ٹرمپ انتظامیہ کو الاسکا میں سینیٹ انتخابات کے نتائج روکنے کی کوشش پر عدالتی شکست، ریپبلکن امیدوار ہارے تو نتائج کی تصدیق رکوانے کا مقدمہ خارج
الاسکا میں امریکی سینیٹ کے اہم انتخابی معرکے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو وفاقی عدالت سے بڑا دھچکا لگا ہے،ایک وفاقی جج نے انتظامیہ کا وہ غیر معمولی مقدمہ خارج کر دیا ہے جس کے ذریعے کوشش کی جا رہی تھی کہ اگر ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان انتخاب ہار جائیں تو انتخابی نتائج کی سرکاری تصدیق روک دی جائے
وفاقی جج شیرون گلیسن نے اتوار کو جاری فیصلے میں قرار دیا کہ وفاقی حکومت کو یہ مقدمہ دائر کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا،محکمہ انصاف نے اپنے مقدمے میں نیشنل ووٹر رجسٹریشن ایکٹ کی تمہید کا حوالہ دیا تھا، تاہم عدالت نے اس بنیاد کو کافی نہیں سمجھا
عدالت نے اپنے فیصلے میں ایک اہم آئینی نکتہ بھی اٹھایا،جج گلیسن کے مطابق حکومت یہ وضاحت نہیں کر سکی کہ ووٹروں کی مبینہ الجھن کی تحقیقات کس طرح ممکن ہوں گی جبکہ ووٹ ڈالنے والے شہریوں کی رازداری اور خفیہ ووٹ کا آئینی حق بھی برقرار رکھا جائے،ان کے مطابق حکومت کی درخواست پر عمل درآمد الاسکا کے شہریوں کے خفیہ ووٹ کے حق کی خلاف ورزی کا سبب بن سکتا تھا
اس مقدمے میں محکمہ انصاف کا مؤقف تھا کہ الاسکا کے انتخابی بیلٹ پر ایک جیسے ناموں کے حامل 2 امیدواروں کی موجودگی ووٹروں کو الجھن میں ڈال سکتی ہے،ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان کے مقابلے میں ڈینیل سلیوان جونیئر نامی ایک آزاد امیدوار بھی انتخاب لڑ رہے ہیں،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں کے ملتے جلتے نام انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں
الاسکا کی ریپبلکن پارٹی اس سے پہلے ریاستی عدالت میں بھی ڈینیل سلیوان جونیئر کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی کوشش کر چکی تھی، لیکن جون میں الاسکا سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ انہیں امیدوار بننے کا قانونی حق حاصل ہے
اس انتخاب کو مزید متنازعہ بنانے میں یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ انتخابی حکمت عملی بنانے والوں نے جان بوجھ کر ڈینیل سلیوان جونیئر کو انتخاب لڑنے کے لیے آمادہ کیا تاکہ ریپبلکن سینیٹر کے ووٹ تقسیم ہو سکیں،نیویاک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں ڈیموکریٹک انتخابی کارکنوں کی جانب سے انہیں امیدوار بنانے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم اس رپورٹ کے دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جاسکی
الاسکا کے ریپبلکن گورنر مائیک ڈنلیوی نے ان الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ تحقیقات میں کسی بے ضابطگی کا انکشاف ہوا تو انتخابی نتائج کی تصدیق بھی متاثر ہو سکتی ہے،انہوں نے 30 اکتوبر کو نیوز نیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تحقیقات میں غلط کاری ثابت ہوئی اور اس کے نتیجے میں نتائج کی تصدیق روکنے یا تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئی تو ایسا کیا جائے گا
دوسری جانب اینکریج میں 30 اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی اٹارنی مائیکل ہیمن نے تصدیق کی کہ محکمہ انصاف اس معاملے کی فوجداری تحقیقات کر رہا ہے،ڈیموکریٹک امیدوار اور سابق رکن کانگریس میری پیلٹولا نے ڈینیل سلیوان جونیئر کو انتخاب میں حصہ لینے پر آمادہ کرنے میں کسی بھی قسم کے کردار کی تردید کی ہے
اس تنازعہ کے باوجود الاسکا میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے،ریاست کے انتخابی حکام کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق 86,700 سے زیادہ ووٹرز ابتدائی ووٹنگ کے دوران اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہیں، جبکہ مزید شہری 3 نومبر کو انتخابی دن ووٹ ڈالیں گے
سینیٹر ڈین سلیوان نے بھی اتوار کو سی این این کے پروگرام اسٹیٹ آف دی یونین میں کہا کہ وہ انتخابی نتائج قبول کریں گے، چاہے انہیں کامیابی حاصل ہو یا شکست
محکمہ انصاف نے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے،انتخابی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹوں کی گنتی سے پہلے ہی انتخابی نتائج روکنے کی حکومتی کوشش غیر قانونی اور ٹیکس دہندگان کے پیسے کا زیاں تھی
یہ مقدمہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب الاسکا کی سینیٹ نشست پر مقابلہ انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے اور اس کے نتائج امریکی سینیٹ میں سیاسی طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں






