سوشل میڈیا پر بچوں کو تشدد اور خودکشی پر اکسانے والا عالمی نیٹ ورک بے نقاب، پاکستان کے بچے بھی نشانے پر
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بچوں کو اپنے جال میں پھنسانے والے ایک خطرناک عالمی نیٹ ورک نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے یہ گروہ کم عمر بچوں اور نوجوانوں کو نفسیاتی دباؤ، بلیک میلنگ اور جذباتی ہتھکنڈوں کے ذریعے نہ صرف خود کو نقصان پہنچانے بلکہ دوسرے انسانوں اور جانوروں پر تشدد کرنے کے لیے بھی اکساتا ہے اس نیٹ ورک کا نام 764 ہے، جسے تشدد کو ایک آن لائن کھیل اور مقابلے کی شکل دینے والے گروہوں میں شمار کیا جاتا ہے
اس گروہ کی سرگرمیوں کا ایک تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس کا کوئی واضح سیاسی یا مذہبی مقصد نہیں بلکہ تشدد، انسانی زندگی کی بے حرمتی اور معاشرتی اقدار کو تباہ کرنا اس کی سرگرمیوں کا بنیادی حصہ ہے اس کے ارکان اپنے درمیان مقام اور حیثیت بڑھانے کے لیے خود کو یا دوسروں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں
اس نیٹ ورک کا آغاز 2021 میں امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر اسٹیفن وِل سے ہوا تھا اس کے بانی بریڈلی کیڈن ہیڈ تھے، جو آن لائن فیلکس کے نام سے سرگرم تھے۔ انہوں نے صرف 15 سال کی عمر میں یہ گروہ قائم کیا تھا بعد ازاں انہیں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد رکھنے کے جرم میں 80 سال قید کی سزا سنائی گئی، لیکن ان کی گرفتاری کے باوجود یہ نیٹ ورک ختم نہیں ہوا بلکہ مختلف ممالک میں پھیلتا چلا گیا
اس گروہ کے ارکان بچوں کو تلاش کرنے کے لیے ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن کھیلوں کو استعمال کرتے ہیں جہاں کم عمر صارفین بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں مائن کرافٹ اور روبلوکس جیسے کھیلوں کے ذریعے بچوں سے رابطہ قائم کیا جاتا ہے، جبکہ بعد میں انہیں ڈسکارڈ اور ٹیلی گرام جیسے پلیٹ فارمز پر منتقل کر دیا جاتا ہے
ابتدا میں گروہ کے ارکان بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرتے ہیں، انہیں توجہ دیتے ہیں اور بعض اوقات محبت یا دوستی کا جھانسہ بھی دیتے ہیں جب بچے ان پر اعتماد کرنے لگتے ہیں تو ان سے ذاتی معلومات اور تصاویر حاصل کی جاتی ہیں بعد ازاں انہی تصاویر اور معلومات کو خاندان یا دوستوں کے سامنے ظاہر کرنے کی دھمکی دے کر انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے
اس بلیک میلنگ کے ذریعے بچوں کو خود کو نقصان پہنچانے، اپنے پالتو جانوروں پر تشدد کرنے اور بعض حالات میں دوسرے انسانوں کے خلاف جرائم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے بعض متاثرہ بچوں کو مزید بچوں سے رابطہ کرنے اور انہیں بھی اسی جال میں پھنسانے کا حکم دیا جاتا ہے یوں ایک متاثرہ بچہ خود دوسرے بچوں کے لیے خطرہ بننے پر مجبور ہو جاتا ہے
پاکستان میں بھی اس نیٹ ورک سے منسلک ایک انتہائی تشویشناک واقعہ سامنے آ چکا ہے۔ 2026 میں کراچی کی ایک 14 سالہ لڑکی کو آن لائن رابطوں کے ذریعے اس حد تک بلیک میل کیا گیا کہ اسے اپنی پالتو بلی کو تشدد کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے پر مجبور کیا گیا گروہ کے ارکان نے اس واقعے کی تصاویر حاصل کرنے کے بعد لڑکی کو مزید نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیں اور اسے خود کو زخمی کرنے پر اکسانے کی کوشش کی
پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو ایک غیر ملکی تحقیقاتی ادارے کی اطلاع کے بعد اس معاملے کا علم ہوا تفتیش کاروں نے انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس کے ذریعے لڑکی تک رسائی حاصل کی، اس کے زیر استعمال ڈیجیٹل آلات قبضے میں لیے اور اسے مزید استحصال سے محفوظ کیا حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران پاکستان کے علاوہ امریکا، آسٹریلیا اور برطانیہ میں بھی اس نیٹ ورک سے متاثرہ افراد کے بارے میں معلومات سامنے آئیں
اس گروہ کی سرگرمیاں صرف بلیک میلنگ تک محدود نہیں امریکی ریاست اوریگن میں ایک 16 سالہ نوجوان کی جانب سے اسکول میں فائرنگ کے نتیجے میں 3 طلبہ اور ایک استاد ہلاک ہوئے اسی ریاست میں اس سے ایک سال پہلے ایک 14 سالہ نوجوان کو شاپنگ مال میں بڑے پیمانے پر فائرنگ اور خودکشی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فلپائن میں جون 2026 کے ایک اسکول فائرنگ کے واقعے میں بھی 14 اور 15 سال کے 2 مشتبہ نوجوانوں پر 3 طلبہ کو ہلاک اور 20 کو زخمی کرنے کا الزام سامنے آیا۔ ان واقعات کو 764 نیٹ ورک سے جوڑنے کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔
امریکا میں اس نیٹ ورک کو قومی سلامتی کے لیے انتہائی سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے امریکی حکام کے مطابق اس گروہ سے متعلق تحقیقات کی تعداد 250 سے تجاوز کر چکی تھی امریکا میں اسے کم عمر بچوں کے استحصال، بلیک میلنگ اور تشدد کے واقعات سے منسلک کیا گیا ہے اس کی سرگرمیوں کی سرحد پار نوعیت کے باعث کینیڈا اور نیوزی لینڈ میں بھی اسے دہشت گرد تنظیم کے طور پر درج کیا گیا ہے
764 دراصل دی کام (The Com) نامی ایک بڑے آن لائن نیٹ ورک کا حصہ ہے، جس میں مختلف گروہ شامل ہیں ان میں بعض گروہ نسل پرستانہ، انتہا پسندانہ اور تشدد پسند نظریات رکھتے ہیں ان گروہوں کے درمیان رابطوں اور سرگرمیوں کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ ایک گروہ کے خلاف کارروائی کے باوجود دوسرے ناموں سے ایسی سرگرمیاں جاری رہ سکتی ہیں
ماہرین کے نزدیک اس خطرے کا مقابلہ صرف انٹرنیٹ پر پابندیاں لگانے سے ممکن نہیں والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں، نئے دوستوں اور نامعلوم افراد سے ہونے والی گفتگو پر توجہ دینی چاہیے بچوں کو یہ اعتماد بھی دینا ضروری ہے کہ اگر کوئی انہیں تصاویر یا ذاتی معلومات کے ذریعے بلیک میل کرے تو وہ خوف یا شرمندگی کے بغیر اپنے والدین اور متعلقہ حکام کو اطلاع دے سکتے ہیں
اس معاملے میں اسکولوں، والدین، سوشل میڈیا کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ بچوں کو آن لائن استحصال سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں خاص طور پر روبلوکس، مائن کرافٹ اور دیگر آن لائن کھیلوں کے ذریعے نامعلوم افراد سے رابطوں کے خطرات سے بچوں کو آگاہ کرنا ضروری ہے
یہ واقعات اس بات کا انتباہ ہیں کہ انٹرنیٹ پر بچوں کی حفاظت اب صرف والدین کا گھریلو معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے اگر بروقت نگرانی، آگاہی اور قانونی کارروائی نہ کی گئی تو ایسے خفیہ نیٹ ورک کم عمر بچوں کو نفسیاتی، جسمانی اور مجرمانہ سرگرمیوں کا شکار بنا سکتے ہیں






