انتخابات کے روز ایران پر امریکی حملوں نے ٹرمپ کے لیے نیا سیاسی امتحان :تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ، ووٹرز کی ناراضگی،ری پبلکنز کے لیے خطرہ
واشنگٹن:صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران کے ساتھ 8 ماہ سے جاری جنگ، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی رکاوٹ اور ایندھن کی بلند قیمتیں امریکی ووٹرز کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں،انتخابات سے ایک روز قبل امریکی افواج نے ایران کے جزیرے قشم پر نئے فضائی حملے کیے، جنہیں امریکی حکام نے تجارتی جہازوں اور امریکی فوجیوں کے تحفظ کے لیے دفاعی کارروائی قرار دیا ہے
رائٹرز کی 3 نومبر کی رپورٹ کے مطابق ان حملوں کی خبر سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا،امریکی خام تیل WTI تقریباً 96.66 ڈالر فی بیرل جبکہ بین الاقوامی معیار برینٹ کروڈ 104.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا،اس سے ایک روز قبل سفارتی پیش رفت کی امید پر دونوں اقسام کے تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی،تازہ حملوں نے سرمایہ کاروں میں یہ خدشہ دوبارہ پیدا کر دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ طویل ہو سکتی ہے اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل مزید متاثر ہو سکتی ہے
امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (AAA) کے مطابق 2 نومبر کو امریکا میں عام پٹرول کی قومی اوسط قیمت 4.17 ڈالر فی گیلن تھی،یہ قیمت گزشتہ برس کے مقابلے میں خاصی بلند ہے اور مہنگے ایندھن کا دباؤ ان لاکھوں خاندانوں پر پڑ رہا ہے جو روزانہ گاڑیوں کے ذریعے کام پر جاتے ہیں،کونسل آن فارن ریلیشنز کے تجزیے کے مطابق ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی برآمدات متاثر کی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز سے عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل وابستہ ہے
تیل کی آئندہ قیمتوں کے حوالے سے گولڈمین ساکس نے اپنا تخمینہ بڑھاتے ہوئے دسمبر کے لیے برینٹ کروڈ کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل مقرر کی ہے، جبکہ اس کے خطرے سے متعلق ایک منظرنامے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک کی تیل پیداوار طویل عرصے تک متاثر رہی تو 2027 میں برینٹ کروڈ 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتا ہے،تاہم یہ یقینی پیش گوئی نہیں بلکہ جنگ اور سپلائی میں مسلسل رکاوٹ برقرار رہنے سے مشروط خدشہ ہے،دوسری جانب تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق قشم پر حملے کی خبر نے تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی خطرات کے باعث اضافی پریمیم دوبارہ شامل کر دیا ہے، اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی امید قیمتوں میں مزید اضافے کو محدود کر رہی ہے
انتخابی اثرات کے حوالے سے رائٹرز اور اِپسوس کے سروے کے اعدادوشمار ٹرمپ انتظامیہ کے لیے تشویش کا باعث ہیں،اکتوبر میں کیے گئے ایک سروے میں 78 فیصد امریکیوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کی ذمہ داری ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر بھی عائد ہوتی ہے،اس سے پہلے اپریل کے ایک سروے میں 77 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک ٹرمپ پر ڈالی تھی، جبکہ 58 فیصد نے کہا تھا کہ وہ ایران جنگ کی حمایت کرنے والے امیدواروں کو ووٹ دینے کے حوالے سے کم آمادہ ہوں گے
سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کے نزدیک انتخابات کے دن نئے امریکی حملوں کی خبر صدر ٹرمپ کے لیے ایک اضافی سیاسی مسئلہ بن سکتی ہے، کیونکہ ووٹرز کے لیے جنگ محض خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ پٹرول، مہنگائی اور گھریلو اخراجات سے براہ راست جڑ چکی ہے،تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ قشم پر حملوں کی تازہ خبر نے کتنے ووٹروں کا فیصلہ تبدیل کیا ہے،اصل انتخابی اثر اس بات سے سامنے آئے گا کہ ووٹرز ایران جنگ، ایندھن کی قیمتوں اور صدر ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی کو اپنے ووٹ میں کس حد تک اہمیت دیتے ہیں






