Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پیرس کے نیچے دریافت ہونے والی قدیم دیوار جولیس سیزر کے پروپیگنڈا نظام کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

پیرس کے نیچے دریافت ہونے والی قدیم دیوار جولیس سیزر کے پروپیگنڈا نظام کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

یہ عنوان غالباً قدیم رومی تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے متعلق ایک رپورٹ کا ہے،اس میں پیرس کے نیچے دریافت ہونے والی ایک قدیم دیوار کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ رومی رہنما جولیس سیزر نے اپنی فتوحات، سیاسی طاقت اور عوامی تاثر کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے کس طرح بیانیہ تشکیل دیا
نیشنل جیوگرافک کی 23 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، پیرس میں نوٹرے ڈیم کے قریب ہوٹل دیو اسپتال کے نیچے تقریباً 20 میٹر لمبی پتھر اور لکڑی کی ایک قدیم دیوار دریافت ہوئی ہے،ماہرین کے خیال میں یہ دیوار قدیم گالک آبادی لوتیشیا کے دفاعی حصار کا حصہ ہوسکتی ہے،اس کے جلے ہوئے آثار کی کاربن ڈیٹنگ سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان کا تعلق 200 قبل مسیح سے 10 قبل مسیح کے درمیان کے زمانے سے ہے،یہ مدت جولیس سیزر کی گال پر رومی فتوحات کے دور پر بھی محیط ہے
اس دریافت کی اہمیت صرف پیرس کی قدیم تاریخ تک محدود نہیں،جولیس سیزر نے اپنی کتاب گالک جنگیں میں لکھا تھا کہ 52 قبل مسیح میں رومی فوج کی آمد پر پیرسی نامی گالک قبیلے نے دریائے سین کے ایک جزیرے پر واقع اپنی آبادی کو آگ لگا دی، پل تباہ کردیے اور رومی فوج کا مقابلہ کیا،سیزر کے مطابق، اس کے جرنیل لابیئنَس نے فوجی چال کے ذریعے گالک جنگجوؤں کو گھیر کر شکست دی
نئی دریافت سیزر کی اس روایت کے بعض حصوں کی تائید کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک مختلف تاریخی تصویر بھی سامنے لاتی ہے،سیزر نے گالک قبائل کو اپنی تحریروں میں غیر مہذب، غیر منظم اور جنگجو قوم کے طور پر پیش کیا تھا،اس کے برعکس، آثارِ قدیمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ گالک معاشرے دھات سازی، تعمیرات، سڑکوں، پلوں اور نکاسی آب کے نظام میں خاصی مہارت رکھتے تھے
ماہرین کے مطابق، گالک قلعہ بندیوں میں لکڑی، مٹی اور پتھر کو ملا کر مضبوط دفاعی دیواریں تعمیر کی جاتی تھیں،پیرس میں دریافت ہونے والی دیوار میں اندرونی لکڑی کے ڈھانچے کے ساتھ پتھروں کا استعمال بھی اس تعمیراتی روایت سے مطابقت رکھتا ہے،تاہم، یہ ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا کہ یہی دیوار سیزر کی بیان کردہ آبادی کا دفاعی حصار تھی یا اس کی تباہی کا تعلق اسی جنگ سے تھا
اس دریافت سے یہ امکان بھی سامنے آتا ہے کہ گالک باشندوں نے اپنی آبادی کو رومیوں کے حوالے ہونے سے بچانے کے لیے خود آگ لگائی ہو،اگر ایسا تھا تو یہ اقدام محض شکست خوردہ اور غیر منظم لوگوں کی حرکت نہیں، بلکہ دشمن کے ہاتھوں اہم تنصیبات جانے سے روکنے کی ایک سوچا سمجھا فوجی حکمت عملی کا منصوبہ ہوسکتا تھا
تاریخ دانوں کے لیے اس دریافت کا بڑا سبق یہ ہے کہ فاتح حکمرانوں کی تحریریں اکثر واقعات کو ان کے اپنے نقطۂ نظر سے پیش کرتی ہیں،سیزر کی تحریروں نے گالک قبائل کی جو تصویر رومی دنیا کے سامنے رکھی، ضروری نہیں کہ وہ ان معاشروں کی مکمل حقیقت ہو،پیرس کے نیچے دریافت ہونے والی دیوار اس فرق کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ جنگ میں کیا ہوا تھا اور فاتح نے بعد میں اس واقعے کو کس طرح بیان کیا

قومی خبریں سے مزید