Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں نوجوان نسل کی بڑی آمد، ایک سال میں سرمایہ کاروں کی تعداد 48 فیصد بڑھ گئی

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں نوجوان نسل کی بڑی آمد، ایک سال میں سرمایہ کاروں کی تعداد 48 فیصد بڑھ گئی

پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی (Gen Z) اور ملینیلز کی دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور موبائل ایپس کے ذریعے حصص کی خرید و فروخت آسان ہونے کے بعد نوجوانوں کی بڑی تعداد نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری شروع کر دی ہے اس رجحان کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے کاروباری اداروں کو ملک کے اندر سے سرمایہ حاصل کرنے اور عام شہریوں کو کاروباری ترقی میں حصہ دار بننے کا موقع مل سکتا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 کے اختتام تک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے منفرد شناختی نمبروں کی تعداد 656,218 تک پہنچ گئی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 48 فیصد زیادہ ہے جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران 193,147 نئے اکاؤنٹس کھولے گئے، جبکہ صرف ستمبر میں 25,281 نئے اکاؤنٹس کا اندراج ہوا
یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل اب روایتی بچت کے طریقوں کے ساتھ ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری کی طرف متوجہ ہو رہی ہے کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد میں نئے سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد سامنے آئی ہے، تاہم ڈیجیٹل بروکریج ایپس اور بینکنگ سہولتوں کی وجہ سے دوسرے شہروں کے شہریوں کے لیے بھی سرمایہ کاری ممکن ہو رہی ہے
اس کے باوجود خواتین اور مردوں کی سرمایہ کاری میں نمایاں فرق موجود ہے۔ نئے اکاؤنٹس میں مردوں کا حصہ تقریباً 87 فیصد جبکہ خواتین کا حصہ صرف 13 فیصد ہے اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کو مالی معاملات کی تعلیم اور اسٹاک مارکیٹ تک رسائی دینے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کے مطابق ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کے لیے سرمایہ کاری کے اکاؤنٹس کھولنے اور حصص کی خرید و فروخت کو زیادہ آسان بنا دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو درست فیصلے کرنے کے لیے کمپنیوں کی مالی معلومات، خطرات اور مواقع کے بارے میں شفاف اور بروقت معلومات فراہم کرنا بھی ضروری ہے
کمیشن نے ملک میں سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھا کر 25 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں میں مالی معاملات اور سرمایہ کاری سے متعلق آگاہی پروگرام شروع کرنے کا منصوبہ بھی بنایا جا رہا ہے نوجوانوں کو ذاتی مالی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کی بنیادی سمجھ دینے کے لیے پاکستان کے انسٹی ٹیوٹ آف فنانشل مارکیٹس کے ذریعے مفت آن لائن کورسز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیچھے گزشتہ مالی سال کی غیر معمولی کارکردگی بھی ایک اہم وجہ ہے مالی سال 2025-26 کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 43.5 فیصد اضافہ ہوا اور 30 جون کو یہ 180,302 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ ایک سال پہلے اس کی سطح 125,627 پوائنٹس تھی جنوری 2026 میں انڈیکس 189,167 پوائنٹس کی تاریخی بلند ترین اختتامی سطح تک بھی پہنچا تھا
حکام کا خیال ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اسٹاک مارکیٹ کی طرف لانے سے پاکستان میں کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ حاصل کرنے کے نئے راستے کھل سکتے ہیں اس وقت ملک میں بہت سے نوجوان اضافی رقم آن لائن سرمایہ کاری کے مختلف طریقوں، خصوصاً کرپٹو کرنسی میں لگاتے ہیں حکومت اور مالیاتی نگران ادارے چاہتے ہیں کہ ایسے نوجوانوں کو باقاعدہ اور قانونی سرمایہ مارکیٹ کی طرف راغب کیا جائے
اسی مقصد کے تحت سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن ایک موبائل ایپ تیار کر رہا ہے جس کے ذریعے صرف 6 مراحل میں سرمایہ کاری کا اکاؤنٹ کھولا جا سکے گا نئے نظام میں طویل تصدیقی کارروائی کو آسان بنانے کے لیے سرمایہ کار کی شناخت اور موبائل فون کی تصدیق بنیادی تقاضے ہوں گے، جبکہ دیگر ضروری معلومات بینک اکاؤنٹ سے حاصل کی جائیں گی اس کے بعد سرمایہ کار کسی لائسنس یافتہ بروکر کا انتخاب کرکے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی خرید و فروخت شروع کر سکیں گے
ماہرین کے مطابق نئے سرمایہ کاروں کی آمد سے اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا حجم اور مالی سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں جب سرمایہ کاری چند بڑے سرمایہ کاروں تک محدود رہنے کے بجائے لاکھوں عام شہریوں تک پھیلتی ہے تو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی بنیاد وسیع ہوتی ہے اور کمپنیوں کو مقامی سطح پر سرمایہ حاصل کرنے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں
تاہم اس بڑھتی ہوئی دلچسپی کے ساتھ ایک بڑا خطرہ بھی موجود ہے اسٹاک مارکیٹ میں حصص کی قیمتیں مسلسل اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں اور گزشتہ سال کا منافع مستقبل میں بھی منافع کی ضمانت نہیں ہوتا۔ غیر تجربہ کار نوجوان اگر فوری اور زیادہ منافع کے لالچ میں بغیر معلومات کے سرمایہ کاری کریں تو انہیں بھاری نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے
ماہرین نے زور دیا ہے کہ نئے سرمایہ کاروں کو طویل مدت کی سرمایہ کاری اور مختصر مدت کی قیاس آرائی کے درمیان فرق سمجھنا چاہیے بروکرز کی ذمہ داری بھی اہم ہوگی کہ وہ پہلی مرتبہ سرمایہ کاری کرنے والوں کو مارکیٹ کے طریقہ کار، ممکنہ خطرات اور محفوظ فیصلوں کے بارے میں عملی رہنمائی فراہم کریں
پاکستان کے لیے اصل کامیابی صرف نئے اکاؤنٹس کھولنے میں نہیں بلکہ عام شہریوں کا اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد قائم رکھنے میں ہوگی اگر سرمایہ کاروں کو درست معلومات، مالی تعلیم اور مناسب تحفظ فراہم کیا جائے تو نوجوان نسل کی یہ شمولیت ملکی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ پاکستان میں بچت اور سرمایہ کاری کے کلچر کو بھی تبدیل کر سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید