پاکستان امریکی سرمایہ کاری کا منتظر، بھارت کا امبانی گروپ ٹیکساس کی ریفائنری میں 100 ملین ڈالر لگا چکا، روبیو کے دورۂ جام نگر نے توانائی کی عالمی سیاست کا تضاد نمایاں کر دیا
رپورٹ: آفاق فاروقی
پاکستان کی حکومت اپنی آئل ریفائنریوں کو جدید بنانے کے لیے امریکی مالیاتی اداروں کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بھارت کے سب سے بڑے نجی توانائی گروپ ریلائنس انڈسٹریز اور اس کے سربراہ مکیش امبانی کی جانب سے ٹیکساس میں مجوزہ نئی ریفائنری کے لیے کی گئی 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کو امریکی توانائی کے شعبے میں غیر ملکی سرمائے کی ایک بڑی مثال کے طور پر پیش کر رہی ہے،امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا حالیہ دورۂ بھارت، ریاست گجرات کے شہر جام نگر میں امبانی خاندان کی ریفائنری کا دورہ اور اسلام آباد میں پاکستانی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر سے ملاقات، ان دونوں ملکوں کی توانائی پالیسیوں کے درمیان ایک اہم فرق کو نمایاں کرتی ہے،یہ فرق صرف سرمایہ کاری کی مقدار کا نہیں بلکہ صنعتی صلاحیت، عالمی منڈی میں مقام اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی طاقت کا بھی ہے
26 اکتوبر کو اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان کے ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبے امریکی مالیاتی اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں،انہوں نے پاکستان کی توانائی ضروریات کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات سے امریکی سفارت کار کو آگاہ کیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کی ٹیمیں توانائی کے شعبے میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہی ہیں،امریکی ناظم الامور نے کہا کہ واشنگٹن پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں تعاون کا خواہاں ہے اور پاکستان میں امریکی کمپنیوں کے لیے کاروباری مواقع پیدا کرنا ضروری ہے،ان کے مطابق طویل مدتی توانائی فراہمی کے معاہدے دونوں ملکوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں،ملاقات میں پاکستان اسٹیٹ آئل اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے حکام نے بھی امریکی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان کو مائع قدرتی گیس فراہم کرنے میں دلچسپی کے بارے میں بریفنگ دی
پاکستانی حکومت کے لیے یہ محض ایک تجارتی معاملہ نہیں،ملک کی موجودہ ریفائنریوں کو جدید بنانے، ایندھن کی پیداوار اور معیار بہتر کرنے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے بڑے سرمائے کی ضرورت ہے،حکومت کے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن پر تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے،چار ریفائنریوں نے ستمبر میں اپ گریڈیشن کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے، جبکہ پانچویں ریفائنری کی شمولیت کی صورت حال الگ رہی،اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف سرمایہ دستیاب ہونے پر نہیں بلکہ پالیسی کے تسلسل، ٹیکس نظام، منافع کی قابلِ پیش گوئی شرح اور سرمایہ کاروں کو طویل مدتی کاروباری تحفظ فراہم کرنے پر بھی ہوگا
اس کے برعکس بھارت کی ریلائنس انڈسٹریز پہلے ہی عالمی توانائی کی صنعت میں ایک بڑی طاقت بن چکی ہے،جام نگر میں اس کا ریفائننگ کمپلیکس دنیا کا سب سے بڑا سنگل سائٹ آئل ریفائننگ کمپلیکس ہے، جس کی مجموعی گنجائش تقریباً 14 لاکھ بیرل خام تیل یومیہ ہے،سیکریٹری خارجہ روبیو نے 21 اکتوبر کو اس کمپلیکس کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات مکیش امبانی اور ان کے خاندان کے دیگر اہم افراد سے ہوئی،اس دورے کا تعلق صرف ایک صنعتی تنصیب کو دیکھنے سے نہیں تھا،واشنگٹن بھارت کی ریفائننگ صلاحیت، امریکی توانائی کی فروخت، وینزویلا کے خام تیل کی ممکنہ خریداری اور امریکہ میں بھارتی سرمایہ کاری کے امکانات میں بھی دلچسپی رکھتا ہے
ٹیکساس میں براؤنز وِل کے مقام پر مجوزہ امریکہ فرسٹ ریفائننگ منصوبہ اس تعلق کی اہم مثال ہے، جہاں ریلائنس انڈسٹریز نے اس منصوبے سے وابستہ امریکی کمپنی میں 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے،صدر ٹرمپ نے مارچ میں اس منصوبے کو نمایاں کرتے ہوئے 300 ارب ڈالر کے سودے کا ذکر کیا تھا، لیکن اس رقم کو ریفائنری کی تعمیر کے لیے براہ راست سرمایہ کاری سمجھنا درست نہیں،بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق یہ 300 ارب ڈالر پانچ برس کے دوران خام تیل کی خریداری اور تیار شدہ ایندھن کی ممکنہ مجموعی مالیت سے متعلق ہے،منصوبے کے مطابق تقریباً 125 ارب ڈالر مالیت کا امریکی شیل آئل پراسیس کیا جائے گا اور تقریباً 175 ارب ڈالر مالیت کی ریفائنڈ مصنوعات تیار ہوں گی،مجوزہ ریفائنری کی گنجائش یومیہ تقریباً ایک لاکھ 68 ہزار بیرل بتائی گئی ہے،منصوبہ مکمل ہونے پر یہ تقریباً پانچ دہائیوں میں امریکہ میں تعمیر ہونے والی پہلی بڑی نئی آئل ریفائنری ہوگی
یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت، جس کی حکومت امریکی صنعت اور توانائی کی خود کفالت کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتی ہے، اسے بھی بڑے صنعتی منصوبوں کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی ضرورت کیوں ہے؟ اس کا جواب عالمی معیشت کی حقیقت میں پوشیدہ ہے،امریکہ کے پاس سرمایہ، ٹیکنالوجی، توانائی کے وسائل اور بڑی صارف منڈی موجود ہے، لیکن ہر بڑے منصوبے کے لیے نجی سرمایہ، طویل مدتی خریداری کے معاہدے، صنعتی تجربہ اور خطرات برداشت کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے،بھارت کی ریلائنس انڈسٹریز ان تمام شعبوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے،اس لیے امریکی انتظامیہ اس کمپنی کے ساتھ تعلقات کو اپنے توانائی کے مفادات کے لیے اہم سمجھتی ہے
اس معاملے کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔ ٹیکساس ٹریبیون اور تحقیقاتی ادارے پروپبلکا کی جون 2026 کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق ریلائنس کی سرمایہ کاری سے وابستہ امریکہ فرسٹ ریفائننگ میں صدر ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے بھی حصہ داری حاصل کی تھی،رپورٹ میں اس معاملے کے سیاسی روابط اور مفادات کے ممکنہ تصادم سے متعلق سوالات اٹھائے گئے،ٹرمپ جونیئر کے ترجمان نے کہا کہ ان کا کردار ایک غیر فعال اقلیتی سرمایہ کار کا ہے اور وہ کمپنی کے انتظامی امور میں شریک نہیں،وائٹ ہاؤس نے بھی مفادات کے تصادم کے الزام کو مسترد کیا، جبکہ ریلائنس نے کہا کہ اس کی سرمایہ کاری تجارتی بنیادوں پر کی گئی اور اسے امریکی حکومت کی جانب سے کوئی خصوصی رعایت نہیں ملی،ان دعوؤں اور جوابات کو اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ امریکہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری اب محض کاروباری فیصلہ نہیں رہی بلکہ تجارت، توانائی، پابندیوں اور سیاسی تعلقات کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے
پاکستان کے لیے اس تقابل میں بنیادی سبق یہ ہے کہ امریکی سرمایہ کاری کی خواہش کو عملی معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے محض سفارتی ملاقاتیں کافی نہیں ہوں گی،پاکستان کو اپنی ریفائنریوں کی مالی ضروریات، متوقع منافع، ٹیکنالوجی کی ضرورت اور سرمایہ واپس آنے کی مدت کے بارے میں واضح منصوبہ پیش کرنا ہوگا،اگر امریکی مالیاتی اداروں کو قابلِ اعتماد کاروباری ماحول اور طویل مدتی منافع کا امکان دکھائی دے تو پاکستان کے ریفائنری منصوبے ان کے لیے بھی کشش پیدا کر سکتے ہیں،اسی طرح پاکستان کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا اسے صرف سرمایہ درکار ہے یا جدید ٹیکنالوجی، انتظامی مہارت، خام تیل کی قابلِ اعتماد فراہمی اور اپنی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی بھی چاہیے
امریکہ اور پاکستان کے درمیان توانائی تعاون کا ایک دوسرا رخ بھی موجود ہے،امریکی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے میں دلچسپی اور طویل مدتی سپلائی معاہدوں پر گفتگو اس امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات محض امداد یا سفارتی حمایت تک محدود رہنے کے بجائے تجارتی بنیادوں پر آگے بڑھ سکتے ہیں،تاہم، گیس کی خریداری اور پاکستانی ریفائنریوں میں سرمایہ کاری دو الگ معاملات ہیں،ان دونوں کے لیے الگ مالیاتی شرائط، کاروباری ضمانتوں اور پالیسی فیصلوں کی ضرورت ہوگی
جام نگر اور ٹیکساس کی مثال یہ بھی واضح کرتی ہے کہ بھارت کی عالمی توانائی میں اہمیت صرف اس کی بڑی آبادی یا معیشت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کی صنعتی صلاحیت اور سرمایہ کاری کی قوت کی وجہ سے بھی ہے،روبیو کا جام نگر جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے ایک ایسے نجی صنعتی گروپ کے ساتھ براہ راست روابط بڑھانا چاہتا ہے جو بڑے پیمانے پر خام تیل کو قابلِ استعمال ایندھن میں تبدیل کر سکتا ہے اور عالمی منڈیوں کو مصنوعات فراہم کر سکتا ہے،پاکستان کو بھی اپنے توانائی کے شعبے کو اسی طرح سرمایہ کاری کے قابل بنانے کی ضرورت ہے
بالآخر پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ نہیں کہ اس کے وزیر امریکی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہیں یا امریکی سفارت کار تعاون کی خواہش ظاہر کرتی ہیں،اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ کتنے مالیاتی ادارے عملی طور پر سرمایہ لگانے پر آمادہ ہوتے ہیں، کتنے منصوبوں کی مالی بندوبست مکمل ہوتی ہے اور کتنے برسوں میں جدید ریفائنریاں پیداوار، معیار اور توانائی کے تحفظ میں قابلِ پیمائش بہتری لاتی ہیں،امریکہ اپنی توانائی صنعت کے لیے بھارتی سرمایہ حاصل کر رہا ہے اور پاکستان بھی اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے امریکی سرمایہ چاہتا ہے،فرق یہ ہے کہ بھارت کا ایک بڑا صنعتی گروپ امریکہ میں سرمایہ لگا کر اپنی عالمی موجودگی بڑھا رہا ہے، جبکہ پاکستان ابھی اپنے منصوبوں کو سرمایہ کاروں کے لیے قابلِ اعتماد اور پرکشش بنانے کے مرحلے میں ہے،یہی فرق دونوں ملکوں کی توانائی معیشت کے درمیان سب سے اہم سبق ہے






