عالمی منڈی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں 23 فیصد بڑھنے کا خدشہ، تیل، خوراک اور کھاد مہنگی ہونے سے مہنگائی کا نیا خطرہ
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ، تیل کی رسد میں کمی، بحیرہ اسود سے اناج کی ترسیل میں رکاوٹوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث 2026 میں دنیا بھر میں خام مال اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 23 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے توانائی کی قیمتوں میں 32 فیصد، دھاتوں میں 25 فیصد اور قیمتی دھاتوں میں 40 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ خوراک کی مہنگائی سے کم آمدنی والے ممالک کے غریب خاندانوں پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے
عالمی بینک کی 28 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈیوں کو بیک وقت کئی بڑے جھٹکوں کا سامنا ہے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث تیل کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی ترسیل کو بھی مشکلات سے دوچار کردیا ہے اس کے ساتھ شدید موسمیاتی رجحان ال نینو کے باعث زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے ان تمام عوامل کے یکجا ہونے سے توانائی، خوراک، کھاد اور صنعتی خام مال کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے
تیل کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا بھر میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ
رپورٹ کے مطابق 2026 میں توانائی کی مجموعی قیمتوں میں 32 فیصد اضافے کا امکان ہے، جس کے بعد یہ قیمتیں گزشتہ 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتی ہیں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اہم پیمانے برینٹ کروڈ کی اوسط قیمت 2025 میں تقریباً 69 ڈالر فی بیرل تھی، جو 2026 میں بڑھ کر تقریباً 92 ڈالر فی بیرل ہونے کی توقع ہے۔ 2027 میں اس کے تقریباً 79 ڈالر فی بیرل تک کم ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے
تیل مہنگا ہونے سے صرف گاڑیوں کے ایندھن کی قیمتیں متاثر نہیں ہوتیں بلکہ مال برداری، فضائی سفر، بجلی کی پیداوار، صنعتی سرگرمیوں اور زرعی پیداوار کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں جب کاروباری اداروں کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ اکثر اس کا کچھ حصہ صارفین کو منتقل کردیتے ہیں، جس سے روزمرہ استعمال کی اشیا مزید مہنگی ہوسکتی ہیں
عالمی تیل کی رسد میں 2026 کے دوران 5.2 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے رپورٹ کے مطابق 2020 کی عالمی کساد بازاری کو چھوڑ کر یہ 4 دہائیوں سے زائد عرصے میں تیل کی رسد میں سب سے بڑی سالانہ کمی ہوسکتی ہے دوسری جانب بلند قیمتوں کے باعث تیل کی عالمی کھپت میں 2.5 فیصد کمی متوقع ہے اس کے باوجود رسد اور طلب میں فرق پورا کرنے کے لیے ذخائر استعمال کیے جارہے ہیں، جس سے مستقبل میں کسی نئی رکاوٹ کی صورت میں قیمتیں مزید بڑھنے کا خطرہ موجود ہے
عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق خوراک کی عالمی قیمتوں میں 2026 کے دوران 10 فیصد سے کچھ زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ 2027 میں مزید تقریباً 7 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس طرح 2 سال میں خوراک کی قیمتیں مجموعی طور پر تقریباً 18 فیصد بڑھ سکتی ہیں
اس اضافے کی بڑی وجوہات میں بحیرہ اسود سے اناج کی ترسیل میں رکاوٹیں، مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور کھاد کی مہنگائی شامل ہیں۔ اگر بڑے زرعی پیداواری ممالک میں موسم خراب ہوجائے تو گندم، مکئی اور دیگر اجناس کی دستیابی متاثر ہوسکتی ہے
غریب ممالک میں خوراک پر گھریلو آمدنی کا بڑا حصہ خرچ ہوتا ہے، اس لیے قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی لاکھوں خاندانوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے جب آٹا، روٹی، اناج، سبزیاں اور دیگر بنیادی اشیا مہنگی ہوتی ہیں تو کم آمدنی والے خاندان اپنی خوراک کی مقدار یا معیار کم کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں
رپورٹ کے مطابق 2026 میں کھاد کی قیمتوں میں 14 فیصد اضافے کا امکان ہے یوریا کی قیمتوں میں سال کے ابتدائی حصے میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے بعد کچھ کمی آئی، تاہم عالمی سطح پر توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات زرعی شعبے کے لیے اب بھی اہم خطرہ ہیں
کھاد کی قیمت بڑھنے سے کسانوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اگر کسان کھاد کا استعمال کم کردیں تو بعض فصلوں کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ اگر وہ اضافی اخراجات برداشت کرنے کے بجائے اپنی پیداوار کی قیمت بڑھائیں تو اس کا بوجھ بالآخر صارفین تک پہنچ سکتا ہے
پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے یہ صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ کھاد، ڈیزل، بجلی اور زرعی ادویات کی قیمتیں کسانوں کے اخراجات پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں عالمی قیمتوں میں اضافہ مقامی منڈیوں میں بھی دباؤ پیدا کرسکتا ہے، اگرچہ پاکستان میں اصل اثر کا انحصار درآمدی لاگت، روپے کی قدر، حکومتی پالیسیوں اور مقامی رسد پر ہوگا
عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ صنعتی دھاتوں کی قیمتیں 2026 میں مجموعی طور پر 25 فیصد بڑھ کر نئی بلند سطح تک پہنچ سکتی ہیں ایلومینیم، تانبے اور ٹین کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں رسد کی رکاوٹیں اور قابل تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں اور ڈیٹا مراکز میں سرمایہ کاری کے باعث بڑھتی ہوئی طلب شامل ہیں
قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے عالمی سیاسی بے یقینی، جنگوں اور معاشی خطرات کے دوران سرمایہ کار اکثر سونے جیسے اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے ان کی طلب بڑھ جاتی ہے
صنعتی دھاتوں کی مہنگائی تعمیرات، بجلی کے نظام، مشینری، گاڑیوں اور دیگر مصنوعات کی لاگت بڑھا سکتی ہے اس لیے دھاتوں کی قیمتوں میں اضافہ صرف سرمایہ کاروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ مختلف صنعتوں اور صارفین کو بھی متاثر کرتا ہے
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے، روس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا رہتا ہے، بحیرہ اسود سے اناج کی ترسیل مزید متاثر ہوتی ہے اور ال نینو غیر معمولی شدت اختیار کرتا ہے تو خوراک کی قیمتیں بنیادی تخمینوں سے مزید 12 فیصد بلند ہوسکتی ہیں
ایسی صورت حال عالمی سطح پر خوراک کے شدید بحران کو جنم دے سکتی ہے رپورٹ میں ابتدائی 2010 کی دہائی کے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس وقت خوراک کی مہنگائی کے نتیجے میں 4 کروڑ سے زیادہ اضافی افراد انتہائی غربت کی لپیٹ میں آگئے تھے یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی فلاح اور غربت کے خاتمے کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے
عالمی بینک کے بنیادی تخمینے کے مطابق مجموعی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 2027 کے دوران 7 فیصد کمی ہوسکتی ہے تاہم یہ پیش گوئی اس مفروضے پر مبنی ہے کہ عالمی منڈیوں کو متاثر کرنے والی جنگوں میں مزید بڑی شدت نہیں آئے گی اور رسد کی رکاوٹیں مسلسل خراب نہیں ہوں گی
اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ پھیلتی ہے یا تیل کی پیداوار مزید متاثر ہوتی ہے تو قیمتیں اندازوں سے زیادہ بڑھ سکتی ہیں اسی طرح شدید ال نینو اور اناج کی ترسیل میں رکاوٹیں خوراک کو طویل عرصے تک مہنگا رکھ سکتی ہیں اس لیے 2027 میں ممکنہ کمی کا مطلب یہ نہیں کہ تمام اشیا کی قیمتیں لازماً پہلے والی سطح پر واپس آجائیں گی
عالمی بینک نے متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے اپنے موجودہ مالیاتی وسائل کے تحت 50 سے 60 ارب ڈالر تک کی معاونت دستیاب ہونے کا بھی ذکر کیا ہے، جس میں پہلے سے طے شدہ 25 ارب ڈالر کی مالی معاونت شامل ہے اس مدد کا مقصد کمزور معیشتوں، غریب خاندانوں، کاروباری اداروں اور زرعی شعبے کو بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے نمٹنے میں سہولت فراہم کرنا ہے
مجموعی طور پر عالمی منڈیوں میں بڑھتی قیمتیں دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے ایک بڑا امتحان بن سکتی ہیں تیل کی مہنگائی نقل و حمل اور پیداوار کے اخراجات بڑھائے گی، کھاد کی قیمتیں زرعی شعبے کو متاثر کریں گی اور خوراک کی مہنگائی کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے پاکستان سمیت درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ توانائی اور خوراک کی فراہمی مستحکم رکھنے، غریب خاندانوں کو ہدفی امداد دینے اور سرکاری اخراجات کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے اقدامات کریں





