ایم کیو ایم کا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے سڑکوں پر تحریک چلانے کا اعلان، 29 نومبر کو کراچی میں بڑا جلسہ ہوگا
کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے پر عوامی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے پارٹی کے سربراہ اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اعلان کیا ہے کہ اس سلسلے میں 29 نومبر کو کراچی کی شاہراہ فیصل پر ایک بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا جس کے ذریعے نئے انتظامی یونٹس اور آئینی و انتظامی اصلاحات کے مطالبے کو آگے بڑھایا جائے گا
کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں کے ایم سی پارک میں منعقدہ کارکنوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ محروم طبقات جاگیردارانہ نظام اور خاندانوں کی سیاست کے خلاف متحد ہوں ان کے مطابق ملک کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کو بہتر حکمرانی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے
خالد مقبول صدیقی نے مطالبہ کیا کہ آئین کے تحت سندھ سمیت ملک کے چاروں صوبوں میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے عوامی ریفرنڈم کرایا جائے تاکہ لوگوں کی رائے معلوم کی جاسکے ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام ملک کی ضرورت بن چکا ہے اور سیاسی طاقت اور قومی وسائل چند بااثر خاندانوں تک محدود رہنے کے بجائے عام شہریوں اور محلوں تک پہنچنے چاہئیں
انہوں نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر عام شہریوں اور محنت کش طبقے کو پارلیمان میں مؤثر نمائندگی حاصل نہیں تو ایسے جمہوری نظام کو حقیقی معنوں میں عوامی نمائندہ قرار نہیں دیا جاسکتا
مجوزہ نئے صوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت بھارت سے آنے والے مہاجروں نے اپنے آبائی علاقوں میں جائیدادیں اور اثاثے چھوڑ کر نئے ملک کے لیے قربانیاں دی تھیں
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے موجودہ 4 صوبوں کا انتظامی ڈھانچہ چند سیاسی خاندانوں کی بالادستی برقرار رکھنے کا ذریعہ بن چکا ہے ان کے مطابق شہری مسائل اور عوامی شکایات کے حل کے لیے اختیارات اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے
فاروق ستار نے سندھ میں گزشتہ 18 سال سے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ صوبے میں انتظامی تبدیلیوں کی ضرورت ہے انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام سندھ کی ثقافتی شناخت کے خلاف ہوگا ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم سندھ کی ثقافت، روایات، اجرک اور سندھی ٹوپی کا احترام کرتی ہے اور ان روایات کو اپناتی رہے گی
سابق میئر کراچی وسیم اختر نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں متحد رہیں کنونشن میں ایم کیو ایم کے سینئر رہنماؤں سید امین الحق، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی، رابطہ کمیٹی کے ارکان اور بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی
اس تحریک کا اہم سیاسی پہلو یہ ہے کہ ایم کیو ایم ایک مرتبہ پھر سندھ کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے کو سیاسی بحث کے مرکز میں لانے کی کوشش کررہی ہے تاہم اس مطالبے پر سندھ میں پہلے ہی سیاسی اختلافات موجود ہیں پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ کی قوم پرست جماعتیں صوبے کی تقسیم یا نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرتی رہی ہیں
اب 29 نومبر کا جلسہ اس بات کا اہم امتحان ہوگا کہ ایم کیو ایم اپنے اس مطالبے کے لیے کتنی عوامی حمایت حاصل کرپاتی ہے اور آیا یہ تحریک محض سیاسی جلسوں تک محدود رہتی ہے یا ملک کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے ایک بڑی سیاسی مہم کی شکل اختیار کرتی ہے






