مکہ دفاعی معاہدے کے تحت ایران سے مذاکرات، عاصم منیر کا ایک ہفتے میں دوسرا دورہ، مگر امریکی جنگ اور حوثی حملوں کے خاتمے پر اختلافات برقرار
تہران،سعودی عرب پر یمن کے حوثیوں کے حملوں میں اضافے اور ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات کے درمیان پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام آج تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کر رہے ہیں،پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں، جو ایک ہفتے کے اندر دوسری مرتبہ ایران پہنچے ہیں،مذاکرات کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا، سعودی عرب کو حوثی حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے امکانات تلاش کرنا اور ایسا علاقائی سلامتی کا نظام تشکیل دینا ہے جس میں بیرونی طاقتوں کے بجائے خطے کے ممالک اپنا کردار ادا کریں،تاہم، اس سفارتی کوشش کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ایران اور امریکہ کے درمیان بنیادی اختلافات ہیں، جنہیں پاکستان کی سابقہ ثالثی بھی اب تک مستقل طور پر دور نہیں کر سکی
ایرانی حکام کے مطابق سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن ایرانی قیادت سے ملاقات میں شریک ہوں گے،ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے کہا ہے کہ یہ ملاقات خطے کے ممالک کی اپنی صلاحیتوں پر مبنی سلامتی کے نظام کے قیام کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق مشترکہ اجلاس کی تجویز عاصم منیر کے گزشتہ دورۂ تہران کے دوران پیش کی گئی تھی، جس کا ایران نے خیرمقدم کیا،سعودی حکام نے بھی اس ملاقات کو کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور پاکستان و قطر کی ثالثی کوششوں کی حمایت سے جوڑا ہے،اس طرح تہران میں ہونے والی بات چیت محض دوطرفہ رابطہ نہیں بلکہ ایک ایسے وقت میں علاقائی سفارت کاری کی کوشش ہے جب سعودی عرب خود بھی جنگ کے پھیلاؤ کے خطرے سے دوچار ہے
اس ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست میں دستخط کیے تھے،اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے،پاکستان نے گزشتہ ہفتے اس معاہدے کی منظوری دے دی، جبکہ ترکیہ کی پارلیمنٹ میں اس کی توثیق کا عمل جاری ہے،سعودی عرب میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے نے اس معاہدے کو عملی آزمائش سے دوچار کر دیا ہے،ریاض کی تشویش صرف سرحدی سلامتی تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اہم ہوائی اڈوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی سرگرمیوں کو لاحق خطرات بھی اس میں شامل ہیں،دوسری جانب ایران سے مذاکرات کا مقصد یہ بھی ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہ راست کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جائے اور حوثیوں کے معاملے پر ایسا راستہ نکالا جائے جس سے وسیع تر جنگ کا خطرہ کم ہو
لیکن ایران کے مؤقف سے واضح ہے کہ تہران اس مسئلے کو صرف حوثیوں کے حملوں تک محدود رکھنے کے لیے تیار نہیں،ایران گزشتہ ہفتے عاصم منیر کے دورے کے دوران بھی واضح کر چکا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک واشنگٹن ایرانی مطالبات پر پیش رفت نہیں کرتا،ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی کہا تھا کہ امریکہ کو تہران کا اعتماد بحال کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے، ایرانی تیل پر پابندیاں اٹھانے اور خطے کے تمام محاذوں پر جنگی کارروائیاں روکنے سمیت ایران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی،ایران نے یہ مؤقف بھی دہرایا ہے کہ اس کا افزودہ جوہری مواد ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا،دوسری جانب امریکہ ایران کے جوہری پروگرام میں نمایاں کمی کا مطالبہ کر رہا ہے،یوں پاکستان کے لیے مشکل یہ ہے کہ وہ ایک طرف واشنگٹن کے مطالبات اور دوسری طرف تہران کی شرائط کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دونوں فریق بنیادی نکات پر اب تک اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے
امریکی اور مغربی تجزیوں میں بھی اس تعطل کو مذاکرات کی راہ میں بنیادی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے،امریکی پالیسی اور خطرات کا جائزہ لینے والے ادارے اسٹیپٹو کی 2 اکتوبر کی تجزیاتی رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کی تجزیہ کار اینی کونن نے کہا تھا کہ دونوں فریق اہم رعایتیں دینے کے لیے تیار نہیں اور طویل تعطل کا امکان برقرار ہے،امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے ستمبر کے آخر میں ہونے والی سفارتی کوششوں کے بارے میں ایک ذریعے کے حوالے سے لکھا تھا کہ ایران ایسے مطالبات کر رہا ہے جنہیں امریکہ قبول نہیں کر سکتا، جبکہ واشنگٹن سمجھتا ہے کہ اسے جنگ میں برتری حاصل ہے اور اسے سمجھوتے کی ضرورت نہیں،یہ تجزیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ثالثی کے ذریعے رابطے برقرار رکھنا ممکن ہے، لیکن محض ملاقاتیں ایسے بنیادی اختلافات ختم نہیں کر سکتیں جن میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، بحری ناکہ بندی اور جنگ کے خاتمے کی شرائط شامل ہوں
عاصم منیر کے گزشتہ دورۂ تہران کے بارے میں بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ایرانی قیادت نے امریکی پیغام رسانی کے دوران سخت مؤقف اختیار کیا اور کسی فوری سمجھوتے پر آمادگی ظاہر نہیں کی،بھارتی جریدے دی ویک نے 22 اکتوبر کو ایک رپورٹ میں ایرانی سکیورٹی قیادت کی جانب سے مبینہ طور پر سردمہری دکھائے جانے کا ذکر کیا تھا،تاہم، ایرانی قیادت کی جانب سے عاصم منیر کو باضابطہ طور پر مسترد کرنے یا انہیں واپس جانے کا حکم دینے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی،اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ گزشتہ دورہ مکمل طور پر ناکام رہا، البتہ ایران کے سرکاری بیانات سے ظاہر ہے کہ اس دورے کے بعد بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تہران کی شرائط میں کوئی نمایاں نرمی سامنے نہیں آئی،یہی صورت حال پاکستان کی ثالثی کی حدود کو واضح کرتی ہے
ایران اور سعودی عرب کے درمیان حوثیوں کے معاملے پر بات چیت بھی اسی پیچیدہ صورت حال کا حصہ ہے،الجزیرہ کی 12 اکتوبر کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش کی تھی، تاہم تہران کے اس کردار کے ساتھ یہ سوال بھی جڑا ہوا ہے کہ آیا وہ حوثیوں کے حملے رکوانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے پر آمادہ ہوگا یا نہیں، اور اس کوشش کی وہ خود کیا قیمت چاہے گا، سعودی عرب کے لیے محض سفارتی یقین دہانیاں کافی نہیں ہوں گی، کیونکہ اسے اپنے شہروں، ہوائی اڈوں اور بنیادی ڈھانچے کو فوری خطرات سے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے،ایران کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ تعلقات اور علاقائی تنازعات کو وسیع تر امریکہ اسرائیل جنگ سے الگ نہ سمجھنے کا مؤقف اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے،اگر تہران اور ریاض کے درمیان کوئی قابل عمل سمجھوتا طے پاتا بھی ہے تو اس پر عمل درآمد کا انحصار حوثیوں کے عملی رویے اور ایران کے حقیقی اثرورسوخ پر ہوگا
اس سفارتی کشمکش کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں،پاکستان نے 17 اکتوبر کو بلوچستان میں گبد رمدان اور تفتان کے سرحدی راستوں سے ایران کے ساتھ تجارتی آمدورفت معطل کر دی تھی،پاکستانی حکام نے اس اقدام کو سکیورٹی خدشات اور سرحدی انتظام بہتر بنانے سے جوڑا، جبکہ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران نے پاکستان کو برآمدات روکنے کا فیصلہ نہیں کیا،ان کے مطابق پاکستان میں درآمدی دستاویزات کے طریقۂ کار میں تبدیلیوں نے ایرانی مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت متاثر کی،الجزیرہ کی 26 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے اختتام پر تجارت جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہوئی اور پہلے سے لدا ہوا بعض ایرانی سامان، بشمول مائع پٹرولیم گیس، پاکستان میں داخل ہونے لگا، لیکن مال برداری اور کلیئرنس کے مسائل پوری طرح حل نہیں ہوئے تھے، جبکہ وال اسٹریٹ جنرل نے دو روز قبل رپورٹ کیا تھا امریکی پابندیوں کے باعث عراق اور پاکستان نے ایران سے ملنے والی سرحدیں مکمل بند کردی ہیں
اس صورت حال میں پاکستان میں ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں مسلسل اضافے کے خدشات نے عوامی تشویش بڑھا دی ہے،ایرانی گیس کی سپلائی متاثر ہونے سے پاکستان کے ان علاقوں اور منڈیوں پر دباؤ پڑتا ہے جہاں یہ ایندھن سرحدی تجارت کے ذریعے پہنچتا ہے،تاہم، پاکستان میں گیس سلنڈر کی قیمت ساڑھے چھ ہزار سے ساڑھے سات ہزار روپے تک پہنچنے یا پٹرول کی قلت کی تمام تر ذمہ داری صرف سرحدی بندش پر ڈالنے کے لیے الگ اور تازہ قیمتوں کے اعدادوشمار درکار ہیں،پاکستان نے سرکاری طور پر سکیورٹی اور سرحدی انتظام کے خدشات بیان کیے ہیں، اگرچہ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں اور خطے میں جنگ نے دوطرفہ تجارت اور توانائی کی ترسیل کو مزید حساس بنا دیا ہے
تہران کے آج کے مذاکرات کا نتیجہ اسی لیے اہم ہوگا کہ آیا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ ایران کو حوثیوں کے حملوں میں کمی کے لیے کسی قابل تصدیق اقدام پر آمادہ کر سکتے ہیں اور ساتھ ہی امریکہ ایران رابطوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوئی قابل قبول راستہ نکال سکتے ہیں،اگر اجلاس میں صرف مشترکہ سلامتی، علاقائی تعاون اور کشیدگی کم کرنے کے عمومی اصولوں پر اتفاق ہوتا ہے تو اسے سفارتی رابطے کی کامیابی تو کہا جا سکے گا، لیکن اس سے فوری طور پر جنگ کا خطرہ ختم نہیں ہوگا،اس کے برعکس، اگر فریقین حوثیوں کے حملوں، جوابی کارروائیوں، بحری ناکہ بندی اور ایران کے خلاف ممکنہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے بارے میں واضح اقدامات اور قابل عمل ضمانتوں پر متفق ہوتے ہیں تو یہ پیش رفت زیادہ اہم ہوگی،فی الحال دستیاب اطلاعات میں کسی ایسے جامع سمجھوتے کی تصدیق نہیں ہوئی،عاصم منیر کا ایک ہفتے میں دوسرا دورۂ اس بات کا ثبوت ضرور ہے کہ پاکستان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، مگر ان کوششوں کی کامیابی کا اصل پیمانہ ملاقاتوں کی تعداد نہیں بلکہ ایران، امریکہ اور ان کے علاقائی حریفوں کے عملی فیصلے ہوں گے





