تہران مذاکرات میں پاکستانی وفد کی تریتب نشست، دنیا کی حساس ترین میز پر محسن نقوی کی چالاکیاں عالمی توجہ کا مرکز
تہران میں ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والے اہم اجلاس کی ایک تصویر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی نشست کی ترتیب توجہ طلب دکھائی دیتی ہے،اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی نمائندگی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن کر رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی شریک ہیں

اجلاس کی سامنے آنے والی تصویر میں مرکزی مذاکراتی میز کے گرد بیٹھے اہم نمائندوں کے ساتھ دیگر اہلکار بھی موجود ہیں،تصویر میں محسن نقوی کی نشست اس انداز میں دکھائی دیتی ہے کہ وہ پاکستانی وفد کے مرکزی نمائندے کے قریب اور مذاکراتی میز کے ساتھ منسلک ہے، جبکہ بعض دوسرے اہلکار میز سے نسبتاً پیچھے بیٹھے نظر آتے ہیں،اس ترتیب سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ محسن نقوی کو اس اہم علاقائی اجلاس میں کس نوعیت کا کردار دیا گیا ہے اور پاکستانی وفد کی اندرونی نشست بندی کس پروٹوکول کے تحت کی گئی

تاہم، صرف تصویر کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ محسن نقوی کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے برابر مذاکراتی حیثیت دی گئی تھی یا ان کی نشست کسی خاص سفارتی فیصلے کی عکاسی کرتی ہے،اس کے لیے اجلاس کی مکمل ویڈیو، نشستوں کی دوسری تصاویر اور وفود کی باضابطہ تفصیلات کا جائزہ ضروری ہے، جسکے دیکھنے کے بعد صاف پتہ چل جاتا ہے پاکستان کے وزیر داخلہ جو فیلڈ مارشل کے فرنٹ مین تصور کیے جاتے ہیں ، انہوں نے چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیلڈ مارشل کی پشت پر رکھی اپنی نشست کچھ آگے کھسکا کر تصویر کچھ اس انداز سے بنوائ ہے جیسے وہ اس عالمی توجہ کے اجلاس کی میز شئیر کررہے ہیں، یاد رہے محسن نقوی اور فیلڈ مارشل کے درمیان تعلقات کے آغاز پر بھی محسن نقوی نے ایسی ہی ایک تاریخی چالاکی کے ذریعے پاکستانی عوام کے ساتھ حکمران اشرافیہ کے حلقوں میں توجہ حاصل کی تھی ، جب وہ جنرل عاصم منیر کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے پہلی بار ساتھ گئے تھے اور خانہ کعبہ کے اندونی حصہ کی جانب سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ایک موقع پر فیلڈ مارشل کی پشت و کندھے پر یوں ہاتھ رکھتے ہوئے دکھائے گئے تھے جیسے فیلڈ مارشل سیڑھیوں سے پھسل کر گرنے لگے ہوں اور محسن نقوی انہیں پشت سے سہارا دیکر بچانے میں مصروف ہوں ،
یہ چار ملکی اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے، ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر تعاون کے لیے کوششیں جاری ہیں،ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق مذاکرات میں علاقائی سلامتی، ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے اثرات اور فلسطین و لبنان کی صورت حال بھی زیر بحث آئی






