ٹیکساس جو کبھی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے امریکہ کی پسندیدہ ریاست تھی، اب مقامی مخالفت نے بڑے ٹیکنالوجی منصوبوں کا راستہ روک دیا
ٹیکساس میں ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعمیر کے خلاف مقامی آبادی کی مزاحمت نے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں،ریاست جو چند سال پہلے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے امریکہ کی بہترین جگہ سمجھی جاتی تھی، اب وہاں نئے منصوبوں کے لیے مقامی آبادی کی رضامندی حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے
اس تبدیلی کی ایک مثال کیلیفورنیا میں قائم کمپنی بارَپ آن ایل ایل سی (BaRupOn LLC) کا منصوبہ ہے، جس نے 2023 میں مشرقی ٹیکساس میں تقریباً 700 ایکڑ اراضی خریدی تھی،کمپنی اس جگہ ایک وسیع صنعتی کمپلیکس تعمیر کرنا چاہتی تھی، جس میں متعدد ڈیٹا سینٹرز، نایاب زمینی معدنیات کی تیاری کے کارخانے اور بجلی پیدا کرنے کے اپنے پاور پلانٹس بھی شامل تھے
کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر بالاجی تامابٹولا کے مطابق ابتدا میں ٹیکساس کی ریاستی حکومت نے اس منصوبے کا خیرمقدم کیا اور گورنر گریگ ایبٹ کا دفتر کمپنی کے ساتھ قریبی رابطے میں رہا،ان کے بقول گورنر کے دفتر کے اہلکار مستقبل کے منصوبوں کے لیے موزوں مقامات تجویز کرتے تھے اور یہ بھی بتاتے تھے کہ کن کاؤنٹی حکام سے رابطہ کیا جائے
کمپنی کو سرمایہ کاری کے لیے سرکاری مراعات اور ٹیکس میں چھوٹ حاصل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی،تامابٹولا کے مطابق گورنر کا دفتر اس قدر قریب سے تعاون کر رہا تھا کہ اس نے لبرٹی، ٹیکساس میں مجوزہ صنعتی کمپلیکس کو ایک خفیہ شناختی نام بھی دیا تھا، جسے ’’پروجیکٹ ٹف‘‘ (Project Tough) کہا جاتا تھا
تاہم ڈیٹا سینٹرز کے خلاف بڑھتی ہوئی مقامی مزاحمت نے اس شعبے کی سرمایہ کاری کے روایتی طریقۂ کار کو تبدیل کرنا شروع کردیا ہے،پہلے ڈویلپرز کے لیے ریاستی حمایت، زمین اور ٹیکس مراعات حاصل کرنا بنیادی ضرورت ہوتی تھی، لیکن اب انہیں منصوبوں کی منظوری کے لیے مقامی آبادی کو بھی اعتماد میں لینا پڑ رہا ہے





