانات، سائبر حملوں سے تحفظ اور فوجی پیداوار کے متبادل ذرائع پر توجہ دی گئی ہے
اس حکمت عملی کا سب سے اہم پہلو 90 دن کی خود کفالت کا ہدف ہے،اس کے تحت فوجی تنصیبات کو ایسے حالات کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جب بیرونی امداد اور معمول کی رسد کئی ہفتوں یا مہینوں تک متاثر رہے،پینٹاگون کے منصوبے میں گولہ بارود، میزائل، ایندھن، اہم معدنیات، الیکٹرانک آلات، اضافی پرزوں اور طبی سامان کے اسٹریٹیجک ذخائر بھی شامل ہیں،فوجی صنعت کے لیے کم از کم دو متبادل سپلائی ذرائع رکھنے اور ضرورت پڑنے پر شہری صنعتوں کو دفاعی پیداوار میں تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے،اس تفصیل کی تصدیق 25 اکتوبر کی فاکس نیوز رپورٹ اور اس کے بعد کی دفاعی شعبے کی رپورٹنگ سے ہوتی ہے
لیکن اس اعلان کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ نے تین ماہ کے اندر کسی مخصوص ملک پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،یہ فوجی اڈوں کی بقا، سپلائی لائنوں کے تحفظ اور طویل جنگ کی صورت میں امریکی فوج کی صلاحیت برقرار رکھنے کا منصوبہ ہے،پینٹاگون نے اسے کسی ایک ملک، بالخصوص ایران، کے خلاف مخصوص کارروائی قرار نہیں دیا،البتہ ایران کے ساتھ طویل فوجی تصادم اور عالمی سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں کے پس منظر میں اس منصوبے کو اہمیت ضرور حاصل ہو جاتی ہے
اس معاملے کا دوسرا پہلو امریکی شہریوں کو تین دن کا کھانا، پانی، ادویات اور ضروری سامان گھر میں رکھنے کی ہدایت ہے،یہاں ایک اہم تصحیح ضروری ہے،جس شخصیت کا نام اس حوالے سے سامنے آیا ہے وہ ڈین بونجینو (Dan Bongino) ہیں، انہوں نے اپنے پروگرام میں امریکی خاندانوں کو مشورہ دیا کہ وہ کم از کم 72 گھنٹے کے لیے خوراک، پانی، بیٹریاں، ہنگامی ریڈیو، پانی صاف کرنے کے آلات اور ضروری سامان اپنے پاس رکھیں،ان کا پیغام تھا کہ ہنگامی صورت حال میں ہر خاندان کو ابتدائی تین دن اپنے وسائل پر انحصار کرنے کے قابل ہونا چاہیے
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا 40 ملکوں نے اچانک اپنے شہریوں کو جنگ کی تیاری کا حکم دیا ہے؟ اس دعوے کی حقیقت کچھ مختلف ہے،اکتوبر 2026 میں سوشل میڈیا پر یہ تاثر پھیلا کہ تقریباً 40 ملکوں نے بیک وقت اپنے شہریوں کو تین دن کا سامان جمع کرنے کی ہدایت دی ہے،لیکن 3 نومبر کو سامنے آنے والی فیکٹ چیک تحقیق کے مطابق اس دعوے میں پرانی ہدایات، نئی مہمات اور مختلف ملکوں کی معمول کی شہری حفاظتی پالیسیوں کو ایک ساتھ ملا دیا گیا ہے،یورپی یونین نے مارچ 2025 میں ہی اپنی تیاری کی حکمت عملی کے تحت شہریوں کو کم از کم 72 گھنٹے کے لیے خوراک، پانی، ادویات اور ضروری سامان رکھنے کی سفارش کی تھی،اس کے بعد کئی یورپی ملکوں نے اپنی قومی سطح کی آگاہی مہمات شروع کیں یا ان میں تبدیلی کی
امریکہ میں بھی تین دن کا ہنگامی سامان رکھنے کی ہدایت کوئی نئی چیز نہیں،فیما، فوڈ سیفٹی حکام اور دیگر سرکاری ادارے برسوں سے شہریوں کو قدرتی آفات، بجلی کی بندش، سیلاب، طوفان، سائبر حملوں اور ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیتے آئے ہیں،جاپان، کینیڈا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں بھی ایسی ہدایات موجود ہیں، البتہ ان کی مدت اور نوعیت مختلف ہے،بعض ملک تین دن، بعض ایک ہفتہ اور جرمنی دس دن تک کے ذخیرے کی سفارش کرتا ہے،اس لیے 40 ملکوں کی ہدایات کو کسی آنے والے عالمی ایٹمی حملے کا پیشگی اعلان قرار دینا درست نہیں
تاہم اس پوری بحث میں سب سے زیادہ تشویش ٹکر کارلسن کے 2 نومبر کے بیان نے پیدا کی،انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کے خلاف دوبارہ بڑی فوجی کارروائی اور حتیٰ کہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں،کارلسن کے مطابق ممکنہ ہدف ایران کا پِک ایکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain) ہے، جو نطنز کے قریب ایک انتہائی محفوظ زیرِ زمین تنصیب ہے
کارلسن کا دعویٰ تھا کہ یہ تنصیب تقریباً 300 فٹ ٹھوس چٹان کے نیچے واقع ہے اور روایتی امریکی بم اسے مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکتے،ان کے مطابق اگر واشنگٹن اس مرکز کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا آپشن زیرِ غور لانا پڑ سکتا ہے،انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو روزانہ ٹرمپ سے اس معاملے پر رابطہ کر رہے ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف سفارتی معاہدے کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے حامی ہیں،کارلسن نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ 7 نومبر تک اس بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں
لیکن کارلسن کے بیان میں ایک بنیادی مسئلہ ہے،انہوں نے اپنے دعوے کی بنیاد ایک نامعلوم باخبر ذریعے پر رکھی ہے،انہوں نے کوئی دستاویزی ثبوت، امریکی فوجی منصوبہ بندی کی تصدیق یا کسی سرکاری عہدیدار کا ایسا بیان پیش نہیں کیا جس سے ثابت ہو کہ وائٹ ہاؤس نے ایران پر ایٹمی حملے کا فیصلہ کیا ہے،اس لیے ان کی بات کو ایک سنگین سیاسی و عسکری انتباہ تو کہا جا سکتا ہے، لیکن امریکی حکومت کی مصدقہ پالیسی نہیں
کارلسن کے دعوے کے برعکس صدر ٹرمپ اس سے پہلے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کو مسترد کر چکے ہیں،اکتوبر میں نیوزمیکس کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے اور روایتی ہتھیاروں سے بھی مطلوبہ فوجی اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں،2 نومبر کو جب ان سے انتخابی عمل کے بعد ایران پر نئی کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا،وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی کارلسن کے دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر کے پاس مختلف آپشن موجود ہیں اور وہ امریکی عوام کے تحفظ کے لیے مناسب فیصلہ کریں گے،اس بیان میں ایٹمی حملے کی منظوری یا تیاری کی تصدیق نہیں کی گئی
پِک ایکس ماؤنٹین کے معاملے میں البتہ عسکری ماہرین کی تشویش حقیقی ہے،واشنگٹن کے تحقیقی ادارے سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کے مطابق یہ تنصیب نطنز سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پہاڑی علاقے میں تعمیر کی جا رہی ہے،اس کے زیرِ زمین حصے کی گہرائی کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں، جن میں تقریباً 80 سے 100 میٹر تک کی گہرائی بھی شامل ہے،اس نوعیت کی چٹانی پناہ گاہ کو روایتی ہتھیاروں سے مکمل طور پر تباہ کرنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ کے پاس صرف ایٹمی حملے کا راستہ باقی رہ جاتا ہے،امریکی فوج کے پاس GBU-57 نامی تقریباً 30 ہزار پاؤنڈ وزنی انتہائی طاقتور روایتی بنکر بسٹر بم موجود ہے، جسے بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیارے سے استعمال کیا جا سکتا ہے،اس ہتھیار کو خاص طور پر زیرِ زمین مضبوط فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے،اس کے علاوہ فوجی حکمت عملی میں سرنگوں کے داخلی راستوں، ہوا کی آمدورفت کے نظام، بجلی کی فراہمی اور دیگر معاون ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کے امکانات بھی زیرِ بحث رہے ہیں
انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کے ڈیوڈ آلبرائٹ اور ان کے ساتھیوں کی 16 اکتوبر کی سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی تحقیق ایک اہم حقیقت سامنے لاتی ہے،ان کے مطابق 7 اکتوبر کی تصاویر میں پِک ایکس ماؤنٹین کے مشرقی سرنگوں کے داخلی راستے مٹی سے بند دکھائی دیتے ہیں، جبکہ مغربی راستوں پر بھی رکاوٹیں موجود ہیں،ان کے تجزیے کے مطابق اس وقت یہ تنصیب فعال افزودگی کے مرکز کے طور پر کام کرتی ہوئی نظر نہیں آ رہی،تاہم وہاں قیمتی آلات، سینٹری فیوجز یا ان کے پرزے منتقل کیے جانے کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا
یہی وہ مقام ہے جہاں ایٹمی حملے کے دعوے اور حقیقی فوجی ضرورت کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے،کسی زیرِ زمین تنصیب کو تباہ کرنے کے لیے جوہری ہتھیار استعمال کرنا لازمی نہیں،روایتی بموں، سرنگوں کے راستوں کی تباہی اور بجلی و مواصلات کے نظام کو ناکارہ بنانے کے ذریعے بھی کسی تنصیب کو طویل مدت تک غیر فعال کیا جا سکتا ہے،CSIS اور جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین کی تحقیق بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ پِک ایکس کو نقصان پہنچانا مشکل ضرور ہے، لیکن اسے ناکارہ بنانے کے لیے جوہری حملہ واحد راستہ نہیں
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ واقعی دوبارہ ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تکنیکی اور قانونی اختیار کے اعتبار سے امریکی صدر کے پاس جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا اختیار موجود ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا فیصلہ عسکری، سیاسی اور سفارتی نتائج سے آزاد ہو گا،دوسری جنگ عظیم میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد امریکہ نے جنگ میں دوبارہ جوہری ہتھیار استعمال نہیں کیے،ایران کے خلاف ایسا کوئی اقدام جدید عالمی نظام میں ایک انتہائی خطرناک مثال قائم کرے گا
امریکی عسکری تجزیہ کاروں کے نزدیک ایٹمی حملے کے ممکنہ نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے،اگر پِک ایکس ماؤنٹین پر جوہری ہتھیار استعمال کیا گیا تو فوری تباہی، شدید تابکاری، زمین اور پانی کی آلودگی اور ممکنہ طور پر پورے خطے میں انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے،خلیج فارس کے قریب جغرافیائی حالات کے باعث تابکاری کے اثرات کا سوال خاص طور پر اہم ہو گا،اس کے ساتھ آبنائے ہرمز، تیل کی عالمی ترسیل، خلیجی ممالک کی معیشت اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی عالمی مثال ہو گی،اگر امریکہ کسی دوسرے ملک کے خلاف دوبارہ ایٹمی ہتھیار استعمال کرتا ہے تو روس، چین، شمالی کوریا اور دیگر جوہری طاقتوں کے لیے عالمی سطح پر اس اقدام کو اپنے مفادات کے حق میں استعمال کرنا آسان ہو سکتا ہے،روس اور یوکرین، بھارت اور پاکستان، اور شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان موجود کشیدگی میں جوہری دھمکیوں کی اہمیت بڑھ سکتی ہے،تاہم یہ کہنا کہ پہلے ایٹمی حملے کے فوراً بعد تیسری عالمی جنگ لازمی ہو جائے گی، ایک تجزیاتی پیش گوئی ہے، کوئی یقینی حقیقت نہیں
امریکہ کے اندر تین دن کا کھانا اور پانی رکھنے کی ہدایت کو بھی اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے،امریکہ کی جغرافیائی پوزیشن، دو بڑے سمندروں کے درمیان واقع ہونا، وسیع فضائی و بحری دفاع، میزائلوں کی نگرانی اور جدید دفاعی نظام اسے ایران جیسے ملک کے براہِ راست روایتی حملے سے نسبتاً محفوظ بناتے ہیں،لیکن اس کا مطلب مکمل تحفظ نہیں،سائبر حملے، بجلی اور پانی کے نظام میں خلل، مواصلاتی بندش، دہشت گردی، تجارتی سپلائی میں رکاوٹ اور قدرتی آفات ایسے خطرات ہیں جن سے امریکی شہری اور فوجی تنصیبات متاثر ہو سکتی ہیں،اسی لیے پینٹاگون اپنے فوجی اڈوں کو شہری نظام سے الگ خود کفیل بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ فیما عام شہریوں کو ابتدائی تین دن کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیتی ہے
امریکہ کا میزائل دفاعی نظام، فضائی نگرانی اور گولڈن ڈوم جیسے منصوبے دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر سکتے ہیں، لیکن کوئی بھی دفاعی نظام ہر ممکن میزائل، سائبر حملے یا دوسرے خطرے کو روکنے کی سو فیصد ضمانت نہیں دیتا،اس لیے شہریوں کے لیے ہنگامی سامان رکھنا کسی مخصوص جنگ کی پیش گوئی نہیں بلکہ جدید قومی سلامتی کی پالیسی کا حصہ ہے
اس پورے معاملے کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں اس کی فوجی حکمت عملی صرف بیرونِ ملک جنگ لڑنے تک محدود نہیں رہی بلکہ ملک کے اندر بجلی، صنعت، ٹیکنالوجی، مواصلات اور رسد کے نظام کو بھی ممکنہ عالمی تصادم کے لیے محفوظ بنانے پر زور دیا جا رہا ہے،ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ کا امکان اس پس منظر کو مزید حساس بناتا ہے، لیکن پینٹاگون کا 90 روزہ منصوبہ، 40 ملکوں کی شہری حفاظتی ہدایات اور ٹکر کارلسن کا ایٹمی حملے کا دعویٰ تین الگ نوعیت کے معاملات ہیں
فی الحال دستیاب شواہد یہ ثابت نہیں کرتے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر ایٹمی حملے کا فیصلہ کر لیا ہے،البتہ پِک ایکس ماؤنٹین کی غیر معمولی گہرائی، ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل، امریکی روایتی ہتھیاروں کی حدود اور اسرائیلی دباؤ کے دعووں نے اس سوال کو دوبارہ عالمی سیاست میں بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے ، ایسے میں اصل امتحان یہ ہو گا کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتا ہے یا ایک ایسی فوجی کارروائی کی طرف بڑھتا ہے جس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے کہیں آگے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں






