الاسکا کی سینیٹ نشست امریکی سیاست کا سب سے متنازع انتخابی معرکہ کیسے بن گئی؟
الاسکا: امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے چند روز قبل سینیٹ کی ایک نشست پر مقابلہ غیر معمولی سیاسی تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا ہے،ریاست میں ڈیزل اور گھروں کو گرم رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے تیل کی قیمتوں میں اضافے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن سینیٹر ڈین ایس سلیوان کے خلاف ووٹروں کی ناراضگی بڑھا دی تھی، جس کے باعث الاسکا جیسی روایتی طور پر ریپبلکن ریاست میں سینیٹ کا انتخاب ملک کے انتہائی توجہ طلب مقابلوں میں شامل ہو گیا ہے
تاہم انتخاب سے چند روز قبل ایک نئے تنازعہ نے انتخابی مہم کا رخ بدل دیا،الزام سامنے آیا کہ ڈیموکریٹک امیدوار میری پیلٹولا کی انتخابی مہم نے خفیہ طور پر ایک ایسے متبادل امیدوار کو میدان میں اتارنے کی کوشش کی جو ریپبلکن ووٹ تقسیم کرکے ڈیموکریٹس کے لیے سینیٹ کی یہ اہم نشست حاصل کرنے کی راہ ہموار کر سکتا تھا،اگر ڈیموکریٹس یہ نشست جیت جاتے تو سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی ان کی کوششوں کو بھی تقویت مل سکتی تھی
اس تنازعہ کی بنیاد بیلٹ پر موجود ایک ریٹائرڈ استاد ڈین جے سلیوان جونیئر کی امیدواری ہے، جن کا نام موجودہ ریپبلکن سینیٹر ڈین ایس سلیوان سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے،وہ بھی سینیٹ کی نشست کے لیے چار حتمی امیدواروں میں شامل ہیں،ریپبلکن حلقوں نے کئی ماہ سے اس امیدوار کی موجودگی پر اعتراضات اٹھائے اور خدشہ ظاہر کیا کہ ناموں کی مماثلت سے ووٹرز میں الجھن پیدا ہو سکتی ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے محکمہ انصاف کو ہدایت دی کہ وہ ریاست الاسکا کے خلاف مقدمہ دائر کرے اور ایسی قانونی کارروائی کی کوشش کرے جس کے تحت اگر موجودہ ریپبلکن سینیٹر معمولی فرق سے انتخاب ہار جائیں تو انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر ہو سکے
یہ تنازعہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب نیویارک ٹائمز نے میری پیلٹولا کی انتخابی مہم اور متبادل امیدوار کے معاملے پر ایک رپورٹ شائع کی،اس انکشاف نے انتخابی مہم میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا کسی امیدوار کو محض مخالف جماعت کے ووٹ تقسیم کرنے کے لیے میدان میں لانے کی کوشش کی گئی تھی
یہ صورتحال الاسکا کے انتخاب کو محض دو امیدواروں کے درمیان مقابلے سے آگے لے گئی ہے، جہاں انتخابی حکمت عملی، ووٹوں کی تقسیم، قانونی کارروائی اور سینیٹ میں اکثریت کا سوال ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں





