Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سوشلزم کی حامی ترقی پسند ڈیموکریٹس کی نئی کھیپ کانگریس پہنچنے کے لیے تیار، پارٹی قیادت کے لیے نیا چیلنج

سوشلزم کی حامی ترقی پسند ڈیموکریٹس کی نئی کھیپ کانگریس پہنچنے کے لیے تیار، پارٹی قیادت کے لیے نیا چیلنج
امریکہ کے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے چند ترقی پسند امیدوار کانگریس میں پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں، جن میں بعض خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹس قرار دیتے ہیں اور بعض پارٹی کے بائیں بازو کے نظریات سے وابستہ ہیں،انتخابی مہم کے دوران سوشلزم پر خاصی بحث ہوئی ہے، تاہم کانگریس کے لیے انتخاب لڑنے والے امیدواروں میں سے صرف ایک محدود تعداد اس نظریاتی دھڑے سے تعلق رکھتی ہے
ان میں زیادہ تر امیدوار ڈیموکریٹس کے مضبوط انتخابی حلقوں سے سامنے آئے ہیں،کئی امیدواروں نے پارٹی کے پرانے اور تجربہ کار ارکان کو سخت مقابلے کے بعد پرائمری انتخابات میں شکست دے کر اپنی جگہ بنائی،انہیں 3 نومبر کے انتخابات میں کامیابی کی توقع ہے،کامیابی کی صورت میں وہ ایوانِ نمائندگان میں پہلے سے موجود دو ڈیموکریٹک سوشلسٹ ارکان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے
ان نئے ترقی پسند ارکان کی آمد سے ڈیموکریٹک پارٹی میں نئی سیاسی توانائی پیدا ہونے کے ساتھ قیادت کے لیے بھی نئے چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں،یہ صورتحال اس بات سے قطع نظر اہم ہوگی کہ ایوانِ نمائندگان میں اکثریت ری پبلکنز کے پاس رہتی ہے یا ڈیموکریٹس اسے حاصل کر لیتے ہیں، کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے آخری دو برسوں میں پارٹی کے اندر پالیسی اور سیاسی حکمت عملی پر اختلافات نمایاں ہو سکتے ہیں
ری پبلکنز نے انتخابی مہم میں سوشلزم کو ڈیموکریٹس کے خلاف ایک اہم سیاسی ہتھیار بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ الزام پہلے جیسا اثر نہیں رکھتا، خصوصاً ڈیموکریٹک ووٹروں میں،امریکی سیاست میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ نظریات رکھنے والی شخصیات کی موجودگی بھی نئی نہیں،نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کا انتخاب، نیویارک سے رکنِ کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کا سیاسی عروج اور ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز کا مسلسل اثر و رسوخ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی سیاست میں سوشلزم اور ترقی پسند نظریات کے بارے میں بحث اور قبولیت کا دائرہ تبدیل ہو رہا ہے

قومی خبریں سے مزید