Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

مڈٹرم انتخابات کے روز ٹرمپ کا اسرائیل کو سالانہ 4 ارب ڈالر کی امداد بند کرنے کا اعلان، کیا ریپبلکنز نے ڈیموکریٹس کا انتخابی ہتھیار چھین لیا؟ مشی گن کی اہم سینیٹ نشست پر بھی نظر

مڈٹرم انتخابات کے روز ٹرمپ کا اسرائیل کو سالانہ 4 ارب ڈالر کی امداد بند کرنے کا اعلان، کیا ریپبلکنز نے ڈیموکریٹس کا انتخابی ہتھیار چھین لیا؟ مشی گن کی اہم سینیٹ نشست پر بھی نظر

امریکی مڈٹرم انتخابات کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل سے متعلق ایک ایسا اعلان کیا ہے جس کے انتخابی سیاست پر اثرات مرتب کرنے کی کوشش واضح دکھائی دیتی ہے،ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ رواں سال کے اختتام پر اسرائیل کو سالانہ 4 ارب ڈالر کی امداد دینا بند کر دے گا اور اس سلسلے میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ کئی ماہ پہلے اتفاق ہو چکا ہے،صدر کے مطابق اسرائیل اب معاشی اور دفاعی اعتبار سے اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ اسے امریکی امداد کی ضرورت نہیں رہی، تاہم ضرورت پڑنے پر واشنگٹن اس کی مدد جاری رکھے گا اور اسرائیل امریکہ سے ہتھیار خریدنے کے لیے آزاد ہوگا
اس اعلان کی اہمیت صرف امریکہ اسرائیل تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اس کا ایک براہ راست انتخابی پہلو بھی ہے،ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں خود اس سیاسی مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹک امیدوار اسرائیل کو امریکی امداد دینے کے معاملے کو ریپبلکنز کے خلاف استعمال کرتے ہیں،انہوں نے خصوصاً مشی گن کے ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار عبدل السید کا نام لیا، جو اسرائیل کو غیر مشروط فوجی امداد دینے کے مخالف ہیں،ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ جب امداد ہی بند ہو جائے گی تو ڈیموکریٹس کے پاس ریپبلکن امیدواروں کے خلاف یہ انتخابی نکتہ باقی نہیں رہے گا
یہاں ٹرمپ کے بیان کا انتخابی وقت غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے،مشی گن ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد، غزہ کی جنگ اور مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی انتخابی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں،عبدل السید نے اپنی انتخابی مہم میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم کو اسرائیل کی غیر مشروط فوجی معاونت کے بجائے امریکی شہریوں کی ضروریات پر خرچ ہونا چاہیے،ٹرمپ نے اسی مؤقف کو ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے لیے انتخابی نقصان کا باعث بننے والا نکتہ قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی کوشش کی ہے
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی عوام میں اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے رائے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے،جون میں ہونے والے کوئنی پیاک یونیورسٹی کے سروے میں 48 فیصد امریکی ووٹرز نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کی ضرورت سے زیادہ حمایت کر رہا ہے، جبکہ ڈیموکریٹک ووٹرز میں یہ شرح 66 فیصد تھی،2017 میں یہی سوال پوچھے جانے پر مجموعی ووٹروں میں صرف 16 فیصد اور ڈیموکریٹس میں 20 فیصد نے امریکہ کی اسرائیل کے لیے حمایت کو ضرورت سے زیادہ قرار دیا تھا،یہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اسرائیل کو امریکی امداد کا معاملہ اب صرف ڈیموکریٹک جماعت کے اندرونی اختلافات تک محدود نہیں رہا بلکہ وسیع تر امریکی انتخابی بحث کا حصہ بن چکا ہے
تاہم انتخابی ماہرین کے سامنے ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ کا یہ اعلان واقعی ریپبلکن امیدواروں کے لیے ووٹ حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اسرائیل کی امداد بند کرنے کا اعلان ان ووٹرز کو متوجہ کر سکتا ہے جو طویل عرصے سے امریکی ٹیکس کی رقم بیرون ملک فوجی امداد پر خرچ کرنے کے مخالف ہیں،اس میں نوجوان ووٹرز، ترقی پسند ڈیموکریٹس اور ٹرمپ کے بعض قدامت پسند حامی بھی شامل ہیں،اس طرح ٹرمپ ایک ایسے معاملے کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر ان کی اپنی جماعت کے اندر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں
لیکن اس اعلان کے انتخابی اثرات کی ایک دوسری تصویر بھی ہے،ایسوسی ایٹڈ پریس کی انتخابی رپورٹنگ کے مطابق مڈٹرم انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹس نے اپنی آخری مہم میں مہنگائی، گھریلو اخراجات اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کو مرکزی موضوع بنایا، جبکہ ریپبلکنز نے ڈیموکریٹک امیدواروں کو انتہا پسند قرار دینے کی کوشش کی،اسی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی مہنگائی سے نمٹنے کی کارکردگی کو صرف 17 فیصد اور مجموعی معاشی کارکردگی کو 26 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل تھی،اس پس منظر میں اسرائیلی امداد بند کرنے کا اعلان ریپبلکنز کو ایک سیاسی نکتہ ضرور فراہم کرتا ہے، لیکن اس سے مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں سے متعلق ووٹروں کی شکایات خودبخود ختم نہیں ہوتیں
مشی گن کی سینیٹ کی دوڑ میں یہ معاملہ مزید اہم ہو گیا ہے،سابق ڈیموکریٹک امیدوار ہیلی اسٹیونز نے اپنی جماعت کے امیدوار عبدل السید کی حمایت چھوڑ کر ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کیا تھا،اس پیش رفت نے ڈیموکریٹک جماعت کے اندر اسرائیل اور غزہ کے معاملے پر اختلافات کو نمایاں کر دیا،تاہم واشنگٹن پوسٹ کی 2 نومبر کی رپورٹ کے مطابق السید کی انتخابی مہم نے اس واقعے کے بعد اتوار کو 2.4 ملین ڈالر جمع کیے اور جماعت کے مطابق رضاکاروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کا معاملہ ڈیموکریٹس کے لیے نقصان کے ساتھ اپنے حامیوں کو متحرک کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے
تیل کی قیمتوں میں کمی اور انتخابی سیاست کا تعلق،ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی،رائٹرز کے مطابق 3 نومبر کو برینٹ خام تیل کی قیمت 3.3 فیصد کمی کے بعد 101.32 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 2.2 فیصد کمی کے بعد 94.30 ڈالر تک آ گئی تھی،تاہم اس کمی کو صرف اسرائیل کی امداد بند کرنے کے اعلان کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا،ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت، قطر کی ثالثی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے امکانات بھی تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے تھے،اس لیے مارکیٹ کی گراوٹ میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی امید ایک اہم عنصر تھی
امداد بند کرنے کے اعلان میں ایک بڑا قانونی اور عملی سوال بھی موجود ہے،امریکہ اور اسرائیل کے درمیان 2016 میں طے پانے والے دس سالہ مفاہمتی معاہدے کے تحت 2019 سے 2028 تک 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد کا فریم ورک موجود ہے، جس میں سالانہ 3.8 ارب ڈالر شامل ہیں،رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس معاہدے کو ختم کرنے یا تبدیل کرنے کا عملی طریقہ کیا ہوگا،امریکی کانگریس کو ہر سال امداد کی فراہمی کے لیے بجٹ کی منظوری بھی دینا ہوتی ہے،وائٹ ہاؤس اور نیتن یاہو کے دفتر نے رائٹرز کی جانب سے وضاحت طلب کرنے پر فوری جواب نہیں دیا،مزید یہ کہ نیتن یاہو ماضی میں امریکی امداد کو بتدریج ختم کرنے کی بات کر چکے ہیں، لیکن ان کا سابقہ مجوزہ ٹائم فریم تقریباً دس سال تھا، نہ کہ چند ہفتے
انتخابی نتائج پر اس اعلان کے اثرات کا حتمی اندازہ ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی لگایا جا سکے گا،یہ بھی اہم ہے کہ پیر تک 57 ملین سے زیادہ امریکی پہلے ہی اپنا ووٹ ڈال چکے تھے، اس لیے انتخابات کے روز آنے والا اعلان ان ووٹروں کے فیصلے تبدیل نہیں کر سکتا تھا جو پہلے ہی ووٹ دے چکے تھے،البتہ آخری وقت میں ووٹ ڈالنے والے افراد پر اس کا اثر پڑنے کا امکان موجود ہے
سیاسی طور پر ٹرمپ نے اسرائیل کو سالانہ 4 ارب ڈالر کی امداد کا معاملہ ڈیموکریٹس کے خلاف انتخابی ہتھیار بننے سے روکنے کی کوشش کی ہے،لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ آیا امریکی ووٹر اس اعلان کو ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی سمجھتے ہیں یا اسے انتخابی مہم کے آخری روز کی سیاسی حکمت عملی قرار دیتے ہیں،ایک بات واضح ہے کہ اسرائیل کی امداد اب امریکی سیاست میں دونوں بڑی جماعتوں کے لیے محض خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ کانگریس کے کنٹرول کی جنگ میں بھی اہم انتخابی موضوع بن چکی ہے
اس خبر میں سب سے مضبوط انکشاف یہ ہے کہ ٹرمپ نے خود تسلیم کیا کہ امداد بند کرنے سے ڈیموکریٹس کا انتخابی مؤقف کمزور کرنا بھی ان کے فیصلے کا مقصد ہے،البتہ ابھی یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اس اعلان سے ریپبلکنز کو کتنی نشستیں یا کتنے ووٹ ملیں گے،مشی گن کی نیویارک ٹائمز۔سینا پولنگ اور انتخابی نتائج کو اس دعوے کے ساتھ الگ رکھنا ضروری ہے

قومی خبریں سے مزید