Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کارنیل یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ پاکستانی نژاد امریکی حارث بھٹی نیویارک سٹی کونسل کے اکلوتے انتخابی حلقے میں ڈیموکریٹ امیدوار کے مدمقابل

کارنیل یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ پاکستانی نژاد امریکی حارث بھٹی نیویارک سٹی کونسل کے اکلوتے انتخابی حلقے میں ڈیموکریٹ امیدوار کے مدمقابل

نیویارک سٹی کونسل کی 51 نشستوں میں سے اس سال 3 نومبر کو ہونے والے عام انتخابات میں صرف ایک نشست، مین ہیٹن کے ڈسٹرکٹ 3، پر انتخاب ہو رہا ہے، جہاں پاکستانی نژاد امریکی امیدوار حارث بھٹی ڈیموکریٹک امیدوار کارل ولسن کے مدمقابل ہیں۔ حارث بھٹی ایک آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں، وہ اس سے پہلے امریکی ایوان نمائندگان، کانگریس، کے انتخاب میں بھی حصہ لے چکے ہیں،ان کا تعلیمی پس منظر قابل ذکر ہے اور انہوں نے کارنیل یونیورسٹی سے ہیومن بائیولوجی میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی ہے
نیویارک کے سرکاری انتخابی ریکارڈ کے مطابق بھٹی کا پیشہ آزاد کنٹریکٹر درج ہے،ان کے سابقہ کام میں غیر منافع بخش اداروں سے وابستگی، منشیات سے متعلق پالیسی پر تحقیق اور انتخابی مہم کے لیے عوامی رابطہ کاری شامل رہی ہے،ان کے سرکاری انتخابی تعارف میں کارنیل ڈیموکریٹس سے تنظیمی وابستگی کا بھی ذکر ہے، تاہم موجودہ انتخاب میں وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار نہیں بلکہ اپنی الگ انتخابی شناخت کے تحت میدان میں ہیں
حارث بھٹی نے اپنی انتخابی مہم میں صحت کی سہولتوں کو بنیادی انسانی حق قرار دیتے ہوئے برطانیہ کے طرز پر یونیورسل ہیلتھ کیئر کی حمایت کی ہے، جس کے تحت مریضوں کو علاج کے لیے انشورنس پریمیم، کٹوتیوں اور شریک ادائیگیوں سے نجات دلانے کی تجویز شامل ہے،ان کے دیگر وعدوں میں سستی رہائش کی فراہمی، عوامی لائبریریوں کے لیے فنڈنگ، طلبہ کے قرضوں کے مسئلے سے نمٹنا، پولیس اور ٹرانزٹ پولیس کی تعداد بڑھانا اور سب وے میں تحفظ کے انتظامات بہتر بنانا شامل ہیں،بین الاقوامی امور میں وہ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور آزاد کشمیر کی حمایت کرتے ہیں
بھٹی کی انتخابی مہم کے مالی وسائل بھی توجہ کا مرکز ہیں،اکتوبر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وہ اپنی مہم کے لیے 15 ہزار ڈالر سے زیادہ جمع کر چکے تھے،انہوں نے اپنی گفتگو میں اس انتخاب کو جیتنے کے یقینی امکان کے بجائے سیاسی تجربہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے،ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انتخابی عمل میں اپنی موجودگی کو مستقبل کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے تجربہ حاصل کرنے کا ذریعہ بھی سمجھتے ہیں
ڈسٹرکٹ 3 کی نشست کے لیے ان کے مدمقابل کارل ولسن ہیں، جو اپریل 2026 کے خصوصی انتخاب میں کامیاب ہو کر کونسل کے رکن بنے تھے،ولسن نے جون میں ڈیموکریٹک پرائمری بھی جیتی اور اب نومبر کے انتخاب میں دوبارہ امیدوار ہیں،اس لیے یہ مقابلہ ایک جانب موجودہ کونسل رکن اور ڈیموکریٹ امیدوار، جبکہ دوسری جانب آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے والے پاکستانی نژاد امریکی حارث بھٹی کے درمیان ہے
تاحال اس حلقے میں دونوں امیدواروں کے درمیان ووٹوں کی تقسیم ظاہر کرنے والا کوئی معتبر عوامی سروے سامنے نہیں آیا،چنانچہ حارث بھٹی کی انتخابی حمایت یا کامیابی کے امکانات کے بارے میں کوئی حتمی اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا،ان کی مہم کے لیے جمع کیے گئے چندے اور سیاسی تجربے سے متعلق ان کا اپنا بیان ان کی انتخابی پوزیشن سمجھنے کے اہم پہلو ہیں، تاہم انتخابی نتیجے کا فیصلہ ووٹر کریں گے
مینہٹن کا ڈسٹرکٹ 3 نیویارک کے ان حلقوں میں شامل ہے جہاں ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی تاریخ مضبوط رہی ہے،
سن 2023 کے سٹی کونسل انتخابات میں ڈیموکریٹ ایرک بوچر نے تقریباً 89 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ 2025 کے عام انتخابات میں بھی ڈیموکریٹک امیدوار نے تقریباً 90 فیصد ووٹ حاصل کیے،اس پس منظر میں آزاد امیدوار حارث بھٹی کا مقابلہ ایک ایسے حلقے میں ہو رہا ہے جہاں ڈیموکریٹس کو روایتی طور پر واضح انتخابی برتری حاصل رہی ہے
یہ حلقہ ہیلز کچن، چیلسی، ویسٹ ولیج، سوہو، ہڈسن یارڈز اور ٹائمز اسکوائر کے بعض حصوں پر مشتمل ہے،یہاں رہائشی اپارٹمنٹس، مہنگی جائیدادوں، کاروباری مراکز، ریستورانوں اور ثقافتی سرگرمیوں کا امتزاج پایا جاتا ہے،2020 تا 2024 کے امریکی کمیونٹی سروے کے تخمینوں کے مطابق حلقے کی آبادی تقریباً 160,000 ہے،اس میں سفید فام غیر ہسپانوی باشندے تقریباً 57.6 فیصد، ایشیائی باشندے 14 فیصد، ہسپانوی یا لاطینی نژاد افراد 15.7 فیصد اور سیاہ فام غیر ہسپانوی باشندے تقریباً 6.5 فیصد ہیں،اس طرح سفید فام آبادی سب سے بڑا نسلی گروہ ہے، لیکن ایشیائی اور لاطینی کمیونٹیز بھی حلقے کی سماجی ساخت کا اہم حصہ ہیں
آمدنی کے لحاظ سے یہ حلقہ نیویارک سٹی کے نسبتاً خوش حال علاقوں میں شمار ہوتا ہے،دستیاب مردم شماری کے تخمینوں کے مطابق یہاں گھرانے کی اوسط سالانہ آمدنی تقریباً 228,000 ڈالر اور درمیانی سالانہ آمدنی تقریباً 132,000 ڈالر ہے، جبکہ پورے شہر میں درمیانی گھریلو آمدنی تقریباً 80,500 ڈالر ہے،تاہم، یہ خوش حالی تمام رہائشیوں میں یکساں تقسیم نہیں،حلقے میں کم آمدنی والے گھرانے، کرایوں کے بوجھ سے متاثرہ افراد اور سستی رہائش کے خواہش مند شہری بھی موجود ہیں،مقامی ہاؤسنگ ڈیٹا کے مطابق تقریباً 41.7 فیصد کرایہ دار گھرانے اپنی آمدنی کا بڑا حصہ کرائے پر خرچ کرتے ہیں،یوں یہ انتخاب ایک ایسے علاقے میں ہو رہا ہے جہاں بلند آمدنی اور مہنگی رہائش کے ساتھ معاشی عدم مساوات اور سستی رہائش کا مسئلہ بھی اہم ہے

قومی خبریں سے مزید